کریلے کا پیداواری منصوبہ!


تعارف اور اہمیت:

کر یلا اہم خصوصیات کی حامل موسم گرما کی مقبول سبزی ہے ۔ یہ نظام انہضام کی خرابی ، ملیر یا ، چکن پاکس، ذیابیطس اور کینسر جیسی بیماریوں کے خلاف جسم میں قوت مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اسے پنجاب بھر میں کاشت کیا جا تا ہے مگر فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، رحیم یارخان، بہاولپور، بہاولنگر، ملتان اور وہاڑی سبز کریلے اور بیج پیدا کرنے کے لیے جبکہ شیخو پورہ، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، اوکاڑہ اور حافظ آبا دسبز کریلے کے لیے موزوں ہیں ۔

موزوں زمین اور آب و ہوا :


موزوں زمین:

کریلے کی کاشت کے لیے زرخیز میرا ز مین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں ہے۔

زمین کی تیاری:

کاشت سے ایک ماہ پہلے کھیت میں 10 تا12 ٹن گو بر کی گلی سڑی کھاد فی ایکڑ ڈالیں اور ہل چلا کر ز مین میں اچھی طرح ملا دیں اور کھیت کو پانی لگاد یں، وتر آنے پر دو تین بارسہا گہ دے کر زمین تیار کریں اور وتر د باد یں۔ اس طرح جڑی بوٹیاں اگ آئیں گی اور تلف ہو جائیں گی ۔ پھر دو تین بار ہل اور سہا گہ چلا کر زمین نرم اور بھربھری کر لیں ۔

شرح بیج اور طریقہ کاشت :


شرح بیج:

اچھی روئیدگی والا ڈیڑھ تا دو کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔

وقت کاشت:

عام فصل وسط فروری تا مارچ کاشت کی جاتی ہے جو کہ مئی سے ستمبر تک پھل دیتی ہے جبکہ پچھیتی قسم یعنی سفینہ جولائی میں کاشت ہوتی ہےاور اس کا پھل اگست تا دسمبر تک حاصل ہوتا ہے ۔

طریقہ کاشت:

تیارشدہ زمین میں 8 فٹ کے فاصلے پر نشان لگا کر پٹڑیاں بنائیں اور پٹڑیوں کے درمیان ڈیڑھ فٹ چوڑی کھالی بنائیں۔ پٹڑیوں کے دونوں کناروں پر ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر 2 تا3 بیج فی سوراخ کاشت کریں اور بیج کی گہرائی ایک انچ سے زیادہ نہ ہو۔ بیج کو کاشت سے پہلے سفارش کر دہ پھپھوندی کش دوائی بحساب 2 تا3 گرام فی کلوگرام ضرور لگائیں ۔ اس کے بعد کھیت میں آبپاشی کر دیں۔

طریقہ کاشت:


پلاسٹک نیٹ کا استعمال:

فصل پلاسٹک نیٹ پر چڑھانے سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے کھیت میں پودوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے ۔فصل پلاسٹک نیٹ پر چڑھانے کے لیے 2 میٹر پر نشان لگا کر پٹڑ یاں بنائیں اور جب پودے 4 سے 5 پتے نکال لیں تو پلاسٹک نیٹ لگا کر بیلوں کو نیٹ چڑھا دیں۔ اس فصل کو بے موسمی سبزیوں والی ٹنل کے اندر کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے، اس مقصد کے لیے پلاسٹک اتارنے کے بعد ٹنل پر نیٹ لگائیں ۔

کریلے کی منظورشدہ اقسام:


فیصل آباد لانگ، اسود اور سفینہ کریلے کی منظور شدہ اقسام ہیں۔

فیصل آباد لانگ:

اس قسم کے پھل کا رنگ ہلکا سبز ہوتا ہے اور یہ جلد پک کر تیار ہوجاتی ہے۔یہ قسم کریلے کی بیماریوں بالخصوص پتوں کی بیماری مائروتھیشم کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہے ۔اس قسم کی پیداواری صلاحیت 18 ٹن فی ہیکٹر ہے۔

اسود:

اس قسم کا پھل گہرے سبز رنگ اور درمیانے سائز کا ہوتا ہے۔ یہ پھل مارکیٹ میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔یہ قسم باقی اقسام کی نسبت گرمی کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے ۔ اس قسم کی پیداواری صلاحیت 24 ٹن فی ہیکٹر ہے۔

سفینہ:

اس قسم کا پھل سبز رنگ اور بڑے سائز کا ہوتا ہے۔ یہ قسم کریلے کی بیماریوں مائروتھیشم اور وائرس کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہے اور اچھی پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔

آبپاشی:

پہلی آبپاشی کاشت کے فورا بعد کریں اور کوشش کریں کہ پانی بجائی والی جگہ پر نہ چڑھے ورنہ زمین کرنڈ ہونے سے اگاؤ متاثر ہوگا۔اس کے بعد ہفتہ وار آبپاشی کرتے رہیں ۔ جب موسم گرم ہو جاۓ تو آبپاشی چار دن کے وقفہ سے کریں یا پھر ضرورت کے مطابق کریں۔ چونکہ کریلے کی فصل موسم گرما کی فصل ہے، اس لیے اس کی آبپاشی کے سلسلہ میں غفلت نہیں برتنی چاہیے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کر جتنی زمین ٹھنڈی رہے گی اتنے ہی پھول زیادہ آئیں گے اور پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

جڑی بوٹیوں کا انسداد:

کریلے کی فصل کو اٹ سٹ سوانکی، مدھانہ، لمب گھاس، چولائی قلفہ، ڈیلا اور ہزار دانی جیسی جڑی بوٹیاں نقصان پہنچاتی ہیں۔ انسداد کے لئےپینڈی میتھالین بحساب 1000 ملی لٹر فی ایکڑ 100 لٹر پانی میں ملا کر کاشت کے ایک دن بعد وتر میں سپرے کی جاسکتی ہے۔

چھدرائی وگوڈی:

جب فصل تین پتے نکال لے تو ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر صحت مند پودا چھوڑ کر فالتو پودے نکال دیں ۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیےگوڈی کریں اور پودوں کے گرد مٹی بھی چڑھائیں۔

کھادوں کا استعمال :

تیار شدہ زمین میں 7 تا 8فٹ کے فاصلہ پر نشان لگا کر پٹڑیاں بنائیں ۔ پٹڑیوں کے درمیان پانی لگانے کیلئے ڈیڑھ فٹ چوڑی نالی ہونی چاہیے۔ پٹڑیوں کے دونوں کناروں پر ایک فٹ کے فاصلہ پر 2تا 3 بیج ایک جگہ پر چو کا کریں ۔ اس طریقہ سے لگائی گئی فصل کے پودے جب اگ آئیں تو ہر سوراخ میں ایک پودا چھوڑ کر فالتو پودے نکال دیں۔

زمین کی زرخیزی مقدار غذائی اجزاء بوریاں فی ایکڑ
اوسط زرخیز زمین 45کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
40 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
25 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ
پونے دو بوری ڈی اے پی +
ڈیڑھ بوری یوریا +
ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ استعمال کریں ۔

نوٹ:فاسفورس اور پوٹاش کی ساری اور نائٹروجن کی ایک تہائی مقدار بوقت بوائی استعمال کریں ۔ نائٹروجن کی بقیہ مقدار تین اقساط میں یعنی ایک قسط پھول آنے پر اور اس کے بعد دواقساط ہر تین چنائی کے بعد استعمال کر یں۔

کریلے کی بیماریاں اور ان کا انسداد:


روئیں دار پھپھوند :

پتوں پر نچلی سطح پر نمدار دھبے ظاہر ہوتے ہیں ۔ یہ دھبے نوکدار اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں جو بعد میں گہرے بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پودے کے تمام پتے سوکھ جاتے ہیں اور پودا مرجھا جا تا ہے ۔ بیماری 15سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور 80 فیصد سے زیادہ نمی اور ابر آلود موسم میں تیزی سے پھیلتی ہے۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیے فلومارف + فوسٹائیل ایلومینیم بحساب 5 گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں یا مینکو زیب +سائی موکسنل بحساب 6 گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ یا پروپی نیب 70 فیصد 500 گرام یا پروپی نیب + میٹالیکسل ایم 45 فیصد 500 گرام فی 100 لیٹر پانی میں ملا کر استعمال کریں۔



سفوفی پھپھوند :

پتوں کی نچلی سطح پر سفید رنگ کے گول گول دھبےنمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ان دھبوں میں سفید رنگ کا پاؤڈر بھی موجود ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ دھبے پودوں کے دیگر حصوں مثلا تنے اور پھل وغیرہ پر ظاہر ہوتے ہیں ۔ شدید حملے کی صورت میں پتے بھورے رنگ کے ہو کر مرجھا جاتے ہیں ۔ بیلوں کی افزائش رک جاتی ہے اور اکثر اوقات پھل کا ذائقہ بھی متاثر ہو جا تا ہے ۔ 20 سے 25 سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور فضا میں 50 فیصد سے کم نمی کی وجہ سے بیماری کی شدت میں اضافہ ہو جا تا ہے۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیےتھائیوفینیٹ میتھائیل بحساب 4گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ یا ٹرائی فلوکسی سٹروبن + ٹیباکونازول 75 فیصد 65 گرام یا ایزاکسی سٹروبن+ٹیباکونازول 100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں۔



اکھیڑا:

پودے کے پتے زرد رنگ کے ہوجاتے ہیں اور ان کی بڑھوتری مکمل طور پر رک جاتی ہے ۔ متاثرہ پودے کا تناسطح زمین کے قریب سے صحت مند پودوں سے نسبتا زیادہ پھولا ہوا نظر آتا ہے اور اگر پودے کو اکھاڑ کر دیکھا جاۓ تو جڑیں گلی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ زیرزمین درجہ حرارت کا بڑھ جانا اور خشک زمین میں اس بیماری کا حملہ شدید ہو جاتا ہے۔
تدارک: بوائی سے پہلے بیج کو پھپھوندی کش زہر لگائیں۔ متائثرہ پودے نظر آنے پر تھائیوفینیٹ میتھائیل 70 فیصد 1 کلو گرام یا فوسٹائیل ایلومینیم 80 فیصد ا کلو گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔



مرجھاؤ:

بیماری زیر زمین پھپھوندی کی وجہ سے ہوتی ہے حملہ کی صورت میں پودے کو نمکیات اور پانی کی ترسیل رک جاتی ہے اور اس کی جڑیں گل جاتی ہیں ۔ پودے کے پتے سوکھ جاتے ہیں اور پودا ایک سے دو دنوں میں مر جا تا ہے۔ یہ بیماری فصل پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے ۔
تدارک: بوائی سے پہلے بیج کو پھپھوندی کش زہر لگائیں۔ متائثرہ پودے نظر آنے پر تھائیوفینیٹ میتھائیل 70 فیصد 1 کلو گرام یا فوسٹائیل ایلومینیم 80 فیصد ا کلو گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔



مائروتھیشم کا جھلساؤ:

یہ بیماری پتوں کے کنارے پر ہلکے زرد رنگ کے دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ دھبوں کا رنگ بعد میں گہرا پیلا اور پھر بھورا اور آخر کار کالا ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے دھبے بڑے کر ہو کر سارے پتے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ بیمار پودوں کے خس و خاشاک اور بیج کے ذریعے جولائی سے ستمبر کے مہینوں میں پھیلتی ہے ۔ موزوں ترین درجہ حرارت 28 سے 38 سینٹی گریڈ ہے ۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیے کاشت سے پہلے بیج کو پھپھوند کش زہر لازمی لگائیں۔ یا بیجائی کے بعد فورا بعد تھائیوفینیٹ میتھائیل 70 فیصد 1 کلو گرام فی ایکڑ حفاظتی طور پر فلڈ کریں۔



ضرر رساں کیڑے اور ان کا انسداد:

سست تیلہ:

سست تیلہ کے بالغ اور بچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوس کر نقصان پہنچاتے ہیں ۔اپنے جسم سے ایک میٹھا مادہ خارج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ قسم کی ارلی لگ جاتی ہے اور پتوں کا ضیائی تالیف کا عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔ اس کا حملہ وسط فروری سے مارچ میں شدید ہوتا ہے ۔ چھوٹے پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور پودے خاطر خواہ پیداوار بھی نہیں دیتے ۔ ہوا میں زیادہ نمی اور کم درجہ حرارت والا موسم سست تیلے کی افزائش میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے، شدید حملے کی صورت میں فصل کالی نظر آتی ہے۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیےامیڈ اکلو پر ڈ 20 ایس ایل بحساب 250 ملی لیٹر یا اسیٹا میپرڈ 20 ایس پی بحساب 125 گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔



سفید مکھی :

سفید مکھی کا مکمل پروانہ بہت چھوٹا ،جسم کا رنگ زردی مائل اور پروانہ سفید رنگ کے پاؤڈر سے ڈھکا ہوتا ہے ۔اس لیے اس کیڑے کا رنگ سفید نظر آ تا ہے۔ بالغ اور بچے دونوں رس چوس کر پودوں کو کمزور کر دیتے ہیں ۔ رس چوسنے کے علاوہ سفید مکھی میٹھا لیس دار مادہ بھی خارج کرتی ہےجس کی وجہ سےسیاہ رنگ کی ارلی لگ جانے سے پودے کا حملہ شدہ حصہ سیاہ ہو جا تا ہے ۔ ضیائی تالیف کم ہونے کی وجہ سے خوراک کم بنتی ہے اور پودے کمزور ہو جاتے ہیں ۔ شدید حملہ پیداوار میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔ سفید مکھی خشک آب و ہوا اور زیادہ درجہ حرارت جیسے حالات میں زیادہ حملہ کرتی ہے جون سے اگست کے مہینوں میں سبزیوں پر کافی تعداد میں موجود ہوتی ہے۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کےلیےاسیٹا میپرڈ 20 ایس پی بحساب 125 گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔



لیف مائنر:

اس کیڑے کا حملہ ٹنل میں کاشت کی صورت میں زیادہ شدت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ کیڑا پتوں کا سبز مادہ کھرچ کر کھا جا تا ہے اور پتوں پر بے ڈھنگی سفید لکیریں نظر آتی ہیں۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کےلیےبائی فینتھرین 10 فیصد 330 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی سپرے کریں۔



پھل کی مکھی:

عموما زردی مائل رنگ کی ہوتی ہے ۔ مادہ مکھیاں پھل میں باریک سوراخ کر کے اس میں انڈے دیتی ہیں ۔سوراخ بعد میں بند ہو جا تا ہے ۔ان انڈوں سے سنڈیاں نکل کر اندر ہی اندر پھل کا گودا کھا جاتی ہیں۔جس کی وجہ سے پھل خراب ہو جا تا ہے اور قابلِ استعمال نہیں رہتا۔
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیے کلوتھیانیڈن 20 فیصد 200 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی استعمال کریں۔



لال بھونڈی:

یہ لال رنگ کی لمبوتری سی بھونڈی ہے ۔جس کے پیٹ کا نچلا حصہ کالے رنگ کا ہوتا ہے ۔ یہ بھونڈی پتوں کو کھا جاتی ہے جس سے پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔اگر حملہ شدید ہو تو پودے مر جاتے ہیں۔اُگتے ہوئے پودوں پر اس کیٹرے کا حملہ فصل کو شدید نقصان پہنچا تا ہے اس کا کو یاز مین کے اندر دراڑوں میں موجود ہوتا ہے ۔ جس سے بھونڈی نکل کر نقصان پہنچاتی ہے
تدارک: اس کے مربوط انسداد کے لیےبائی فینتھرین10 ای سی بحساب 330ملی لیٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔



برداشت:

عام طور پر پہلی چنائی کاشت کے دو ماہ بعد کی جاتی ہے ۔ پھل کی برداشت اس کے پکنے کے مناسبت سے ہر چوتھے دن کرتے رہیں۔ چنائی صبح یا شام کے وقت کریں ۔ سبزی کو سایہ دار جگہ میں رکھیں اور گیلے سوتی کپڑے سے ڈھانپ دیں تا کہ یہ مرجھا نہ جائے ۔اچھی فصل سے عام طور پر 15 تا20 چنائیاں حاصل ہوتی ہیں ۔