سورج مکھی کا پیداواری منصوبہ !

اہمیت:


سورج مکھی ایک اہم تیلدارفصل ہے جس کے بیج میں اچھی کوالٹی کا تقریباً 40 تا45 فیصد خوردنی تیل ہوتا ہے ۔اس کے تیل میں انسانی صحت کے لئے ضروری لحمیات بھی پاۓ جاتے ہیں ۔یہ ایک چھوٹے دورانیہ کی فصل ہےاور تقریباً 100 تا125 دن میں تیار ہوجاتی ہے اسی لیے اسے بڑی فصلوں کے درمیانی عرصہ میں با آسانی کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ان خوبیوں کی بنا پر سورج مکھی خوردنی تیل کی ملکی پیداوار بڑھانے میں اہم کردارادا کر سکتی ہے ۔

زمین کا اِنتخاب اور تیاری :


سورج مکھی کی بہتر پیداوار کے لئے میرا اور بھاری میرا ز مین موزوں رہتی ہے۔اسے کلراٹھی، ریتلی اور سیم و تھور والی زمین میں کاشت نہیں کرنا چاہیے ۔ اس فصل کی جڑیں اکثر 3 فُٹ گہرائی تک جاتی ہیں اس لیے زمین کی اچھی تیاری بہت ضروری ہے۔ فصل کے اچھے اُگاؤ کے لئے زمین میں راجہ ہل یاڈ سک ہل گہرائی سے چلا کر اسے کاشت کریں۔ دھان کی کاشت کے بعد یہ عمل زیر زمین سخت تہہ کو ختم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اسکے علاوہ کھیت میں پانی کی بچت اور یکساں دستیابی کے لیے لیزر لیولنگ بھی ضروری ہے۔

سورج مکھی کی سفارش کردہ ہائبرڈ اقسام :

مختلف علاقوں میں سورج مکھی کا موزوں وقتِ کاشت :

طریقۂ کاشت:

آبپاشی:

آبپاشی کے متعلق اہم سفارشات:


  • پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں فصل کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے آبپاشی کریں۔
  • فصل کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے آبپاشی کی تعداد کم یا زیادہ کی جاسکتی ہے۔
  • گرمی زیادہ ہونے کی صورت میں بہاریہ فصل میں پھول نکلتے وقت آبپاشی کا وقفہ کم کر دیں، تا کہ زیرگی کا عمل متاثر نہ ہو۔
  • بیج بنتے وقت فصل کو سوکا ہرگز نہ لگنے دیں، تا کہ بیج کی جسامت اور وزن میں کمی نہ ہو۔

چھدرائی:


جب پودا چار سے پانچ پتے نکال لے تو کمزور اور فالتو پودے نکال دیں اور پودوں کا باہمی فاصلہ 9انچ تک رکھیں۔
گوڈی اور مٹی چڑھانا:
فصل میں گوڈی کرنے سے جڑی بوٹیوں کی تلفی اور زمین کی سخت تہہ کو نرم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ فصل کو پہلا پانی لگانے سے قبل ایک مرتبہ گوڈی ضرور کر لیں۔ جب پودے ایک فٹ اونچے ہو جائیں تو ان کی جڑوں پر مٹی چڑھا دیں ، اس سے پودے کے تنے کو سہارا مل جاتا ہے اور فصل گرنے سے محفوظ رہتی ہے۔

جڑی بوٹیوں کا تدارک:


  • سورج مکھی کی فصل میں بجائی کے بعد پہلے آٹھ ہفتے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اس کے بعد فصل کا قد اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود بخود ہی جڑی بوٹیوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔ بوائی کے 12گھنٹے بعد تر وتر حالت میں پینڈی میتھالین بحساب 800ملی لیٹر 120 لیٹر پانی میں فی ایکڑ سپرے کرنا موثر ثابت ہوتا ہے۔
  • جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے گوڈی کا طریقہ بہترین ہے( اگر افرادی قوت دستیاب ہوتو)۔

کھادوں کی سفارشات:

اجزائے صغیرہ کا استعمال:


سلفر کا استعمال:

سورج مکھی کی بھر پور پیداوار حاصل کرنے کے لئے اس میں سلفر بحساب 5 کلو گرام فی ایکڑ ڈوڈیاں بننے کے وقت فلڈ کرنے سے تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

زنک اور بوران کا استعمال :

زمین کے تجزیہ کے بعد زنک اور بوران کی کمی کی صورت میں زنک سلفیٹ 33 فیصد 6 کلو گرام اور بوریکس 11 فیصد 3 کلو گرام فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔

سورج مُکھی کی بیماریاں اور انکا انسداد :


سفوفی پھپھوند :

یہ بیماری پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ پتوں کی بالائی سطح پر چھوٹے چھوٹے سفید دھبے سفوف کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں یہ دھبے پھیل کر پتوں کو دونوں اطراف سے ڈھانپ لیتے ہیں جس کے باعث پتے پہلے زرد اور پھر بھورے ہو کر خشک ہو جاتے ہیں جس سے خوراک بننے کا عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ یہ بیماری خشک موسم میں پھول آنے سے پہلے اور پھول آنے کے بعد حملہ آور ہوتی ہے۔ فصل کو سوکا نہ لگنے دیں، بروقت آبپاشی کریں۔
بیماری کی صورت میں تھائیوفنیٹ میتھائل بحساب دو گرام فی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں یا کار بنڈایم بحساب دو گرام یا پین کونازول بحساب ایک ملی لیٹر فی لیٹر پانی میں حل کر سپرے کریں۔

روئیں دار پھپھوندی:

یہ بیماری پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ میں پتوں پر پیلے رنگ کے دھبے بنتے ہیں اور پتے کی نچلی سطح پر روئی دار سیاہ پن ہیڈ نمودار ہوتے ہیں۔ پتوں کی درمیانی رگ موٹی اور پیلی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور پتے نیچے کی طرف مڑنا شروع کر دیتے ہیں اور آخر کار خشک ہو جاتے ہیں۔پھول آنے پر یہ بیماری ظاہر ہوتی ہے۔ نمدار موسم میں اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ فصلوں کا مناسب ادل بدل اپنائیں۔ بیماری کے حملہ کی صورت میں زیادہ پانی نہ لگائیں۔
حملہ بڑھنے کی صورت میں تھائیوفنیٹ میتھائل یا مینکوزیب بحساب دو گرام فی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں یا ٹیوباکونازول بحساب دو ملی لیٹر فی لیٹر پانی میں یا کاپر آکسی کلورائیڈ بحساب دو گرام فی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔


بیج کو پھپھوند لگنا :

بیج کو پھپھوندی لگ جاتی ہے اور ڈھیلے بن جانتے ہیں۔مختلف اقسام کے پھپھوند لگے ہوتے ہیں۔ اس بیماری سے بیج کی کوالٹی بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جنس کو سٹور کرنے سے پہلے اچھی طرح خشک کر لیں نمی کا تناسب فیصد سے زیادہ نہ رہے۔نمی چیک کرنے کے لیے بیج کو دانت کے نیچے دبانے سے کڑک کی آواز آئے تو سمجھ لیں کہ نمی کا تناسب ٹھیک ہے۔

پتوں کا جھلساؤ :

یہ بیماری پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری سے پتوں پر چھوٹے گہرے خاکی اور سیاہ رنگ کے ہم مرکز گول دھبے بنتے ہیں۔ ان کے اردگردکا حصہ خشک ہو جاتا ہے اور شدید حملے کی صورت میں پتے گِر جاتے ہیں۔ خوراک بننے کا عمل رُک جاتا ہے اور پیداوار میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔ نمدار موسم میں اس بیماری کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ بیج کو بوائی سے پہلے پھپھوندی کش زہر تھائیوفنیٹ میتھائل بحساب دو گرام فی کلو گرام لگا کر کاشت کریں۔ بیمار پودے اکھٹے کر کے تلف کردیں۔
اگر حملہ شدت اختیار کر جائے تو ٹرائی فلوکسی سٹروبن یا ٹیوباکونازول ایک گرام یا ڈائی فیناکونازول بحساب ایک ملی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔

پھول کی سڑن :

یہ بیماری یا پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ پھول کے پچھلے حصے پر خاکی رنگ کے نمدار دھبے ظاہر ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ اپنے سائز میں بڑھ کر گہرے کالے رنگ کی روئی سے ڈھک جاتے ہیں۔ یہ بیماری فصل پکنے پر حملہ آور ہوتی ہے۔شدید حملہ کی صورت میں پورا پھول گل کر پودے سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ بیمار پودے اکھٹے کر کے تلف کر دیں۔
یہ بیماری یا پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ پھول کے پچھلے حصے پر خاکی رنگ کے نمدار دھبے ظاہر ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ اپنے سائز میں بڑھ کر گہرے کالے رنگ کی روئی سے ڈھک جاتے ہیں۔ یہ بیماری فصل پکنے پر حملہ آور ہوتی ہے۔شدید حملہ کی صورت میں پورا پھول گل کر پودے سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ بیمار پودے اکھٹے کر کے تلف کر دیں۔

تنے کی سڑانڈ :

یہ بیماری پھپھوند کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ یہ تنے کے نچلے حصہ پر پہلے حملہ آور ہوتی ہے اور متاثرہ حصے پر کالے رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ تنے کا اندرونی اور بیرونی حصہ کوئلے کی طرح کالا ہو جاتا ہے۔ یہ بیماری بیج کے ذریعے پھیلتی ہے اور عمومًا پھول آنے سے پہلے یا پھول آنے کے بعد حملہ آور ہوتی ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ پودے میں بیج کم بنتا ہے اور پودے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ حملہ زیادہ ہونے کی صورت میں پودا سُوکھ جاتا ہے اور پیداوار میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے۔ بجائی سے پہلے پھپھوند کُش زہر تھائیوفنیٹ میتھائل بحساب دوگرام فی کلو گرام بیج کو لگا کر کاشت کریں۔ بیمار پودے اکٹھے کر کے تلف کریں۔ بروقت آبپاشی کریں۔
متاثرہ پودوں کو کار بنڈازیم بحساب دو گرام یا ڈائی فیناکونازول بحساب ایک لیٹر یا تھائیوفنیٹ میتھائل بحساب دو گرام فی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔

سورج مُکھی کے ضرر رساں کیڑے اور انکا انسداد :

دیمک:

یہ کیڑے چیونٹی سے مشابہ ہوتے ہیں۔ انکا رنگ ہلکا زرد ہوتا ہے یہ زمین کے اندر گھر بنا کر خاندان کی صورت میں رہتے ہیں یہ پودے کی جڑوں اور تنوں پر حملہ کرتے ہیں۔ تنے اور جڑ کے اندر داخل ہو کر اسے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جس سے پودے کے اوپر والے حصے کو خوراک کی فراہمی نہیں ہوتی اور متاثرہ پودا سوکھ جاتا ہے اور اسے آسانی سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔
کلورپائری فاس ای سی بحساب تالیٹر فی ایکڑ آبپاشی کر ساتھ استعمال کریں یا فیپرونل فیصد ایس سی بحساب لیٹر فی ایکڑ آبپاشی کے ساتھ استعمال کریں۔
اگر کھیت میں دیمک موجود ہے تو مندرجہ بالا زہریں کھیت کی تیاری سے پہلے ڈال دیں۔

ٹوکا:

یہ کیڑااُگتی ہوئی فصل پر حملہ آورہوتا ہے۔ کھیتوں میں اُڑان کرتا اور پھدکتا نظر آتا ہے۔ بالغ اور بچے دونوں سورج مُکھی کے اگتے ہوئے پودوں کو کھا کر تباہ کر دیتے ہیں۔
لیمبڈاسائی ہیلوتھرین اس سی بحساب سے ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں یا بائی فینتھرین فیصد ایس سی بحساب تا ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

سفید مکھی :

اس مکھی کے بالغ اور بچے دونوں ہی پتوں کا رس چوستے ہیں جس سے پودے کمزور ہو جاتے ہیں۔اسکے بچے پتوں کی نچلی سطح پر چمٹے ہوتے ہیں۔اسکی مادہ اپنی پوری زندگی میں پتوں کی نچلی سطح پر تقریباانڈے دیتی ہے۔سفید مکھی جہاں سے رس چوستی ہے وہاں شہد جیسی رطوبت خارج کرتی ہے۔ جس پر پھپھوندی اگ جانے کی وجہ سے ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ یہ کیڑا سورج مکھی میں وائرسی بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا ہے اس کا حملہ گرم اور خشک موسم میں زیادہ ہوتا ہے۔
سپائیروٹیٹرامیٹ ایس سی بائیوپاور بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ پائری پروکسی فن ای سی بحساب ملی لیٹرفی ایکڑ سپرے کریں۔ اسیٹامیپرڈ ایس پی بحساب تا گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔

چست تیلہ :

یہ سبز رنگ کا چھوٹا سا کیڑا ہوتا ہےایک جگہ سے دوسری جگہ تیزی سے حرکت کرتا ہے اور سارا سال فعال رہتا ہے۔اسکا حملہ مارچ اپریل میں زیادہ ہوتا ہے۔اس کے بچے اور بالغ دونوں پتوں سے رس چوستے ہیں جسکی وجہ سے پتوں پر نشان بن جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ پتے خشک ہو جاتے ہیں۔ درمیانی عمر کے پتوں پر حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ حملہ زیادہ ہونے کی صورت میں پتے نیچے کی طرف مڑ جاتے ہیں اور خوراک بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے جس سے پیداوار میں خاظر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔
امیڈاکلوپرڈایس ایل بحساب ملی لیٹر پانی میں حل کر کے ایک ایکڑ پر سپرے کریں۔ کاربوسلفان ای سی بحساب تا ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

سست تیلہ :

یہ کیڑا بہت چھوٹا اور سست ہوتا ہے۔اس کے بچے اور بالغ کے پر سیاہی مائل سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔یہ گچھوں کی شکل میں نظر آتا ہے۔اس کا حملہ پودے کے اوپر والے پتوں پر زیادہ ہوتا ہے۔یہ کیڑا ایک مادہ خارج کرتا ہے تو متاثرہ پودے پر سیاہ رنگ کی پھپھوندی لگ جاتی ہے۔جس سے خوراک بنانے کا عمل رک جاتا ہے۔یہ کیڑے پودے کا رس چوستے ہیں جس سے پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور پتے کے کنارے اوپر کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ زیادہ حملہ کی صورت میں پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔
اکاربوسلفان ای سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ بائی فینتھرین ای سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ امیڈاکلوپرڈ ایس سی بحساب تا ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

جوئیں :

یہ ایک بہت چھوٹا سا کیڑا ہے جس کا رنگ ہلکا بھورا ہوتا ہے۔ یہ پتوں پر کالونی بناتے ہیں۔یہ پتوں پر حملہ کرتی ہیں اور پتوں کی نچلی سطح پر بہت زیادہ تعداد میں ملتی ہیں۔ یہ پتوں کا رس چوستی ہیں پتے خشک ہو کر گر جاتے ہیں۔ گرم موسم میں پانی کی کمی ہر گز نہ آنے دیں۔
سپائرومیسی فن ایس سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ فن پراکسی میٹ ای سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

چور کیڑا :

اس کی سنڈی کا رنگ سبزی مائل بھورا ہوتا ہے جبکہ سر چمکیلا سیاہ ہوتا ہے۔یہ دن کے وقت زمین میں چھپی رہتی ہیں اور رات کو نوزائیدہ پودوں کو زمین کے برابر سے کاٹ دیتی ہیں۔
کاربارائل فیصد بحساب کلو گرام فی ایکڑ راکھ میں ملا کر دھوڑ کریں۔

لشکری سنڈی :

یہ سنڈی ابتدائی حالت میں سفید اور بعد میں سیاہی مائل سبز رنگ کی ہو جاتی ہے۔یہ پتوں کی نچلی سطح سے کھانا شروع کرتی ہیں اور پتے کی باریک جھلی باقی رہ جاتی ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں پورے پتے کھا جاتی ہیں۔
ایمامیکٹن بنزوایٹ ای سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ فلوبینڈامائیڈایس سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ لیوفینوران ای سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ کلورینٹرانیلی پرولایس سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

امریکن سنڈی:

نوزائیدہ سنڈی کے جسم کا رنگ سفید اور سر سیاہ ہوتا ہے جبکہ پوری عمر کی سنڈی کا رنگ زرد یا گہرا سبز ہوتا ہے۔یہ سنڈی جس فصل پر ہوتی ہے اس طرح کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ مارچ کے آخری ہفتے حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ سنڈی پہلے نرم حصوں جیسا کہ سیپل، پیٹل پر حملہ کرتی ہیں پھر پھول پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ یہ پتوں اور شگوفوں کو کھا جاتی ہیں۔ پھول کی ابتدائی بند حالت پر اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہےاور سنڈیاں بند پھول کے اندر داخل ہو کر زردانے اور نئے بیج بننے کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
سپائنٹورام ایس سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ فلوبینڈامائیڈ ایس سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ ایمامیکٹن بینزوایٹ ای سی ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ کلورینٹرا نیلی پرول ایس سی بحساب ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

سورج مکھی کی برداشت اور ذخیرہ :

جب پھول کی پشت کا رنگ سبنر سے زرد ہو جاۓاور زرد پتیاں خشک جبکہ سبز پتیاں بھوری ہو جائیں اور پھول کے اندر بیج سخت ہو جاۓ تو سورج مکھی کے پھولوں کو درانتی سے کاٹ لیں اور دو تین دن کے لیے دھوپ میں خشک ہونے رکھ دیں۔اس کے بعد تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر سے گہائی کر لیں ۔ کمبائن ہارویسٹر میں ضروری ترمیم کر کے سورج مکھی کی فصل کو برداشت بھی کیا جا سکتا ہے.
بیج کوسٹورکرنے کے لئے اس میں نمی کی مقدار 8 فیصد اور کچرا2 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بیج میں نمی کی مقدار زیادہ ہو تو اسے اُلی لگ جاتی ہے ۔ جب دانہ دانت کے نیچے دبانے سے کڑک کی آواز کے ساتھ ٹوٹنے لگے تو اس وقت نمی کی مقدار تقریبا 8 فیصدہی ہوتی ہے۔

سورج مکھی کی کمبائن ہارویسٹرسے برداشت: