آڑو کا پیداواری منصوبہ



موزوں زمین اور آب وہوا:

آڑو مختلف قسم کی زمینوں میں کامیابی سے کاشت کیا جاتا ہے۔ تاہم ہلکی یا بھاری میرا زمین جس میں پانی کا مناسب نکاس ہو موزوں رہتی ہے۔ آڑو ریتلی اور ہلکی میرا زمینوں کو نہایت پسند کرتا ہے۔ آڑو کی کاشت کے لئے سرد آب و ہوا مناسب رہتی ہے۔ بالخصوص سردیوں میں کم درجہ حرارت اس کی خوابیدگی کو ختم کرنے کے لئے بہت اہم ہے۔آڑو کے پودوں کے لیے زیادہ نمی والا موسم موزوں نہیں رہتا۔ آڑو کو 5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کے تقریباً 200 سے 1000 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اچھے ذائقے اور بہترین کوالٹی کے پھل بنانے کے لیے پودے کو 27 تا 30 ڈگری سینٹی گریڈ کا ہلکا گرم درجہ حرارت چاہیے ہوتا ہے۔


موزوں علاقے:

پاکستان میں آڑو خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور پنجاب کے پوٹھوار ریجن میں کاشت کیاجاتا ہے۔ ان میں بالخصوص پشاور، سوات، مالاکنڈ ، کالات، پاراچنار، چترال، ہزارہ، کوئٹہ، زیارت، پشین، مستُنگ، سکردو، ہُنزہ اور مری کے علاقے شامل ہیں۔

نوٹ: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آڑو سر د علاقوں کا پھل ہے مگر چند ایک ورائیٹیز ایسی سامنے آچکی ہیں جو کہ پنجاب کے گرم علاقوں میں بھی کامیابی سے کاشت ہو رہی ہیں۔ پنجاب کی آب و ہوا میں لگے ہوئے آڑو کا پھل سوات کے پھل سے
تقریبا 1.5 سے 2 مہینے پہلے پک کر تیار ہوجاتا ہے۔اور اگیتا ہونے کی وجہ سے منڈی میں اسکا ریٹ بہت اچھا ملتا ہے۔

وقت کاشت:

پودے لگانے کا بہترین موسم وسط جنوری تا فروری کا پہلا ہفتہ ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو فروری کے آخر تک پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ آڑو کا پودا ہر سال اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے اور موسم بہار میں نئے پتے نکال لیتا ہے۔ پودا لگانے کے
15-10 دن بعد پتے نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے جنوری کے موسم میں جب کورا پڑھ رہا ہو تو پودے لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔

پودے لگانے کا طریقہ:

گڑھوں میں تیار شدہ جگہ پر پودے کی گاچی یا اُس کی جڑوں کے تناسب سے ایک چھوٹا گڑھا بنا کر پودے کو زمین میں اس انداز سے رکھا جائے کہ اس کا تنا بالکل سیدھا ہو اور پودالگانے کے بعد پودے کے پیوند کا جوڑ یقینی طور پر باہر رہے پیوند کے جوڑ کو باہر رکھتے ہوئے تنے کے اردگر داچھی طرح مٹی چڑھادی جاۓ اور مناسب دور بنا کر آبپاشی کر دی جاۓ ۔ دور بناتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھیں کہ 3 سے 4 انچ گہرائی تک آبپاشی کرنے سے بھی پانی کسی طرح پیوند کے جوڑ کو نہ لگے۔ یاد رہے کہ اگر ہر آبپاشی کے وقت پانی پیوند کے جوڑ کو براہ راست لگتا ر ہے تواس سے پودے پر مختلف بیماریاں حملہ آور ہوسکتی ہیں۔ پودا لگانے کے بعد اس کے اطراف کی مٹی کو اچھی طرح دبا د میں اور آبپاشی کے لئے مناسب دور بنانے کے فوراً بعد پانی لگائیں۔ علاوہ ازیں پودے کے گرد مائیکرو کیچمنٹ (Microcatchment ) بنا کر بارشی پانی سے بھر پور فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ یوں بارش کا پانی کھیت سے باہر جانے کی بجاۓ ایسے مقام پر زمین کے اندر ذخیرہ ہو جاتا ہے جہاں جڑوں کی رسائی ہوتی ہے اور پو دا اس پانی کو با آسانی استعمال کر سکتا ہے۔ اس سے آبپاشی کے سالانہ اخراجات میں 40 فیصد تک بچت کی جاسکتی ہے۔

پودے سے پودے اور قطار سے قطار کا فاصلہ:

پودے سے پودے اور قطار سے قطار کا فاصلہ 15 فٹ رکھیں۔ اس طرح فی ایکڑ پودوں کی تعداد 200 ہوگی۔

آبپاشی:

پھلدار پودوں کے لیے مکمل بارانی کیفیت موزوں نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بارشیں انتہائی موزوں نظام الاوقات کے مطابق نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات بارشوں کے درمیان وقفہ اتنا طویل ہو جاتاہے کہ لگا تار خشکی اور گرمی کی شدت کی وجہ سے پودے مرنا شروع ہو جاتے ہیں لہذا بارشوں کے پانی پر ہی انحصار نہ کیا جائے بلکہ اس طرح کی صورتحال میں پانی کا یقینی متبادل انتظام بھی ہونا چاہیے۔ پھول نکلنے اور پھل بنتے وقت پانی بند رکھیں۔ جب تک پھل رہے پانی با قاعدگی سے دیں۔ نیاپودالگانے کے بعد اس کو پانی اور خوراک وغیرہ پودے کے تنے سے چاروں طرف تقریبا ایک سے ڈیڑھ فٹ دور سے شروع کر کے اڑھائی سے تین فٹ بیرونی اطراف تک دیں۔ پودوں کی نفع آور عمر شروع ہونے پر پانی اور خوراک پودے کے تنے سے تقریبا 2 سے 3 فٹ دور سے شروع کر کے ہر پودے کی چھتری کی بیرونی یا مزید 6سے 9 انچ باہرتک کر دیں۔ گرم اور خشک موسم میں 10-15 دن کے وقفے سے پانی لگائیں۔ پھل کی بڑھوتری کے مرحلے میں پانی کی کمی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

کھادوں کا استعمال:

آڑو کے پودوں کے لیے دیسی کھاد جب بھی استعمال کریں اچھی طرح گلی سڑی ہونی چاہیے کیونکہ کچی دیسی کھاد کسی طرح بھی پودوں کو فائدہ نہیں دے گی بلکہ اس کی وجہ سے دیمک بہت زیادہ ہو جائے گی جس کا انسداد کرنا ضروری ہے۔ دیمک کے بہتر انسداد کے لیے کاربو فیوران 3 فیصد 100 گرام فی پودے کی کینوپی کے 2فت اندر اور 1فٹ باہر گوڈی کر کے مکس کریں۔
پھلوں کی کامیاب اور منافع بخش پیداوار کے لئے انکی متوازن خوراک کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔کیونکہ کسی بھی غذائی عناصر کی کمی پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔پودوں کی مناسب صحت کے لئے متوازن کھادوں کا استعمال ضروری ہے۔ کھادوں کی مقدار کا تعین زمین کی حالت اور پودوں کی عمر کے حساب سے کرنا چاہیے۔ زمین کی صحت کا تجزیہ متوازن اور مناسب خوراک کے فیصلے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ لہذا پیداوری لاگت میں کمی اور درست فیصلہ سازی کے لئے زمین کی صحت کا تجزیہ لازمی کروائیں۔
گوبر کی گلی سڑی کھاد، فاسفورس اور پوٹاش والی کھادوں کی مکمل قسط دسمبر میں ڈال دیں۔ البتہ نائٹروجنی کھاد کو 2 حصوں میں تقسیم کر لیں۔آدھی کھاد جنوری میں شاخ تراشی کے فورا بعد ڈال دیں اور آدھی قسط مارچ میں اس وقت ڈالیں جب پودا پھل پر آجائے۔ زیادہ پی ایچ والی زمینوں میں اجزائے صغیرہ کی کمی زیادہ نظر آتی ہے۔ لہذا پھل جب مٹر کے دانے کے سائز کا بنے تو ملٹی مائیکرونیوٹرینٹس 10 فیصد بلحاظ 250 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی کا اسپرے بہترین نتائج دیتا ہے۔

نوٹ: پھل کی پکائی اور ذائقے کی بہتری کے لیے پوٹاش کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔


کھادوں کے استعمال کی سفارشات:

اوپر دئیے گئے خوراکی اجزا حاصل کرنے کے لئے درج ذیل کھادیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔


پودوں کی کانٹ چھانٹ:

بہتر پیداوار حاصل کرنے کہ لیے ہر سال پودوں کی مناسب شاخ تراشی ضروری ہے۔ اوپر کی رُخ بڑھنے والی شاخوں کو زیادہ کاٹنا چاہیے، جبکہ اطراف سےبڑھنےوالی شاخوں کو ذرا کم اور ضرورت کے مطابق کاٹنا چاہیے کیونکہ ان پر پھل آنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

پھل لینے کے لئے پودے کی عمر:

عام طور پر آڑو کا ایک سال کا پودا کھیت میں منتقل کیا جاتا ہے۔ منتقلی کے تیسرے سال آڑو کا پودا پھل دینا شروع کر دیتا ہے۔اور چوتھے سال سے بھر پور پیداوار دینا شروع کر دیتا ہے۔ آڑو کا ایک سال سے زائد عمر کا پودا کھیت میں منتقل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

پھلوں کی مناسب تعداد کا تعین:

آڑو کا پودا گچھو‏ں کی شکل میں بہت زیادہ پھل لیتا ہے۔او ر سارا پھل صحت مند حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہذا ضروری ہوتا کہ پھلوں کی تعداد کو کم کیا جاے تاکہ صحت مند اور مناسب پھل حاصل ہو۔اگر یہ کام نا کیا جاے تو پھل کا سائز چھوٹا رہتا ہے اور اسکی کوالٹی بھی اچھی نہیں ہوتی۔او ر پودے کی اگلے سال پھل دینے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔
یکم مارچ کے آگے پیچھے جب پودے پر پھل واضع ہو جاے تو زائد پھل اتا ر دینا چاہیے۔شاخ پر لگے پھل کو اتارنے سے پہلے شاخ کو پکڑ کر ہلکا سا ہلائیں تاکہ کمزور پھل نیچے گر جاے۔شاخ پر موجود کو اس طرح اتاریں کہ ایک پھل سے دوسرے پھل کا درمیانی فاصلہ 3-4 انچ ہو جاے۔اسطرح آپ کو صحت مند اور معیاری پھل حاصل ہو گا۔

پھل کے پکنے کا وقت:

پنجاب کے موسم میں آڑو کی ارلی گرینڈ ورائیٹی 15 اپریل تک پک کر تیار ہو جاتی ہے۔جبکہ فلوریڈا کنگ کا پھل 30 اپریل تک تیار ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کے اپریل کے مہینے پنجاب کے علاوہ اور کوئی آڑو کا پھل مارکیٹ میں نہیں آتا۔سواتی آڑو کا سائز بادام جتنا ہوتا ہے۔ لہذا مارکیٹ میں ریٹ اچھا مل جاتا ہے۔

فی پودا پھل کی مقدار:

اگر اچھی دیکھ بھال کی گئی ہو تو آڑو کا درمیانی عمر کا پودا 2-3 من تک پیداوار دے دیتا ہے۔ جس سے فی ایکڑ 350-400 من تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔




نقصان دہ کیڑے اور ان کا انسداد



کالا تیلا

کالا تیلا آڑو کے درخت پہ ہر سال جون کے مہینہ میں حملہ کرتا ہے اور یہ کیڑا پودوں میں پتا مروڑ وائرس پھیلانے کا زمہ دار ہوتا ہے۔

انسداد کے لئے کلوتھیانیڈن 20 فیصد 100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی استعمال کریں۔


پھل کی مکھی

یہ مکھی پھل میں سوراخ کر کے اندر نرم گودے میں انڈے دیتی ہے اور اس کا لاروا انڈے سے نکلنے کے بعد مکھی بننے تک پھل سے ہی خوراک حاصل کرتا ہے۔ پھل کی سطح پر بھورے رنگ کے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں اور پھل پوری طرح پکنے سے پہلے ہی گر جاتا ہے۔ پھل اندر سے گل سڑھ جاتا ہے اور استعمال کے قابل نہیں رہتا۔

انسداد کے لئے کلوتھیانیڈن 20 فیصد 100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی استعمال کریں۔ فروٹ فلائی کے کنٹرول کے لئے جنسی پھندے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔


فروٹ لیف رولر

اسکا حملہ آڑو کے پتوں پر زیادہ تر ہوتا ہے۔ حملے کی صورت میں پتوں پر بے ترتیب انداز میں سوراخ نظر آتے ہیں۔ پتو مٹرنا شروع ہو جاتا ہے۔جس سے خوراک بنانے کا عمل متائثر ہوتا ہے۔

انسداد کے لئے لیمبڈا سائیہلوتھرین 2.5 فیصد 100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی استعمال کریں۔



آڑو کی بیماریاں اور انکا علاج



بیماری پراڈکٹ مقدار طریقہ استعمال براون راٹ گموسسز یا گوند کا بہنا فروٹ اینڈ راٹ بیکٹئریل سپاٹ
براون راٹ،آڑو کا سکیب ایزالسی سٹروبن + کلوروتھیلونل 56 فیصد 150 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی حملہ نظر آتے ہی سپرے کریں
ٹرائی فلوکسی سٹروبن+ٹیباکونازول 75 فیصد 45 گرام فی 100 لیٹر پانی حملہ نظر آتے ہی سپرے کریں
ایزاکسی سٹروبن+ٹیباکونازول 50 فیصد 65 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی بیماری نظر آنے کی صورت میں
کاپر آکسی کلورائیڈ یا کاپر ہائیڈروآکسائیڈ 500 گرام فی 100 لیٹر پانی بیماری نظر آنے کی صورت میں
گموسسز یا گوند کا بہنا،پاوڈری ملڈیو ایزاکسی سٹروبن+ڈائی فیناکونازول 32.5 فیصد 100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی حملہ نظر آتے ہی سپرے کریں
گموسسز یا گوند کا بہنا ڈائی میتھا مورف + مینکو زیب 1 کلو گرام فی ایکڑ فلڈ کریں
فروٹ اینڈ راٹ میٹالکسل+مینکوزیب 72 فیصد+
(کیلشیم والی کھادوں کا استعمال)
250 گرام فی 100 لیٹر پانی اسپرے کریں
بیکٹئریل سپاٹ کارنر 47 فیصد
(کاسوگامائیسین + کاپر آکسی کلورائیڈ)
125 گرام فی 100 لیٹر پانی حملہ نظر آنے پر


نوٹ:

پھل اتارنے کے بعد ضرورت محسوس ہونے پر پودوں کی کانٹ چھانٹ کریں اور کاسوگامائیسین + کاپر آکسی کلورائیڈ کا حفاظتی سپرے لازمی کریں۔

آڑو کی برداشت

آڑو کی برداشت کا موزوں وقت مئی سے شروع ہوتا ہے اور ستمبرکے آ خر تک کی جاتا ہے۔ پھل کا رنگ جب پوری طرح تبدیل ہو جائے تب ہی اس کی برداشت کرنی چاہیے۔ برداشت کے بعد پھلوں کو احتیاط سے مناسب ڈبوں میں ڈال کر پیک کر دینا چاہیے۔ ایک ڈبے میں ایک ہی تہہ لگانی چاہیے تا کہ پھل خراب نہ ہوں۔

پھل پکنے کے بعد برداشت میں دیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ پھل کی کوالٹی خراب ہو جاتی ہے۔







گروٹیک سروسز

زراعت سے متعلق ٹیکنالوجی کمپنی ہے ، جو پاکستان کے زراعت کے شعبے میں محرومیوں اور عدم استحکام کو ختم کرنے کے لیے جدید حل مہیا کرتی ہے۔ ہمارا مقصد پاکستان میں ہر کسان کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی زرعی اراضی سے موجودہ خرچ سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکے اور اس کے نتیجے میں اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

گروٹیک پاکستان میں مندرجہ ذیل خدمات پیش کر رہا ہے:

  • مٹی کا تجزیہ
  • پودوں کی صحت کا تجزیہ
  • کھادوں کی سفارشات
  • پودوں میں پانی کی کمی کا تجزیہ
  • موسم کی صورتحال
  • ایگری کامرس

یہ تمام سہولیات آپ گھر بیٹھے اپنے موبائل پر حاصل کریں

www.growtechsol.com
www.facebook.com/growtechsol
آپ ہمیں 3234980-0321 پر کال بھی کر سکتے ہیں۔