بینگن کی کاشت!

تعارف اور اہمیت :

برصغیر پاک و ہند ، چین اور جاپان میں بینگن کو سبز یوں میں اہم مقام حاصل ہے ۔ بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں ، جنوبی یورپ ،فلوریڈ اور لوئز یا نہ میں اس کو تجارتی پیمانہ پر کاشت کیا جا تا ہے ۔ اٹلی اور فرانس کے لوگوں کی یہ من پسند سبزی ہے۔ پاکستان میں سارا سال مارکیٹ میں میسر رہتا ہے ۔اس کا پھل دانتوں کے درد کے لیے مفید ہے۔

موزوں زمین اور آب و ہوا:

آب و ہوا:

بینگن کی بھر پور پیداوار لینے کے لیے اچھے نکاس والی زرخیز میراز مین اور گرم مرطوب آب و ہوا موزوں ہے ۔ بینگن کی فصل سردی اور کورے کو برداشت نہیں کر سکتی ۔ اس کے پتے سوکھ جاتے ہیں ۔ پھول اور پھل لگنا بند ہو جاتے ہیں حتی کہ پودا مر جا تا ہے۔

زمین کا انتخاب، تیاری اور طریقہ کاشت:

زمین کی تیاری کے لئے تین تا چار مرتبہ بل اور سہا گہ چلائیں ۔کاشت سے ایک ماہ بیشتر 10 تا12 ٹن گوبر کی کھاد ڈالیں ۔ وتر حالت میں زمین تیار کریں اور 4 تا 5 فٹ کے فاصلے پر نشان لگا کر کھیلیاں بنالیں ۔اس کے ایک جانب پودے منتقل کر یں۔ پودوں کا باہمی فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں ۔ پودے منتقل کرنے سے قبل کھیت کو پانی لگائیں ۔ بہتر ہے کہ نقلی شام کے وقت کر یں۔

شرح بیج اور پنیری کی تیاری:

شرح بیج :

بینگن کی اچھی فصل حاصل کرنے کے لیے ایک ایکڑ کے لیے تقریبا دس ہزار پودے درکار ہوتے ہیں ۔ جس کے لیے 150 گرام بیج کافی ہیں۔

نرسری تیار کرنے کا طریقہ:

پنیری کی کاشت کے لیے کھیت عام زمین سے ذرا اونچا ہو تا کہ بارش کی صورت میں زائد پانی کے نکاس کا انتظام بہتر طریقے سے ہوسکے۔ بیج کو چار یا پانچ مرلہ زمین پر بنائی گئی چھوٹی چھوٹی مربع نما کیاریوں میں 14 انچ کے فاصلہ پر لائنوں میں کاشت کر یں۔ بیج کی گہرائی آدھا انچ رکھیں ۔ بوائی سے پہلے بیج کو سفارش کردہ پھپھوندی کش زہر لگائیں۔ بوائی کے بعد بیج کو گوبر کی گلی سڑی کھاد اور بھل سے ڈھانپ دیں ۔ اس کے بعد کیاریوں پر سرکنڈے کی تہہ بچھا دیں اور آبپاشی کرتے رہیں ۔ بیج کا اگاؤ شروع ہوتو سرکنڈا ہٹادیں۔

وقتِ کاشت:

بینگن کی پہلی فصل کے لیے نرسری کی کاشت فروری اور اس کی منتقلی مارچ میں کریں۔ یہ فصل مئی سے ستمبر تک پیداوار دیتی ہے۔ دوسری فصل کے لیے نرسری جون کے آخر میں بوئی جاتی ہے اور منتقلی جولائی اور اگست میں کر یں، یہ فصل نومبر سے دسمبر تک اچھی پیداوار دیتی ہے۔ سردیوں میں اگر اس فصل کو کورے سے بچا لیا جاۓ تو فروری مارچ میں دوبارہ پیداوار لی جاسکتی ہے ۔ تیسری فصل کے لیے نرسری نومبر میں پست ٹنل کے اندر کی جاتی ہے جسے فروری میں کھیت میں منتقل کر دیا جا تا ہے ۔

جڑی بوٹیوں کا انسداد:

بینگن کی فصل کھیت میں کم و بیش سال بھر موجودرہتی ہے۔اس لیے اس میں موسم گرما و سرما کی جڑی بوٹیاں پیدا ہوسکتی ہیں جن میں اٹ سٹ، ڈیلا ، سوانکی ، مدھانہ ، چولائی ،قلفہ ،لمب گھاس ، باتھو ،جنگلی پالک، جنگلی ہالوں اور کرنڈ وغیرہ شامل ہیں ۔ نرسری کاشت کرنے سے تین ہفتے قبل پینڈی میتھالین ڈیڑھ لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے راؤنی سے پہلے سپرے کریں اور وتر آنے پر زمین تیار کر یں ۔ زمین خشک ہونے دیں اور 3 ہفتے کے بعد بینگن کی نرسری کاشت کریں لہلی اور ڈیلا کے سوا باقی تمام جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں ۔ منتقل کی جانے والی فصل کے لیے زیادہ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ منتقلی سے پہلے کھیلیوں کو پانی لگالیں اور ایک دو دن بعد ڈ وال گولڈ بحساب 800 ملی لیٹر یا پینڈی میتھالین 1200 ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ سپرے کرنے کے ایک ہفتہ بعدنرسری منتقل کر کے پانی لگا دیں۔

منظورشدہ اقسام اور آبپاشی :

منظور شدہ اقسام:

ترقی دادہ اقسام میں:

  • نرالا (لمبوترا)
  • بے مثال (لمبا)
  • دل نشییں ( گول) شامل ہیں۔

آبپاشی و گوڈی:

پہلی آبپاشی پنیری کی منتقلی کے بعد کریں۔ دوسری آبپاشی منتقلی کے تین تا چار روز بعد کر یں ۔اس کے بعد ہفتہ وار بپاشی کریں۔ موسم کی مناسبت سے وقفہ بڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے ۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے تین تا چار بار گوڈی کریں اور تنوں کے ساتھ مٹی چڑھا دیں تا کہ پودے ہوا کے زور اور پھل کے بوجھ سے گر نے سے بچ جائیں۔

کھادوں کا استعمال :

بینگن کی بیماریاں اور ان کا انسداد:

ضرر رساں کیڑے اور ان کا انسداد :

سست تیلہ:

سست تیلہ کے بالغ اور بچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوس کر نقصان پہنچاتے ہیں ۔اپنے جسم سے ایک میٹھا مادہ خارج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ قسم کی ارلی لگ جاتی ہے اور پتوں کا ضیائی تالیف کا عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔ اس کا حملہ وسط فروری سے مارچ میں شدید ہوتا ہے ۔ چھوٹے پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور پودے خاطر خواہ پیداوار بھی نہیں دیتے ۔ ہوا میں زیادہ نمی اور کم درجہ حرارت والا موسم سست تیلے کی افزائش میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے، شدید حملے کی صورت میں فصل کالی نظر آتی ہے۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیےامیڈ اکلو پر ڈ 20 ایس ایل بحساب 250 ملی لیٹر یا اسیٹا میپرڈ 20 ایس پی بحساب 125 گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔

چست تیلہ:

بچے اور بالغ دونوں ہی پتوں کا نچلی سطح سے رس چوستے ہیں۔ پتوں کے کنارے گہرے پیلے اور بعد میں سرخی مائل ہوجاتے ہیں، جو بعد میں خشک ہو کر نیچے کی جانب یا اوپر کی جانب کپ نما شکل اختیار کر جاتے ہیں اور شدید حملہ کی صورت میں پتےگرناشروع ہو جاتے ہیں او فصل جھلسی ہوئی نظر آتی ہے۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیےڈائی نوٹیفیوران 20 ایس جی بحساب 120 گرام یا ڈائی نوٹیفیوران 30 فیصد 75 ملی لیٹر یا تھائیا میتھا کزام 25ڈبلیو جی بحساب 24گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔

سفید مکھی:

سفید مکھی کا مکمل پروانہ بہت چھوٹا ،جسم کا رنگ زردی مائل اور پروانہ سفید رنگ کے پاؤڈر سے ڈھکا ہوتا ہے ۔اس لیے اس کیڑے کا رنگ سفید نظر آ تا ہے۔ بالغ اور بچے دونوں رس چوس کر پودوں کو کمزور کر دیتے ہیں ۔ رس چوسنے کے علاوہ سفید مکھی میٹھا لیس دار مادہ بھی خارج کرتی ہےجس کی وجہ سےسیاہ رنگ کی الی لگ جانے سے پودے کا حملہ شدہ حصہ سیاہ ہو جا تا ہے ۔ ضیائی تالیف کم ہونے کی وجہ سے خوراک کم بنتی ہے اور پودے کمزور ہو جاتے ہیں ۔ شدید حملہ پیداوار میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔ سفید مکھی خشک آب و ہوا اور زیادہ درجہ حرارت جیسے حالات میں زیادہ حملہ کرتی ہے جون سے اگست کے مہینوں میں سبزیوں پر کافی تعداد میں موجود ہوتی ہے۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کےلیےاسیٹا میپرڈ 20 ایس پی بحساب 125 گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔ یا فلونیکامیڈ 50 فیصد 80 گرام فی ایکڑ یا صرف بالغ مکھی کے حملے کی صورت میں کلوتھیانیڈن 20 فیصد ایس سی 300 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ نمف کے حملے کی صورت مین ساتھ بیپروفیزین 25 فیصد 600گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔

لیف مائنر :

اس کیڑے کا حملہ ٹنل میں کاشت کی صورت میں زیادہ شدت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ کیڑا پتوں کا سبز مادہ کھرچ کر کھا جا تا ہے اور پتوں پر بے ڈھنگی سفید لکیریں نظر آتی ہیں۔

تدارک: اس کے مربوط انسداد کےلیے بائی فینتھرین 10 فیصد ای سی 330-500 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

خطئے :

اس بیماری کا سبب نیماٹوڈ ہے۔ پودے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے، پتے پیلے اور پودے مرجھاۓ ہوۓ نظر آتے ہیں ۔ متاثرہ پودے کو اکھاڑ کر دیکھا جاۓ تو جڑوں پر چھوٹی چھوٹی گانٹھیں نظر آتی ہیں ۔ خطئے پودوں کی جڑوں کو زخمی کر دیتے ہیں اور دیگر بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کی منتقلی کا سبب بھی بنتے ہیں جیسے کہ مرجھاؤ اورا گلاؤ وغیرہ۔
تدارک بیماری کی علامات ظاہر ہوتے ہی کار بو فیوران بحساب 8 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔

پھل کی مکھی :

عموما زردی مائل رنگ کی ہوتی ہے ۔ مادہ مکھیاں پھل میں باریک سوراخ کر کے اس میں انڈے دیتی ہیں ۔سوراخ بعد میں بند ہو جا تا ہے ۔ان انڈوں سے سنڈیاں نکل کر اندر ہی اندر پھل کا گودا کھا جاتی ہیں۔جس کی وجہ سے پھل خراب ہو جا تا ہے اور قابلِ استعمال نہیں رہتا۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیے میلاتھیان 57 ای سی بحساب 500 ملی لیٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔ یا کلوتھیانیڈن 200 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

بینگن کے پھل اور شگوفے کا گڑوواں:

Brinjal fruit borer)) سنڈی پھل کے اندر داخل ہو کر کھاتی ہے جس سے پھل نا قابلِ استعمال ہو جا تا ہے۔ ایک سنڈی کئی پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس کے علاوہ یہ سنڈی پتوں اور کونپلوں کو بھی کھا جاتی ہے۔
تدارک روشنی کے پھندے لگا کر پروانوں کو تلف کریں۔ پھول آنے کے فورا بعد مناسب زہر کی حفاظتی سپرے کریں۔ ٹرائیکوگراما کارڈ لگائیں۔ حملہ شدہ پھل اکٹھے کر کےزمین میں دباتے رہیں ۔ایمامیکٹن بینزوئیٹ 400 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں یا فلومیکٹ 5 فیصد(ایبا میکٹن+کلوروفیوزوران) 350 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ حملہ زیادہ ہونےکی صورت ٹرائی ایزوفاس 400 ملی لیٹر+اسیٹامیپرڈ 125 گرام+ایمامیکٹن 100 ملی لیٹر فی ایکڑ ملا کر سپرے کریں۔

بینگن کا جھالر دار بگ:


بالغ اور بچے پتوں کا رس چوستے ہیں اور رس چوستے ہوئے پتوں میں زہریلا مادہ داخل کرتے ہیں ، جس سے پتے خشک ہو کر گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ حملہ شدہ پودے پہلے پیلے اور بعد میں چڑمڑ ہو جاتے ہیں، شدید حملہ شدہ پودوں سے پتے مکمل طور پر گر جاتے ہیں اور پودا مر جاتا ہے۔

تدارک مرجھائے ہوئے حملہ شدہ پودے اکھاڑ کر تلف کر دیں۔ مربوط انسداد کے لیے سفارش کردہ زہر یا کلوتھیانیڈن 200 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

بینگن کی ہڈا بھونڈی:


یہ کیڑے بالغ اور سنڈیاں دونوں پتوں کی اوپر والی سطح کو کھرچ کر کھا جاتی ہیں۔ حملہ شدہ پتوں کی رگیں باقی رہ جاتی ہیں اور پتے خشک ہو کر گر جاتے ہیں۔ حملہ شدہ پتے جالی نما ہو جاتے ہیں۔

تدارک: کار برائل 500 گرام یا لیمبڈا سائی ہیلو تھرین 2.5 فیصد ای سی بحساب 250 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

برداشت:


جب پھل تیار ہو جاۓ تو اس کی برداشت ہر پانچویں روز کرتے رہنا چاہیے ۔ پھل کو نرم حالت میں توڑ نا چا ہیے ورنہ یہ جسامت میں بڑا اور رنگت میں سفیدی مائل ہو جائے گا ۔ جس کی وجہ سے منڈی میں اسکی قیمت کم ملے گی۔