لہسن کا شمار اہم ترین سبزیات میں ہوتا ہے۔ اس کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ جسم میں کولیسٹرول کم کر کے خون کی شریانیں کھولتا ہے اور ان میں چربی کے انجماد کو روکتا ہے۔ اس میں لحمیات کے ساتھ ساتھ کیلشیم اور میگنیشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ لہسن بلڈ پریشر، فالج، تپ دق، امراض دل، کھانسی اور جلدیِ امراض کے لئے بھی مفید ہے۔ جراثیم کش ہونے کی وجہ سے جسم میں پیدا ہونے والے زہریلے مادوں کا تریاق مہیا کرتا ہے۔
ہلکی میرا ( بھل والی مٹی) اور نرم زمین اسکی کاشت کے لئے بہترین ثابت ہوتی ہے اسکے علاوہ بھاری میرا اور چکنی زمین میں بھی اسکی کاشت کی جا سکتی ہے۔لہسن موسم سرما کی فصل ہے۔ اس کی بیجائی کے وقت ٹھنڈا موسم اور چھوٹے دن درکار ہوتے ہیں اس کے علاوہ گٹھوں (بلب) کے بننے کے لئے گرم موسم اور بڑے دن موزوں ہوتے ہیں۔ نومبر دسمبر میں لہسن کے پتوں کی بڑھوتری اور جنوری سے بلب بننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔
کلراٹھی اور رتیلی زمین لہسن کی کاشت کے لئے موزوں نہیں کیونکہ اس میں نمی برقرار نہیں رہتی۔
لہسن لگانے کے لیے پہلے زمین کو لیول کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ آبپاشی کرنا آسان ہو جائے۔ زمین کی تیاری کے لیے 20-25 ٹن فی ایکڑ گلی سڑی گوبر کی کھاد بوائی سے ایک ماہ پہلے ڈال کر زمین میں اچھی طرح ملا دیں۔ ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور اسکے بعد فاسفورس اور پوٹاش ڈال کر دو سے تین دفعہ عام ہل چلا کر سہاگہ دیں۔ یاد رکھیں زمین جتنی نرم اور بُھربُھری تیار ہو گی اتنی ہی اچھی پیداوار ملے گی۔
لہسن کی پوتھیوں کو عام طور پر کھیلیوں پر کاشت کیا جاتا ہے۔جبکہ ہموار زمین اور بیڈز بنا کر بھی کاشت کی جا سکتی ہے۔ پوتھی کوز میں دو تین سینٹی میٹر یعنی ایک انچ گہرا اس طرح دبائیں کہ جڑوں والا حصہ زمین میں اور نوکدار حصہ اوپر کی طرف ہو۔ بوائی سے پہلے پوتھیوں کو سفارش کردپھپھوند کش زہر لگائیں۔
اچھی پیداوار کے لئے فی ایکڑ پودوں کی تعداد 80000-100000 ہونا ضروری ہے
لہسن کی کا شت کر نے کے لئے ٹریکٹر کی مدد سے چلنے والا گارلک پلانٹر متعارف کروایا ہے جو کہ بروقت سات لائنوں میں کاشت کرتا ہے۔ اس پلانٹر کی مدد سے نہ صرف پودوں اور قطاروں کے درمیانی فاصلے کو برقرار رکھا جا سکتا ہے بلکہ وسیع رقبے پر لہسن کی بروقت کاشت بھی ممکن ہے۔
گارلک پلانٹر
یہ بیماری Cladosporium پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔اس بیماری کا حملہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ بیماری سب سے پہلے لہسن کے پتوں کے سِروں سے شروع ہوتی ہے اور پتے اوپر سے سُوکھنے لگتے ہیں۔ اس بیماری سے لہسن کی گٹھیوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور پیداوار کم ہوتی ہے۔
سفید جھلساؤ کی علامات
یہ بیماری Stemphylium vesicarium پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ یہ بیماری فصل پر عمر کے دورانیہ کے ہر حصہ میں حملہ آور ہو سکتی ہے لیکن مرطوب موسم زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔نمدار موسم میں اس بیماری کے جراثیم پتوں اور تنوں پر بھورے رنگ کے دھبوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں بعد میں انکا رنگ سرخی مائل سا ہو جاتا ہےاور متاثرہ پتے اور تنے گلنے سڑنے لگتے ہیں۔بیماری کی شدت کی صورت میں پودا مر جاتا ہے۔
پتوں اور تنے کے گلاؤ کی علامات
پتوں پر ہلکے جامنی رنگ کے
کناروں والے دھبے پڑ جاتے ہیں۔بیج پیدا کرنے والی ڈنڈی گل سڑ جاتی ہےاور لہسن پر
سیاہ دھبے پڑھ جاتے ہیں۔ روئیں دار پھپھوندی کے شدید حملہ کی صورت میں اس بیماری
کے حملے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ پتوں کے کنارے سرخی مائل رنگت میں تبدیل ہو
جاتے ہیں۔ جیسے جیسے دھبوں کا سائز بڑھتا ہے انکا رنگ ارغوانی ہونا شروع
ہو جاتا ہے۔ یہ بیماری متاثرہ بیج اور پودوں کی باقیات سے پھیلتی ہے۔
22-20 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور
90 فیصد سےزیادہ نمی اور بارشیں اس بیماری کا سبب بنتی ہیں۔
ارغوانی جھلساؤ کی علامات
یہ بیماری Puccinia پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ پتوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں طرف نارنگی رنگ کے ابھرے ہوئے دھبوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ جو بعد میں پھٹ جاتے ہیں اور نارنگی رنگ کا سفوف نما تخم اردگرد پودوں پر گرتا ہے۔ اگر مسلسل اوس اور درجہ حرارت سے سینٹی گریڈ ہو تو بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے، پتے چُڑ مُڑ ہو کر سوکھ جاتے ہیں اور پیداوار میں کافی حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔
لہسن کی کنگی کی علامات
یہ بیماری پتوں اور بیج والے تنوں پر سیاہی مائل روئیں دار دھبوں
میں ظاہر ہوتی ہے۔اگرموسم سرد، ابرآلود اور ساتھ ہلکی بارش ہو تو متاثرہ پوداجھلساؤ
کیطرح مرجھاؤ کا منظر پیش کرتا ہے اور پیداوار میں ٪75-60 تک کمی واقع ہوجاتی ہے۔
نرسری سے منتقل شدہ فصل پر روئیں دار پھپھوندی
کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔پرانے پتوں کی نوکیں پیلی ہو کر گرنا شروع کر دیتی ہیں۔
شدید حملے کی صورت میں تمام پتے
سوکھ جاتے ہیں۔ اپنا تناؤ کھو کر گر جاتے ہیں۔اور پودے مرجھا جاتے ہیں
سائموکسنل + مینکوزیب 72 فیصد 600 گرام فی لیٹر یا ایزاکسی سٹروبن + کلوروتھلونل 56 فیصد 350 ملی لیٹر فی ایکڑ یا پروپی نیب 70 فیصد 600 گرام فی ایکڑ یا پائراکلوسٹروبن + میٹی رام 60 فیصد 600 گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔
روئی دار پھپھوندی کی علامات
بالغ کیڑے لمبوترے اور کالے یا بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کی لمبائی
تقریباً ایک ملی میٹر ہوتی ہے۔ یہ کیڑا پتوں پر حرکت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بالغ اور بچے دونوں نقصان پہنچاتے ہیں۔ حملہ شدہ پودے کے پتے چُڑ مُڑ
ہو جاتے ہیں اور بعد میں خُشک ہو کر گِر جاتے ہیں۔ حملہ شُدہ پودے پوتھیاں نہیں بناتے۔
تھرپس
لہسن کی برداشت بذریعہ مشین بھی کی جاتی ہے۔ یہ مشین لہسن کے گٹھیوں کو زمین سے پتوں سمیت اُکھاڑتی ہے اور اس کے ساتھ لگی ہوئی مٹی کو بھی جھاڑتی ہے۔ جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ لہسن کی بروقت برداشت سے اس کی گٹھیوں اور پوتھیوں کو نقصان کے خدشے سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔
فصل کی برداشت اپریل کے دوسرے ہفتہ سے لیکرمئی کے آ خر تک کی جاتی ہے۔جب پتے خشک اور بھورے رنگ کے ہو جائیں تو آبپاشی روک دیں کیونکہ یہ فصل کی تیاری کی علامت ہے۔ برداشت سے ایک ہفتہ پہلے ہلکا سا پانی لگائیں اور وتر حالت میں کھرپوں کی مدد سےگٹھوں کو نکال لیں۔ لہسن کو خشک کرنے کے لیے تین سے چار دن کے لیے کسی سایہ دار جگہ پر پھیلا دیں اور جب گٹھوں سے چھلکے آسانی سے علیحدہ ہونے لگیں تو گٹھوں کو باندھ کر خشک اور ہوا دار جگہ پر سٹور کر لیں۔