ٹماٹر سال بھر استعمال ہونے والی سبزی ہے اور بھرپور غذائیت کے لحاز سےسبزیوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ ٹماٹر میں وٹامن اے، بی و سی اور معدنی نمکیات مثلاً فولاد،کیلشیم اور فاسفورس کافی مقدار میں ہوتے ہیں،جو جسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرنے کے ساتھ خون بھی پیدا کرتا ہے۔ ٹماٹر کے پھل میں لائیکو پین پائی جاتی ہے جو جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔ ٹماٹر سے پلپ، کیچپ اور پیسٹ جیسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ اسے گھروں میں بھی آسانی سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔
ٹماٹر موسم گرما کی سبزیوں میں شمار ہوتا ہے۔ ٹماٹر کے پودے زیادہ گرمی یا سردی برداشت نہیں کر سکتے۔معتدل آب و ہوا میں یہ خوب نشوونما پاتا ہے۔ اس کی نشو ونما کے لئے بہترین درجہ حرارت 14 تا 30 سینٹی گریڈ ہے۔ ٹماٹر کی کاشت کے لئے زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں رہتی ہے۔ رتیلی اور ہلکی زمیں میں اس کی پیداوار کم آتی ہے۔اگر زمین میں نامیاتی مادہ مناسب مقدار میں ہو تو پودوں کی جڑیں آسانی سے خوراک حاصل کرتی ہیں کیونکہ ایسی زمین میں نمی دیر تک قائم رہتی ہے۔
ٹماٹر کی فصل پہاڑی اور میدانی دونوں علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے ۔ اس کی کاشت کے نمایاں علاقے کٹھہ سگرال (خوشاب)، گوجرانوالہ، شیخوپورہ مظفر گڑھ، خانپور (رحیم یارخان ) وغیرہ ہیں۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں ٹماٹر کی چارفصلیں کاشت کی جاتی ہیں جبکہ پانچویں فصل سرد پہاڑی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے ۔ پنجاب میں فروری کاشتی فصل کا رقبہ بڑھ رہا ہے جس کے نتیجہ میں مئی میں ٹماٹر کی آمد بڑھ جاتی ہے اور کم ریٹ کی وجہ سے کاشت کار کونقصان ہوتا ہے ۔ مزید برآں فروری کاشت کی پیداوار موسم گرم ہو جانے کی وجہ سے نسبتاً کم ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ نومبر کاشت کو بھی فروغ دیا جاۓ اور اسے سردی سے بچانے کے لئے سرکنڈا یا پلاسٹک شیٹ استعمال کی جاۓ ۔
ایک ایکڑ کی نرسری کاشت کرنے کے لئے تقریبا 4 مرلہ زمین درکار ہوتی ہے۔ بوائی سے تقریباً ایک ماہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد زمین میں ملا کر آبپاشی کریں اور وتر آنے پر زمین کو ہموار کر کے سے انچ اُونچی اور ۲ فٹ چوڑی کیاریاں بنائیں۔ کیاریوں میں 4 انچ کے فاصلے پر لکڑی سے ایک انچ گہری لکیر لگا کر اس میں تقریبا آدھے انچ کے فاصلے پر بیج گرائیں۔ بیج لگانے کے بعد اسے پتوں کی گلی سڑی کھاد سے ڈھانپ دیں اور پانی اس طرح سے لگائیں کہ صرف پانی کی نمی بیج تک پہنچے اور بیج زمین سے باہر نہ آۓ۔ شروع میں صبح شام پانی دیں تا کہ زمین کا اوپر والا حصہ تر وتر حالت میں رہے۔ جب 5 تا 7 دن کے بعد اُگاو شروع ہو جائے تو پانی کی مقدار کم کر دیں ۔ جب پودے دو انچ کے ہو جائیں تو دو دو انچ پرصحت مند پودے چھوڑ کر باقی پودے نکال دیں۔
پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے ایک ہفتہ پیشتر آبپاشی نہ کریں تا کہ پودے سخت جان ہو جا ئیں اور منتقلی سے پہلے پنیری کواچھی طرح پانی لگائیں تا کہ پودوں کو نکالنے میں آسانی ہو۔ گرمی کے موسم میں پنیری کی منتقلی شام کے وقت کریں اور منتقلی سے پہلے سفارش کرد و پیچوندکش زہر بحساب تین گرام فی لیٹر پانی کے محلول میں پودوں کی جڑوں کو پانچ منٹ ڈبوئیں ۔
زمین کی تیاری کے لئے ایک ماہ قبل 12 تا15 ٹن فی ایکڑ گوبر کی گلی سڑی کھاد زمین میں ملا کر سے دفعہ ہل چلائیں تا کہ زمین اچھی طرح نرم اور بُھربُھری ہو جائے۔ ہموار کھیت کو ایک کنال کی چھوٹی چھوٹی کیاروں میں تقسیم کر کے فٹ چوڑی پٹڑیاں بنائیں۔ پودوں کا درمیانی فاصلہ تقریباً ڈیڑھ فُٹ رکھیں۔
اگر پٹڑی کے دونوں طرف فصل کاشت کرنی ہو تو اس کی چوڑائی فٹ کر لیں اور اگر لمبے قد والی قسم لگانی ہو تو پٹڑی کی چوڑائی مزید بڑھا دیں۔
گروٹیک آپ کے رقبے میں زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ہر کھیت کے اندر مختلف مقدار میں کھادوں کی سفارش کرتی ہے، تا کہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کی جا سکے۔
ہائبرڈ اقسام کے لئے کھاد کی ضرورت نسبتا زیادہ ہوتی ہے لہذا قسم کی ضرورت کے مطابق کھاد استعمال کریں۔یوریا کی نسبت کیلشیم امونیم نائٹریٹ کے استعمال کو ترجیع دیں۔
پنیری کی منتقلی سے پہلے زمین کی آخری تیاری کے وقت جڑی بوٹیوں کے انسداد کے لئے وتر حالت میں مٹی پلٹنے والا ہل چلا
کر بعدازاں کلٹیو ییٹر چلا کر کھلا چھوڑ دیں۔ پنیری کی منتقلی کے بعد گوڈی اور نلائی کے ذریعے سے بھی جڑی بوٹیوں کو
ختم کیا جاسکتا ہے جس کے لئے 2 تا 3 دفعہ مناسب وتر میں گوڈی کرنی بہت ضروری ہے ۔ گوڈی کر تے وقت پودوں کو مٹی چڑھاتے
رہنا چاہئے اور پودوں کا رخ / جھکاؤ پٹڑیوں کی جانب کرتے رہنا چاہئے تا کہ پھل پانی میں گر کر ضائع نہ ہوں ۔
کیمیاوی طریقہ انسداد کے لئے محکمہ زراعت کے توسیعی عملہ سے رجوع کریں۔ آرو بینکی نامی جڑی بوٹی ٹماٹر کے پودے سے براہ
راست خوراک حاصل کرتی ہے ۔ اس میں بیچ بنانے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ موسم سرما کی فصل میں جہاں کورا نہ پڑتا
ہو عام پائی جاتی ہے۔ خوشاب میں پہاڑوں کے دامن کے ٹماٹر کے کھیتوں میں اس کی بہتات ہے۔ اسکی تلفی انتہائی ضروری ہے ۔
تا ہم اگر سیاہ پلاسٹک کو بطور ملچ استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف جڑی بوٹیوں کا اگاؤ رُک جا تا ہے بلکہ وتر بھی
زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے اور پودوں کی نشونما بہتر ہوتی ہے۔
آبپاشی کرتے وقت احتیاط ضروری ہے تا کہ پانی پٹریوں کے اوپر نہ چڑھے۔ موسم گرما میں فصل کو چھ تا سات دن بعد ترجیحاً شام کے وقت اور موسم سرما میں 15 تا20 دن کے بعد پانی دیں ۔ پھول آنے پر اور پھل بننے کے دوران پانی اور کھاد کا استعمال نہایت ضروری ہے۔تاہم شدید کورے کے دنوں میں فصل کو پانی ضرور دیں ۔
پتوں پر آبی دھبے بنے کا عمل شروع ہو جا تا جو بعد میں بڑے ہو کر سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں ۔ بیماری کی علامات تنے اور پھل پر بھی ظاہر ہو جاتی ہیں جس سے تنا گَل جاتا ہے اور پورا پودا مر جا تا ہے ۔ متاثرہ فصل سے پھپھوند کے جراثیم پھل کے اندر بھی چلے جاتے ہیں اور پھل کا ذخیرہ کرنے پر ان کے گلاؤ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ زیادہ بارشوں کی وجہ سے فضا میں 90فیصد سے زیادہ نمی اور 10 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اس بیماری کا باعث بنتا ہے ۔
یہ ٹماٹر کی ایک اہم بیماری ہے جو Botrytisکی وجہ سے پھیلتی ہے اور فصل پرکسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے .اس بیماری کے حملہ سے پتے سیاہی مائل بھورے رنگ کے ہو کر بے جان ہو جاتے ہیں ۔ شدید حملہ کی صورت میں تنے ، پھول اور پھل بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری17تا23سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور 95%نمی ہونے پر پھیلتی ہے۔
جڑ کے قریب سے تنے پر سیاہی نما دھبے بن جاتے ہیں جو بعد میں سیاہ ہالے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ پودے کونمکیات اور پانی کی ترسیل رک جاتی ہے جس کی وجہ سے پودا مرجھا جا تا ہے اور مر جاتا ہے.
پتوں پر چھوٹے چھوٹے نمدار دھبے ظاہر ہو نا شروع ہو جاتے ہیں جو بعد میں پیلے یا بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ شدید گرمی کی صورت میں یہ دھبے آپس میں مل جاتے ہیں اور پودا اپنی غذائی ضروریات اچھے سے پوری نہیں کر پاتا۔
اس بیماری کی وجہPythiumہے جس سے بیج اُگنے کے بعد یا تو زمین میں ہی گل سڑ جاتا ہے یا پھر پھوٹتے ہی پود ختم ہو جاتی ہے۔
پتے زرد رنگ کے ہو جاتے ہیں اور ان کی بڑھوتری مکمل طور پر رک جاتی ہے۔ پتے مرجھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ متاثرہ پودے کا تنا زمین کی سطح کے قریب سے صحت مند پودوں سے نسبتاً زیادہ پھولا ہوا نظر آتا ہے اور اگر پودے کو اکھاڑ کر دیکھا جائے تو جڑیں گلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ زیر زمین درجہ حرارت کا بڑھ جانا اور خشک زمین میں اس بیماری کا حملہ شدیدہو جا تا ہے۔
اس بیماری کےپھیلاؤ کا سبب بیکٹیریا ہے۔ بیماری کی علامات میں پتوں کا رنگ زرد پڑ جانا، قد کا چھوٹا رہ جانا اور پودے کامرجھا جانا شامل ہیں۔ اگر متاثرہ پودے کی جڑوں کو کاٹ کر پانی میں رکھا جاۓ تو اُس سےبیکٹیریا کا مواد نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ پودے کی جڑیں گلابی رنگ کی یا گہرے بھورے رنگ کی نظر آتی ہیں۔ بیماری جڑی بوٹیوں کی تلفی کے دوران پودوں کے زخمی ہونے کی وجہ سے یا زیر زمین موجود نیماٹوڈ کےحملے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ بیماری کی وجہ سے پودے کی خوراک اور پانی کی نالیوں کا نظام درہم برہم ہو جا تاہے اور پودا ایک یا دو دن میں مر جا تا ہے۔
ابتدائی علامتوں میں نئے پتوں کا زردی مائل ہو کر مڑ جانا دیکھنے میں آ تا ہے ۔ پتوں کا زیادہ تر حصہ پیلا پڑ جا تا ہے ۔ لیکن رگوں کے آس پاس کا حصہ سبزی مائل ہی رہتا ہے ۔ آہستہ آہستہ تمام پتے چُڑ مُڑ ہو جاتے ہیں اور پودا قد میں بہت چھوٹا رہ جا تا ہے ۔ وائرس کی کچھ اقسام کے حملہ کی وجہ سے پتوں کی رگیں موٹی اور روئید گی بھی نمودار ہوتی ہے ۔ پھول جھر جاتے ہیں جس کی وجہ سے پھل کم لگتا ہے۔
جڑی بوٹیوں کی تلفی کی جائے۔ بیماری کی ابتداء میں جو چند پودے متاثر ہوں ان پودوں کو تلف کر دیں ۔ رس چوسنے والے کیڑوں کا تدارک مناسب ادویات کے ذریعے کیا جاۓ ۔ پودوں کی طاقت بڑھانے کیلئے تھوڑی مقدار میں مناسب وقفوں سے متوازن کھادوں کا استعمال کریں ۔
| بیماری | زہر | مقدار اور طریقہ استعمال |
|---|---|---|
| اگیتا جھلساو، پچھیتا جھلساو، لیف سپاٹ | پائراکلوسٹروبن+میٹی رام 60 فیصد | 600 گرام فی ایکڑ 100 لیٹر پانی میں |
| ٹرائی فلوکسی سٹروبن+ٹیباکونازول (75 فیصد) | 65 گرام فی 100 لیٹر پانی میں | |
| ڈائی میتھا مورف+مینکوزیب69 فیصد | 500 گرام فی 100 لیٹر پانی میں | |
| فوسٹائیل ایلومینیم 80 فیصد | 250 گرام فی 100 لیٹر پانی میں | |
| پروپی نیب+اپروولیکارب 66.8 فیصد | 300-500 گرام فی 100 لیٹر پانی میں | |
| ٹماٹر کا مرجھاو/فیوزیریم ولٹ اور جڑ کا اکھیڑا، کالر راٹ | تھائیوفنیٹ میتھائیل 70 فیصد | 1 کلوگرام فی ایکڑ فلڈ کریں |
| فوسٹائیل ایلومینیم 80 فیصد | 1 کلوگرام فی ایکڑ فلڈ کریں | |
| پتوں کا جراثیمی جھلساو | کاپر آکسی کلورائیڈ+کاسوگامئسین 47 فیصد | 250-500 گرام فی 100 لیٹر پانی |
| گرے مولڈ | کلوروتھیلونل+پائریمیتھانل 40 فیصد | 500 ملی لیٹر سپرے کریں |
| بلاسم اینڈ راٹ | اماینوایسڈ | 400-500 ملی لیٹر سپرے |
| ٹماٹر کے وائرس | اماینوایسڈ | 400-500 ملی لیٹر سپرے |
| ملٹی مائیکرو نیوٹرینٹس 10 فیصد(زنک،آئرن،مینگانیز،کاپر) | 500 ملی لیٹر سپرے |
اس بیماری کا سبب نیماٹوڈ ہے۔ پودے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے، پتے پیلے اور پودے مرجھاۓ ہوۓ نظر آتے ہیں ۔ متاثرہ پودے کو اکھاڑ کر دیکھا جاۓ تو جڑوں پر چھوٹی چھوٹی گانٹھیں نظر آتی ہیں ۔ خطئے پودوں کی جڑوں کو زخمی کر دیتے ہیں اور دیگر بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کی منتقلی کا سبب بھی بنتے ہیں جیسے کہ مرجھاؤ اورا گلاؤ وغیرہ۔
بیماری کی علامات ظاہر ہوتے ہی کار بو فیوران بحساب 8 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔
اس کیڑے کی سنڈی اگتے ہوۓپودوں کو رات کے وقت سطح زمین کےقریب سے کاٹ دیتی ہے اور دن کےوقت پودوں کے قریب ہی زمین میں چھپی رہتی ہے ۔ کھاتی کم اور کاٹتی زیادہ ہے۔
تازہ کٹے ہوئے پودوں کے قریب زمین میں سے سنڈیاں تلاش کر کے تلف کریں اور پروانوں کو تلف کرنے کے لئے روشنی کے پھندے لگائیں۔ جڑی بوٹیاں تلف کریں۔ گوڈی کر کے پانی لگائیں ۔ پرمیتھرین %0.2 بحساب 5-3 کلوگرام 15-10 کلوگرام راکھ میں ملا کر فی ایکڑ صبح سویرے جب اوس پڑی ہو دھوڑا کریں۔
سنڈی پھل کے اندر داخل ہو کر کھاتی ہے جس سے پھل نا قابلِ استعمال ہو جا تا ہے۔ ایک سنڈی کئی پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس کے علاوہ یہ سنڈی پتوں اور کونپلوں کو بھی کھا جاتی ہے۔
روشنی کے پھندے لگا کر پروانوں کو تلف کریں۔ پھول آنے کے فورا بعد مناسب زہر کی حفاظتی سپرے کریں۔ ٹرائیکوگراما کارڈ لگائیں۔ حملہ شدہ پھل اکٹھے کر کےزمین میں دباتے رہیں ۔ ایمامیکٹن بینزوئیٹ 400 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں یا فلومیکٹ 5 فیصد(ایبا میکٹن+کلوروفیوزوران) 350 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔
بالغ اور بچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں جس سے پودے کمزور ہوکر بہت کم پھل دیتے ہیں ۔ شدید حملہ کی صورت میں پتے جھلسے ہوئے نظر آتے میں اور گرنے لگتے ہیں ۔
چست تیلے کے تدارک کے لیے نائٹن پائرم 10 اے ایس بحساب 200 ملی لیٹر یا فلو نیکا مڈ 50 ڈبلیو جی بحساب 60 گرام یا تھا یا میتھوکسم 25 ڈبلیو جی بحساب 24 گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔
بچے اور بالغ دونوں پتوں کی نچلی سطح سےرس چوستے ہیں اور میٹھا رس خارج کرتے ہیں جس پر سیاہ رنگ کی اُلی اُگ آنے کی وجہ سے پتے سیاہ ہو جاتے میں اور پتوں میں ضیائی تالیف کا عمل بہت متاثر ہوتا ہے۔ حملہ شدہ پودے کمزور ہوکر بہت کم پیداوار دیتے ہیں ۔ یہ کیڑا وائرسی بیماریاں بھی پھیلا تا ہے ۔
متبادل خوراکی پودے اور جڑی بوٹیاں تلف کریں ۔ • مفید کیڑوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ کاربو سلفان 20ای سی بحساب 500 ملی لیٹر فی ایکڑ یا ڈائی میتھو ایٹ 40 ای سی بحساب 330 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کر میں ۔
بالغ اور بچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ اپنے جسم سے لیس دار مادہ خارج کرتے ہیں جس سے پتوں پر سیاہ رنگ کی الی لگ جانے سے پودے جھلسے ہوتے نظر آتے ہیں۔ پودوں کا خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ یہ کیڑا کئی قسم کی وائرسی بیماریاں بھی پھیلاتا ہے۔
سپائرو ٹیٹرا میٹ 240 ایس سی بحساب 125 ملی لیٹر فی ایکڑ یا پائری پراکسی فین 10.8 ای سی بحساب 400 ملی لیٹر فی ایکڑ یا اسیٹا میپرڈ 20 ایس پی بحساب 125 گرام فی ایکڑ اچھی طرح پتوں کی نچلی طرف سپرے کریں۔ سفید مکھی کے حملے کے انسداد کے لیے خاص طور پر پاور سپرئیر کا استعمال کیا جاۓ ۔
بالغ اور بچے اگتے ہوۓ پودوں کو کاٹ کر تباہ کر دیتے ہیں۔ تاہم اس کا حملہ کھیت میں کہیں کہیں ہوتا ہے۔
جڑی بوٹیاں تلف کریں۔ کیڑے کے ظاہر ہونے پر ایسی فیٹ فیٹ 97 ڈی ایف بحساب 250 تا 300 گرام فی ایکڑ یا بائی فینتھرین 10 ای سی بحساب 250 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔
یہ کیڑا پتوں کا سبنر مادہ کھاتا ہے جس کی وجہ سے خوراک بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور پتے جلد خشک ہو کر گر جاتے ہیں۔
کیڑے کے ظاہر ہونے پر زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے بائی فینتھرین 10 فیصد 330 ملی لیٹر فی ایکڑ یا سپائنوسیڈ 240 ایس سی بحساب 40 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں ۔
یہ کیڑے بیج کا اگاؤ شروع ہونے سےپہلے ہی اسے زمین سے نکال کر لےجاتے ہیں۔
اس کے تدارک کے لیے بجائی کے فوراً بعد بلوں کے پاس پر میتھرین %0.5 دھوڑا کریں یا بائی فینتھرین 10 ای سی بحساب 250 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں ۔
ٹماٹر کی فصل کی برداشت شام کے وقت کریں اور ان کوٹھنڈا کرنے کے لئے پانی سے دھولیں تا کہ تازگی برقرار رہ سکے اور اگلی صبح مقامی منڈی میں پھل پہنچایا جاسکے ۔ اگر دور دراز کے علاقے میں پھل بھیجنا ہو تو پھل کو تھوڑا کچا یعنی جب رنگت تبدیل ہورہی ہوتو ڑ لینا چاہیے ورنہ صرف پکے ہوۓ پھل ہی توڑنے چاہئیں ۔ اس کی نقل حمل رات کو کریں تا کہ درجہ حرارت کم ہو اور پھل خراب یا ضائع نہ ہو۔