اد رک کی تاثیر گرم اور خشک ہوتی ہے۔ادرک میں آکسیجن ہوتی ہے اسی وجہ سے یہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ خون کو بھی صاف کرتا ہے۔ ادرک دمہ، کالی کھانسی، اور پھیپھڑوں کی ٹی بی کےلیے مفید ہے۔ اد رک حافظہ کو بڑھاتا ہے دل جگر اور اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتا ہے۔ بہت سے جلدی امراض اور جوڑوں کے ناکارہ ذرات کو ختم کرتا ہے۔ تازہ اد رک میں 80.9 فیصد پانی ، 2.3 فیصد پروٹین اور 0.9 فیصد کاربوہایڈریٹ ہوتے ہیں۔
گرم اور مرطوب آب وہوا میں بہتر افزا ئش کرتا ہے۔پنجاب کا گرم اور خشک موسم ادرک کےلیے ساز گار نہیں ہے۔
میدانی علاقوں میں اد رک فروری مارچ اور پہا ڑی علاقوں میں مئی کے آخر تک کاشت کی جا سکتی ہے تاہم گرم اور خشک
لو چلنے سے پہلے اد رک کاشت کر لینا چاہیے۔
اد رک میرا اور درمیانی زمین میں بہتر افزائش کرتا ہے۔ اچھے نکاس والی زمین میں اس کی بہتر فصل پیدا ہو سکتی ہے۔
کلراٹھی، چکنی اور ریتلی زمین اس کےلیے نامناسب ہے۔ نہروں اور دریاوں کے ساتھ ساتھ ایسی ٹھنڈی زمین جہاں
سٹرابیری کاشت کی جاتی ہے وہاں ہلکی کوالٹی کا ادرک بھی اگایا جا سکتا ہے
زمین کی تیاری کےلیے دو تین دفعہ گہرا ہل چلا کر زمین کو نرم کر لیا جائے اور پھر زمین کو کھلا چوڑ دیا جائے۔
پندرہ بیس دن کے بعد راؤنی کرکے دو تین ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو اچھی طرح بھربھرا کر لیا جائے، ڈھیلے وغیرہ
ختم کرکے زمین کو اچھی طرح ہموار کر لینا چاہیئے۔
ایک ایکڑ کےلیے 10 تا 15 من گھٹیاں کافی ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ ہر گھٹی میں دو تین آنکھیں ہوں۔
اد رک کے ان دھلے اور مٹی لگے بیج کا انتخاب کرکے مارچ کے دوران کم از کم دو آنکھوں والے 25 تا 30 گرام کے ٹکرے ہفتہ دس دن تک مرطوب ریت میں دبائیں۔ جب اس کی شاخیں تھوڑی تھوڑی پھوٹ آئیں تو کھیت میں منتقل کریں۔ تھوڑے تھوڑے پھوٹے ہوے ٹکرے نو انچ کے فاصلہ پر ڈیڑھ فٹ کی لائنوں میں نصف انچ گہرائ پر کاشت کر دے جایئں تو ایک ایکڑ میں کم ازکم 15 من بیج استعمال ہوتا ہے۔
اد رک کی فصل کےلیے 1 بیگ ڈی اے پی، 2 بیگ امونیم سلفیٹ ، 50 کلوگرام پوٹاشیم سلفیٹ اور 8-16 کلو ہیومک ایسڈ کی سفارش کی جاتی ہے۔ پوٹاش ،فاسفورس اور ہیومک ایسڈ کی ساری مقدار بجائی سے پہلے زمین کی تیاری کے وقت زمین میں ڈال دیں اور امونیم سلفیٹ کی آدھی مقدار اگاو مکمل ہونے کے بعد اور باقی آدھی مقدار برسات کا موسم شروع ہونے پر 2 سے 3 اقساط میں ڈالیں۔ اسی طرح اگست کا مہینہ شروع ہونے سے لے کر دسمبر میں فصل کی برداشت تک ہر سات دن کے بعد 20-20-20 -N:P:K فی کلو فی 120 لیٹر پانی کے حساب سے سپرے کریں۔
نوٹ: مصنوعی غذائی اجزا یعنی کیمیائی کھادیں چھٹے کی بجائے فولیئر کے ذریعے دی جائیں۔
یہ ادرک کی سب سے خطر ناک بیماری ہے اور اس کی علامات جولائی سے اگست تک دیکھی جا سکتی ہیں۔ متاثرہ پودوں کے پتوں کے کنارے پیچھے کی طرف مُڑ جاتے ہیں شدید حملے کی صورت میں پودے مرجھا کر مر جاتے ہیں۔
اس کے تدارک کےلیے صحت مند بیج کا استعمال کریں اور حملہ ںطر آتے ہی کاپر آکسی کلورائیڈ+کاسوگا مائیسین 47 فیصد 500 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
اس بیماری کے حملے کی وجہ سے پتے پیلے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری نیچے والے پتوں سے شروع ہو کر اوپر والے پتوں کی طرف جاتی ہے۔ متاثرہ پودے کی جڑیں خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور پودا کھینچنے سے آسانی سے نکل جاتا ہے۔
اس کے تدارک کےلیے تھائیوفینیٹ میتھائیل 800 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
یہ بیماری پودوں میں پہلے چھوٹے چھوٹے دھبوں میں ظاہر ہوتی ہے اور آہتہ آہستہ پھیلتی ہے۔ متاثرہ پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہےاور پرانے پتے سوکھ جاتے ہیں۔ ڈرائی روٹ سے متاثرہ پودے کی جڑیں سافٹ روٹ کے برعکس ہلکی کھینچنےسے نہیں نکلتیں۔
اس کے تدارک کےلیے تھائیوفینیٹ میتھائیل 800 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
اس بیماری سے بیضوی شکل کے دھبے چھوٹے پتوں پر نمودار ہو تے ہیں۔ دھبوں کے اندر گہرے بھورے حاشیے ہو تے ہیں ،چھوٹے دھبوں کی جگہ بعد میں بڑھ جاتی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بڑے دھبوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں پورے پتے سوکھ جاتے ہیں۔
کاپر آکسی کلورائیڈ+کاسوگا مائیسین 47 فیصد 500 گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔
رائزوم فلائی یا گھٹیوں کی مکھی ادرک کو سب سے زیادہ نقصان پینچانے والا کیڑا ہے۔مکھی کے انڈوں سے نکلنے والے میگیٹس ادرک کی گٹھلیوں کو گلانے کا باعث بنتے ہیں۔جو کہ قابل استعمال نہیں رہتی۔ادرک کے پتے بھی پیلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کلورپائریفاس 40 فیصد 2 لیٹر فی ایکڑ فلڈ کریں۔
تنے کی سنڈی یا شوٹ بورر بھی ادرک کو نقصان پہنچانے والا اہم کیڑا ہے۔سنڈی کا لاروا ادرک کے تنے میں سوراخ کر کے خوراک حاصل کرتا ہے۔درمیانی ساخ پیلاہٹ کا شکار ہو کر خشک ہو جاتی ہے۔سوراخ سے فضلہ باہر نظر آتا ہے۔اسکا لاروا ہلکے بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔
کلورپائریفاس 40 فیصد 2 لیٹر فی ایکڑ فلڈ کریں۔
عام طور پر فصل دسمبر جنوری میں تیار ہو جاتی ہے ، تیار ہونے پر اس کے پتے زرد اور تنے خشک ہو جاتے ہیں اس کے بعد گھٹیاں اکھاڑ لی جائیں۔ گھٹیاں پانی سے دھوکر اور ہاتھوں سے مل کر مٹی علیحیدہ کرکے صاف کرلیں ۔