مندرجہ ذیل سفارشات درمیانے درجے کی زمینوں کے لیے ہیں۔ آلو کی بہتر پیداوار کیلئے بوری یوریا بوری ڈی اے پی اور بوری ایس او پی فی ایکڑ استعمال کریں۔ ڈیڑھ بوری یوریا مکمل ڈی اے پی اور مکمل ایس او پی کا استعمال زمین کی تیاری کے وقت کریں۔ بوری یوریا اگاؤ کے دن بعد اور بوری یوریا کا استعمال اگاؤ کے دن بعد کریں۔ پہلی آبپاشی پر کلو گرام فیصد زنک سلفیٹ کا استعمال کریں۔ اگر گوبر کی کھاد نہیں ڈالتے تو کلو گرام فیرس سلفیٹ، کلو گرام مینگانیز سلفیٹ اور کلو گرام بورک ایسڈ فی ایکڑ استعمال کریں۔ عصرِ حاضر میں نامیاتی کھادوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لٰہذا اگر زمین کی تیاری میں سبز کھاد، گوبر کی کھاد اور دیگر قدرتی اور نامیاتی کھادوں کے استعمال کو فروغ دیا جائے کیونکہ کیمیائی کھاددں کے مقابلے میں نامیاتی کھادوں کا زمین کی صحت اور کیمیائی خصوصیات پر کوئی مضر اثر نہیں اور زمین سے فصل کے لیے دستیاب غذائی اجزأ کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔
| گھاس نما جڑی بوٹیاں | چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں |
|---|---|
| ڈیلا، سوانکی، مدھانہ گھاس ،کھبل، جنگلی سوانک | باتھو، کرنڈ، اٹ سٹ، گاجر بوٹی، شاہترہ، چولائی، جنگلی پالک، پیازی، دھودک، ہزار دانی |
1-سپرے کے بعد جڑی بوٹیوں کو چارہ کے طور پر ہرگز استعمال نہ کریں۔۔ پانی کی فی ایکڑ مقدار 120 لیٹر رکھیں۔
سپرے کے لئے صاف پانی کا استعمال کریں۔
2-تیز ہوا، بارش یا دھند میں سپرے نہ کریں۔
3-معیاری سپرے کے لئے (فلیٹ فین یا ٹی جیٹ) نوزل کا استعمال کریں
بلیک لیگ بیکٹیریا سے پھیلنے والی آلو کی بیماری ہے۔
بیماری کے حملے کے نتیجے میں پتوں کا جھلساؤ ، پیداوار میں کمی اور پودے کا مرجھانا شامل ہے
آلو کے تنے کانیچے اور زیرزمین والا حصہ سیاہ ہوجاتا ہے۔
بیماری کا حملہ زیادہ تر نشوونما کی آخری حالتوں میں ہوتا ہے۔
حملہ کی شدت زیادہ ہونے کی صورت میں آلو بھی متاثر ہوتے ہیں۔
آلو گل سٹر جاتے ہیں اور گلنے کی بو پیدا ہوتی ہے۔
یہ بیماری بیج سے منتقل ہوتی ہے ۔