گندم کا پیداواری منصوبہ!


زمین کی تیاری اور طریقہ کاشت

وقت کاشت:


گندم کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے اسکی کاشت کا موزوں ترین وقت یکم نومبر تا 30نومبر ہے۔اگر گندم 20 نومبر سے پہلے کاشت کر لی جائے تو جڑی بوٹیوں کا حملہ شدید نہیں ہوتا۔ وسط دسمبر سے آخر دسمبر تک کاشت شدہ گندم کی پیداوار میں 15سے30 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔


طریقہ کاشت:

  • وتر کا طریقہ
  • گپ چھٹ کا طریقہ
  • پٹڑیوں پر کاشت
  • کاشت کے بعد کھیلیاں بنانا
  • ڈرل کاشت


پٹریوں پر گندم کی کاشت:

پٹریوں پر گندم کی کاشت کا طریقہ کار کچھ عرصےسے کافی فروغ پا رہا ہے۔پٹریوں پر کاشتہ گندم سے درج ذیل فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  • پانی کی 30-50 فیصد تک بچت۔
  • 25 فیصد تک پیداوار میں اضافہ
  • 12 فیصد تک کھادوں کی افادیت میں اضافہ
  • جڑی بوٹیوں کا بہترین کنٹرول۔

منظور شدہ اقسام




اقسام سے متعلقہ ضروری نوٹ:

  • ڈیورم - 2021 گندم کی الگ نوعیت کی قسم ہے جو صنعتی استعمال یعنی پاستہ مصنوعات ( نوڈلز وغیرہ) بنانے کے لئے موزوں ہے .
  • عروج - 22 ونشان - 21 آبپاش و بارانی دونوں علاقہ جات کے لئے منظور شدہ ہے۔
  • صادق - 21 اور نواب - 21 جنوبی پنجاب میں کاشت کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔
  • فیصل آباد - 2008 اور پاکستان - 13 گنگی سے متاثر ہوتی ہے لہذا ان کو کم رقبہ پر کاشت کیا جائے۔
  • اکبر - 19 ، نواب۔ 21 اور زنکول - 16 غذائیت کے اعتبار سے نسبتاً زنک کی زیادہ مقدار کی حامل اقسام ہیں۔


آبپاش و بارانی علاقے


شرح بیج :

  • یکم تا 30 نومبر: 40 سے 50 کلو گرام فی ایکڑ
  • پودے کا پودے سے فاصلہ: 10 cm
  • یکم تا 10 دسمبر: 50سے 55 کلو گرام فی ایکڑ
  • قطار کا قطار سے فاصلہ: 25 cm
  • بیج کی گہرائی: 1.5 cm
  • پودوں کی فی ایکڑ تعداد: 9-10 لاکھ۔

نوٹ: وسط دسمبر سے لے کر جنوری کے پہلے ہفتہ تک کا شتہ گندم کے لئے شرح بیج 55 سے 60 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں، کیونکہ درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے بیج کا اگاؤ متاثر ہوتا ہے اور پودا شگوفے کم بناتا ہے۔ لہذا، بیج کی مقدار مناسب حد تک بڑھانے سے فی ایکڑ بہتر پیداوار کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ کاشت کے لئے صاف ستھرا گریڈڈ بیج استعمال کریں۔ کاشت کے لئے ایسے بیج کا انتخاب کریں جس کے 1000 دانوں کا وزن کم سے کم 33 گرام ہو۔

بیج کو زہر لگانا:

گندم کی مختلف بیماریوں میں کانگیاری، کرنال بنٹ، گندم کی بلاسٹ اور اکھیڑا وغیرہ عام طور پر حملہ آور ہوتی ہیں اور پیداوار میں نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے تدارک کے لئے بیج کو بوائی سے پہلے تھا ئیو فینیٹ میتھائل بحساب دو تا اڑھائی گرام یا امیڈا کلو پرڈ + ٹیبوکو نازول بحساب 2 ملی لٹر فی کلو گرام بیج لگائیں۔

زہر لگانے کا طریقہ:

بیج کو زہر لگانے کے لئے گھومنے والا ڈرم استعمال کریں تاہم اگر یہ میسر نہ ہو تو پلاسٹک کی ایک بوری میں وزن شدہ پیج اور سفارش کردہ زہر ڈال کر بوری کا منہ باندھیں اور دونوں طرف سے پکڑ کر اچھی طرح ہلائیں تا کہ بیج کے ہر دانے کو زہر لگ جائے خیال رہے کہ بوری کو تقریباً آدھا بھرا جائے تاکہ بیج کو بوری میں اچھی طرح سے ہلا یا جا سکے اور دوائی اچھی طرح بیج کے ساتھ لگ سکے۔

ہمواری زمین اور اس کی اہمیت:

کسی بھی فصل کی بھر پور پیداوار حاصل کرنے کے لئے کھیت کا اچھی طرح ہموار ہونا بے حد ضروری ہے ۔ اس طرح پانی یکساں لگتا ہے اور فصل کا اُگاؤ یکساں اور بہتر ہوتا ہے، نیز زرعی مداخل بھی یکساں طور پر سارے کھیت میں تقسیم ہوتے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ گندم کی فصل کو دی جانے والی آب پاشی خصوصاً پہلی آبپاشی مطلوبہ اور یکساں مقدار میں دی جاسکتی ہے اور پانی کی کمی یا زیادتی کا فصل پر برا اثر نہیں پڑتا اور فصل کی بڑھوتری بہتر رہتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کھیت کو ہموار کیا جائے ، زیادہ بہتر ہے کہ اس مقصد کے لئے لیزرلینڈ لیولر استعمال کیا جائے۔

پچھیتی کاشتہ گندم کی پیداوار میں کمی کی وجوہات:

تحقیق کے مطابق پچھیتی کاشتہ فصل کی پیداوار میں روزانہ کی بنیاد پر بتدریج کمی آنا شروع ہو جاتی ہے ۔ دانہ بننے اور بھرنے کے دوران اگر درجہ حرات زیادہ بڑھ جائے تو پچھیتی کاشتہ گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔ مزید یہ کہ پچھیتی کاشت میں بیج اُگنے میں زیادہ دن لیتا ہے، پودا شگوفے کم بناتا ہے اور سٹے چھوٹے رہ جاتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلیاں اور گندم کا وقت کاشت:

فصل کے وقت کاشت پر آب و ہوا میں ہونے والی غیر متوقع تبدیلیوں یعنی Climate change کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر دسمبر کے مہینے میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے تو اگیتی کاشتہ گندم زیادہ متاثر ہوتی ہے اور اگر مارچ اور اپریل کے مہینوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جائے تو پچھیتی کاشتہ گندم کی پیداوار میں کمی آتی ہے۔ لہذا سفارش کردہ وقت پر گندم کی فصل کاشت کریں تا کہ آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے۔




کھادوں کا استعمال


گندم کی فی ایکڑ اچھی پیداوار کے حصول اور سفارش کردہ کھادوں کی صحیح مقدار کا تعین کرنے کے لئے زمین کا تجزیہ کروانا ضروری ہے۔گروٹیک کسانوں کو اپنی زمین کا تجزیہ کروانے کی سفارش کرتا ہے۔ تا کہ کم لاگت میں بہترین پیداوار کا حصول ممکن ہو سکے۔

  • نائٹروجنی کھاد 2 یا 3 برابر اقساط میں استعمال کریں۔
  • اگر کسی وجہ سے فاسفورسی کھاد بوقت کاشت نہ ڈالی جائے، تو پہلے پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
  • اگر ڈی اے پی کی متبادل کھادیں (سنگل سپر فاسفیٹ یا نائٹروفاس ) استعمال کرنا چاہیں تو ان کی سفارشات درج ذیل ہیں۔

سنگل سپر فاسفیٹ کا استعمال:

  • زمین کی تیاری کے وقت 3 سے 4 بوری سنگل سپر فاسفیٹ، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری سلفیٹ آف پوٹاش SOP)) ڈالیں

نائٹرو فاس کا استعمال

  • زمین کی تیاری کے وقت ایک بوری نائٹرو فاس، ایک سے ڈیڑھ بوری سنگل سپر فاسفیٹ اور ایک بوری سلفیٹ آف پوٹاش ڈالیں۔
  • پہلے پانی پر ایک بوری نائٹروفاس اور ایک بوری یوریا کا استعمال کریں، اس سے فصل کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

بی۔او۔پی کا استعمال

  • بی۔او۔پی یعنی بائیو آرگینو فاسفیٹ بھی فاسفورسی کھادوں کا اچھا ذریعہ ہے۔ جس میں 20 فیصد فاسفورس کے ساتھ ساتھ 15 فیصد نامیاتی مادہ اور کروڑوں فاسفورس حل کرنے والے بیکٹیریا شامل ہوتے ہیں۔
  • پودوں کے لئے 90 دن تک فاسفورس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زمین میں موجود منجمد فاسفورس کو بھی حل پذیر بناتی ہے۔جس سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • ڈی۔اے۔پی کی فی ایکڑ مقدار آدھی کم کر کے 1 سے 2 بیگ بی۔او۔پی بیجائی کے وقت استعمال کریں۔

زنک کا استعمال:

  • پہلے پانی پر ایک بوری یوریا کے ساتھ 27 فیصد والا ز نک 6 کلو گرام فی ایکڑ یا زنک سلفیٹ 10 فیصد 10 لیٹر یا زنک سلفیٹ 5 فیصد(چیلیٹیڈ) 2 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کرنے سے فصل کی غذائی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں 15 فیصد تک اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ زنک کا استعمال کلورفل میں اضافے کے ساتھ ساتھ گندم کے جھاڑ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

نوٹ: فاسفورس اور زنک کے استعمال میں 15-20 دن کا وقفہ لازمی رکھیں۔ چیلیٹیڈ زنک فاسفورس کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہے۔

پراڈکٹ مقدار فی ایکڑ طریقہ استعمال
زنک سلفیٹ 27 فیصد 6 کلوگرام فی ایکڑ پہلے پانی پر ےیوریا کے ساتھ ملا کر چھٹہ کریں۔
زنک 5 فیصد EDTA CHELATED 2 کلوگرام پہلے پانی پر ےیوریا کے ساتھ ملا کر چھٹہ کریں۔
زنک سلفیٹ 10 فیصد 10 لیٹر پہلے پانی پر ےیوریا کے ساتھ ملا کر فلڈ کریں۔

بوران کا استعمال

  • جو زمینیں نہری پانی سے سیراب ہوتی ہیں اور pH آٹھ سے کم ہے ،ان میں بوران کی کمی نہیں دیکھی گئی، البتہ ریتلی اور کلراٹھی زمینوں میں بوران کی کمی کا مسئلہ پایا جاتا ہے۔ کلراٹھی زمینوں میں بوران موجود تو ہوتا ہے، مگر پودوں کو دستیاب نہیں ہوتا۔ بوران کی کمی کی صورت میں سٹے کا بالائی حصہ خالی اور دانہ باریک رہ جاتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے 3 سے 4 کلو بوران( سونا بوران یا بورو سٹار) زمین کی تیاری کے وقت استعمال کریں۔
  • دوسری صورت میں شگوفے بننے کے مراحل سے لے کر گوبھ کی حالت تک بوران 20 ٰفیصد بحساب 125 گرام یا بوران 5 فیصد 500 ملی لیٹر فی ایکڑ 15 دنوں کے وقفہ سے 2 دفعہ سپرے کرنا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

پوٹاش کا استعمال

گندم کی فصل میں پوٹاش کا استعمال فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ سٹے کی لمبائی، دانوں کی تعداد میں اضافہ، دانوں کے وزن میں اضافہ کے ساتھ ساتھ رنگت اور ذائیقے میں بہتری پوٹاش کی مرہون منت ہے۔ گندم کی فصل میں پوٹاش درج زیل طریقوں سے استعمال کی جا سکتی ہے۔

کھاد مقدار وقت اور طریقہ استعمال
ایس او پی(50 کلوگرام) 50 کلو گرام فی ایکڑ بیجائی کے وقت چھٹہ کریں۔
ایس او پی(ڈبلیو-ایس) 25 کلوگرام 12.5 کلوگرام فی ایکڑ گوبھ کی حالت میں فلڈ کریں۔
پوٹاش 30 فیصد (لیکوئیڈ) 10 لیٹر فی ایکڑ گوبھ کی حالت میں فلڈ کریں۔
پوٹاش 30 فیصد (فولئیر گریڈ) 1 لیٹر فی ایکڑ گوبھ کی حالت میں سپرے کریں۔

پوٹاشیم ہیومیٹ کا استعمال

پاکستا ن کی زمینیں نامیاتی مادہ کی کمی کا شکار ہیں۔ پوٹاشیم ہیومیٹ کا استعمال زمینی اصلاح کار کے طور پر کر کے پیداور میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

  • گندم کے جھاڑ میں اضافہ کرے
  • زمین میں جمی فاسفورس گھلائے، پودوں کیلئے کارآمد بنائے
  • جڑیں گھنی اور بہتر پرورش پائیں
  • زمین کی پی ایچ کو فصل دوست بنائے
  • مائیکرونیوٹرینٹس کو چیلیٹ کر کے پودوں میں دستیابی کو بہتر بنائیں۔
  • 5-10 لیٹر فی ایکڑ پہلے یا دوسرے پانی پر یوریا کے ساتھ ملا کر فلڈ کریں۔





آبپاشی


آبپاشی کے اہم مراحل:

پہلا پانی: شگوفے نکلتے وقت ( یعنی بوائی کے 20تا 25 دن بعد ) پانی کی کمی جھاڑ بننے کے عمل کو متائثر کرے گی
دوسرا پانی: تنوں کی بڑھوتری کے وقت(50-45 دن بعد)
تیسرا پانی : گوبھ کی حالت میں ( یعنی بوائی کے 80 تا 95 دن بعد) پانی کی کمی پیداوار بری طرح متائثر کرے گی۔
چوتھا پانی: بیج کی دودھیا حالت پر (یعنی بوائی کے 105 تا 115 دن بعد) پانی کی کمی دانے پچکنے کا باعث بنے گی۔

نوٹ:زمین کی ساخت اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پانی لگانے کے وقت میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ دھان کے بعد کاشت کی گئی گندم میں پہلا پانی اگاو کے 30-35 دن بعد لگائیں۔ اگر پانی کی کمی ہو تو تنوں کی بڑھوتری والا پانی نہ لگائیں۔






جڑی بوٹیاں اور ان کا انسداد



دمبی سٹی،جو، سلائی سٹی، جنگلی پالک، جنگلی مٹر، بلی بوٹی، باتھو،لہلی، مینا، سنجی،ریواڑی، جنگلی جئی اور شاہترہ گندم کی فصل کی اہم جڑی بوٹیاں ہیں، اوران کی بروقت تلفی نہایت ضروری امر ہے۔ اگر ان جڑی بوٹیوں کا مناسب تدارک نہ کیا جائے تو پیداوار میں35 سے 42 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔


لہلی

فصل کے تمام مراحل پر حملہ آور ہوتی ہے، اس کے تدارک کے لئے نیچے دئیے گئی زہروں کا استعمال کریں۔


دمبی سٹی

دمبی سٹی کے تدارک کے لئے نیچے دئیے گئی زہروں کا استعمال کریں۔


جنگلی جئی

جنگلی جئی اور دمب گھاس کے لئے نیچے دئیے گئی زہروں کا استعمال کریں۔


بلی بوٹی

گندم کی فصل میں موجود چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے لئے نیچے دئیے گئی زہروں کا استعمال کریں۔


ریواڑی

اس کے تدارک کے لئے نیچے دئیے گئی زہروں کا استعمال کریں۔



کیمیائی انسداد کے متعلق اہم ہدایات:

سپرے کے بعد جڑی بوٹیوں کو چارہ کے طور پر ہرگز استعمال نہ کریں۔
تیز ہوا، بارش یا دھند میں سپرے نہ کریں۔ سپرے کے لئے صاف پانی کا استعمال کریں۔
معیاری سپرے کے لئے (فلیٹ فین یا ٹی جیٹ) نوزل کا استعمال کریں۔
پانی کی فی ایکڑ مقدار 120 لیٹر رکھیں۔ سپرے ہمیشہ ہل وتر میں کریں۔

دوہری افادیت کی حامل زہریں:

یہ زہریں چوڑے اور نو کیلے پتوں والی( دونوں قسم کی) جڑی بوٹیوں کو تلف کر نے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اٹلانٹس سپر 100 گرام فی ایکڑ اور بکٹرل سپر ملا کر35 سے 40 دن کی فصل پر سپرے کرنے سے گندم میں موجود چوڑے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: اٹلانٹس سپر، ریتلی اور کلراٹھی زمین کے لیے موزوں نہیں ہے۔

گندم کی فصل میں موجود جڑی بوٹیوں کے لیے کیمیائی آمیزے:

  • میزو سلفیوران میتھائل 0.9 فیصد +ایم سی پی اے آئسو سیٹائل 23.5 فیصد + فلورا سلم 0.6 فیصد ( 25% او ڈی ٹرائی الٹرا یا برمودا) بحساب 400 ملی لیٹر ،120 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کرنے سے درج ذیل جڑی بوٹیوں کا تدارک ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
  • دمبی سٹی, جنگلی جئی, باتھو, کرنڈ, مینا, سنجی, جنگلی پالک, جنگلی ہالوں, بلی بوٹی
  • فائینڈس ایکسٹرا 0.6 فیصد (میزوسلفیوران+آییڈو سلفیوران) 100 گرام فی ایکڑ استعمال کرنے سے چوڑے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
  • میزو سلفیوران میتھائل (3 فیصد او ڈی) بحساب 160 ملی لیٹر 120 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کرنے سے درج ذیل جڑی بوٹیوں کا تدارک ممکن ہے۔
  • شاہترہ, جنگلی جئی, دمبی سٹی, بلی بوٹی
  • سلفوسلفوران 75فیصد 13.5 گرام فی 120 لیٹر پانی میں سپرے کرنے سے دمبی سٹی، جنگلی جئی،سرسوں،مینا،سینجی دغیرہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔(سپرے پہلے پانی کے بعد ہل وتر میں کریں) نوٹ: اوپر دئیے گئے مکسچر استعمال کرنے کی صورت میں اسپرے ہمیشہ ہل وتر میں کریں اور اسپرے کے 10 دن بعد تک فصل کو پانی نہ لگائیں۔
  • فلوراکسی پائر میپٹائل 10 فیصد + ایم سی پی اے 40 فیصد (50 فیصد ای سی) بحساب 350 ملی لیٹر 120 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کرنے سے درج ذیل جڑی بوٹیوں مٹری, لہلی, سینجی, مینا, باتھو, جنگلی پالک, دھودک, شاہترہ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
  • بر موکسنل+ 30% ایم سی پی اے 30% 300 ملی لیٹر فی ایکڑ یا بر موکسنل 20 فیصد + ایم سی پی اے 20 فیصد 500 ملی لیٹر فی ایکڑ اسپرے کرنے سے پالک، باتھو، مینا، سینجی، بلی بوٹی اور سرسوں پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔
  • سائپرافلیون+آسوپروٹون(ویڈ آل،ہارڈ ہٹ) 25 فیصد او ڈی 1100 ملی لیٹر فی 120 لیٹر پانی میں اسپرے کرنے سے سلائی سٹی، دمبی سٹی،جنگلی جئی،پوا گھاس،مینا،سنجی کو بہترین طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ سپرے کا بہترین وقت جب گندم 4 پتوں کی حالت سے گانٹھیں بننے کے مرحلے تک ہو اور جڑی بوٹیاں 2-5 پتوں کی حالت میں ہوں۔(اس زہر کو 4 پتوں کی حالت سے پہلے اور گانٹھ بننے کے بعد سفارش نہیں کیا جاتا)۔

    نوٹ: ایسی فصلیں جہاں لہلی کا مسئلہ زیادہ ہو وہاں کارفینٹرازون زہر والے مکسچر استعمال کریں۔
  • مٹری اور کنڈا پالک والی فصلو ں میں فلوراکسی پائر میپٹائل + ایم سی پی اے + فلوراسلم 50 فیصد ایس سی 300-350 ملی لیٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔




بیماریاں اور ان کا انسداد

کنگی (Rust)


گندم کے پتوں اور تنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اسکا حملہ فصل پر فروری سے لیکر مارچ کے آخر تک ہوتا ہے، موسم سرما میں بارشیں اس بیماری کے پھیلنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔


  • زرد کنگی
  • بھوری کنگی
  • سیاہ کنگی

نوٹ: کنگی سے بچاؤ کے لئے پروپیکونازول بحساب 200ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کرنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔



زردکنگی (Yellow Rust)

اگر ایک ہفتہ تک درجہ حرارت10 سے15 ڈگری سینٹی گریڈ اور فضا میں نمی کا تناسب 80 فیصد یا اس سے زیادہ ہوتو اس کے پھیلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور یہ گندم کے پتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔زرد کنگی کا زیادہ حملہ شمالی اور وسطی پنجاب میں ہوتا ہے۔




بھوری کنگی (Brown Leaf Rust)

گندم کے بڑھوتری کے مراحل میں ایک ہفتے یا اس سے زیادہ دنوں تک کم درجہ حرارت اور ہوا میں زیادہ نمی کا تناسب اس بیماری کے پھیلنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔اس کا زیادہ حملہ جنوبی پنجاب میں دیکھنے میں آتا ہے۔



سیاہ کنگی (Stem Rust)

تنے کی کنگی ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اسکا زیادہ حملہ تب ہوتا ہوتا ہے، جب دن گرم ، رات کا درجہ حرارت معتدل اور بارش یا پودوں پہ شبنم پڑی ہو۔نائٹروجنی کھاد کا بے دریغ استعمال بھی اس بیماری کو بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔

کانگیاری ( Smut)


یہ بیماری فصل کے سٹوں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اور دانوں کی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ اقسام:جزوی کانگیاری، کھلی کانگیاری۔

جزوی کانگیاری (Kernal Bunt)

س بیماری سے پودے کے چند شگوفے متاثر ہوتے ہیں، کچھ سٹے اور ہر سٹے میں چند دانے بیماری کے حملے کا شکار ہوتے ہیں اور باقی میں سٹارچ محفوظ رہتا ہے۔


کھلی کانگیاری(Loose Smut)

یہ بیماری سیاہ سفوفی خوشوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے، سیاہ ر نگ کا یہ سفوف جو کہ دانوں کی جگہ بیمار خوشوں میں نظر آتا ہے، دراصل بیماری پیدا کرنے والی پھپھوندی کے جراثیم ہوتے ہیں۔

نوٹ:کھلی کانگیاری اور کرنال بنٹ کے تدارک کے لئے بوائی سے پہلے بیج کوتھائیوفینیٹ میتھائل بحساب دو تا اڑھائی گرام فی کلو گرام بیج کو لگا کر کاشت کریں۔


گندم کا اکھیڑا ( Foot Rot of Wheat)

اس بیماری کا حملہ پودوں پر دو دفعہ ہوتا ہے، پہلا حملہ فصل کے ابتدائی مراحل میں اور دوسرا سٹہ بننے کے مراحل میں، حملے کی صورت میں پودوں کی جڑیں گلنا شروع ہو جاتی ہیں اور چھوٹے پودے مر جاتے ہیں جبکہ جوان پودے مرتے تو نہیں البتہ سٹہ دانوں سے یا تو بالکل خالی رہتا ہے یا دانے چھوٹے رہ جاتے ہیں۔


گندم کی سفوفی پھپھوند (Powdery Mildew of Wheat)

یہ بیماری گندم کےتمام مراحل پر حملہ آور ہوتی ہے، لیکن اگر حملہ چھوٹے پودوں سے ہی شروع ہو جاےٗ تو نقصان زیادہ ہوتا ہے۔دانے باریک رہ جاتے ہیں اور پیداوار متاثر ہوتی ہے

نوٹ:گندم کا اکھیڑا اور سفوفی پھپھوند کے تدارک کے لئے بوائی سے پہلے بیج کو ٹیبو کونا زول بحساب 4 ملی لیٹر فی کلو گرام لگا کر بیج کاشت کریں۔

سیپوريا ليف بلاچ




نقصان دہ کیڑےاور انکا انسداد


کالی چیونٹی (Black Ant)

بوائی کے وقت دانے اٹھا کر لے جاتی ہے۔بوائی سے پہلے اس کی بلوں پر سفارش کردہ زہر کا دھوڑا کریں۔


دیمک (Termite)

اس کا حملہ فصل کی جڑوں پر ہوتا ہے۔متاثرہ پودے پیلے پڑ جاتے ہیں اور شدید حملہ کی صورت میں مر جاتے ہیں۔اسکے تدارک کے لئےکلورپائیرفاس بحساب ڈیرھ سے دو لیٹر یا پھر فیپرونل5 ایس سی بحساب960 ملی لیٹر فی ایکڑ یا ریجینٹ 2 پیک فی ایکڑ پہلی آبپاشی کے وقت استعمال کریں۔


گندم کا سست تیلہ (Aphid )

یہ کیڑا پودوں کے شگوفوں اور سٹوں کا رس چوستا ہے۔وسط فروری تا مارچ میں اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے، اور شدید حملے کی صورت میں دانے سُکڑ جاتے ہیں اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔اسکے تدارک کے لئےکاربووسلفان120ای سی بحساب 500 ملی لیٹر فی ایکڑ یا کلوتھیانیڈن 20 فیصد 150 ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں۔


امریکن سنڈی (Helicoverpa spp)

اس کا حملہ کپاس کے علاقوں میں ہوتا ہے۔سنڈیاں نومبر دسمبر میں شگوفوں کو کھاتی ہیں اور مارچ سے اپریل تک سٹوں پر حملہ کرتی ہیں۔اسکے تدارک کے لئے پروفینوفاس500 ای سی بحساب 1000 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔


لشکری سنڈی Army worm

یہ کیڑا گندم کے پتوں اور سٹوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔اسکے تدارک کے لیے لیوفینوران بحساب 200ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔


فصل کی برداشت


دانے کی بھرائی میں درجہ حرارت کا اثر

  • 19-22 ڈگری ٹمپریچر پر دانے کی بھرائی بہترین ہوتی ہے
  • رات کے درجہ حرارت میں 1 ڈگری اضافہ ہونے سے سے پیداوار میں 6-10 فیصد کمی ہوتی ہے۔
  • 3-5 دنوں تک اگر ٹمپریچر 32 ڈگری رہے تو پودا ہیٹ شاک کا شکار ہوجاتا ہے۔
  • 42 ڈگری درجہ حرارت پر کلوروفل بننے کا عمل رک جاتا ہے۔
  • 30-38 ڈگری ٹمپریچر 20-44 فیصد پیداوار میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
  • 20ڈگری کے بعد درجہ حرارت میں ہر 5 ڈگری کا اضافی دانے کی بھرائی میں درکار دنوں میں 12 دنوں کی کمی کا باعث بنتا ہے۔



گندم میں آخری پانی لگاتے وقت کیلشیم، امائینو اسیڈز، بائیوسٹیمولینٹس کا استعمال ٹرمینل ہیٹ سٹریس(گرمی کی شدت) کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔ جسے سے بھرپور پیداوار حاصل ہوتی ہے۔



ایگرولکس کمپنی کا گرین لینڈ(کیلشیم 12.5 فیصد) 10 لیٹر فی ایکڑ گندم کو آخری پانی لگاتے وقت فلڈ کیا جا سکتا ہے یا فیصل فارمز کا کالنیبو (10 فیصد کیلشیم) 1 لیٹر فی ایکڑ جب دانہ دودھیا حالت میں ہو سپرے کیا جا سکتا ہے۔



برداشت



جب فصل اچھی طرح پک کر تیار ہو جائے اور اس میں نمی کا تناسب 10 تا12 فیصد کے درمیان رہ جائے تو کٹائی اور گہائی کا عمل شروع کیا جائے۔ صبح اور شام کے اوقات میں کٹائی کا عمل روک دیا جائے۔ کم پکی ہوئی حالت میں کاٹی گئی گندم میں گھنڈیوں کی تعداد زیادہ رہ جاتی ہے۔ کٹائی کا عمل اچھی طرح پکنے پر شروع کیا جائے۔ نامکمل پکی گندم کی گہائی کے دوران ٹریکٹر کا زور زیادہ لگتا ہے اور تھریشر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر کٹائی میں زیادہ تاخیر ہو جائے تو دانے جھڑنے سے کافی حصہ ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ پکنے پر بعض اقسام کے دانے زیادہ جھڑتے ہیں ۔ سفید سٹے والی کئی اقسام مثلاً اکبر 2019 زیادہ پک جائے تو اس کے دانے جھڑتے ہیں اور سٹے بھی ٹوٹتے ہیں۔ دانے گرانے والی اقسام کو زیادہ پکنے سے پہلے کاٹ لیا جائے ۔ کمبائن ہارویسٹر کا استعمال اچھی طرح دھوپ نکلنے پر شروع کیا جائے۔ لیکن اچھی طرح پکی ہوئی گندم کی برداشت کا عمل شام کے بعد بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔