کپاس کا منافع بخش پیداواری پروگرام
محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی سفارشات
ضروری انتباہ
بی ٹی اقسام کی کاشت کے ساتھ کھیت میں روایتی ( غیر بی ٹی) اقسام کی موجودگی بھی ضروری ہے تا کہ حملہ آور سنڈیوں میں
بی ٹی اقسام
کے خلاف قوت مدافعت پیدا نہ ہو سکے اس لئے کاشتکاروں کو چاہئے کہ ان کے کل کا شتہ رقبہ کپاس کا 10 سے 20 فیصد لازمی
طور پر روائتی
اقسام پرمشتمل ہو۔ مزید یہ کہ اگر بی ٹی اقسام کے ساتھ 20 فیصد رقبہ پر روایتی اقسام کاشت کی گئی ہوں تو ان پر کیٹرے
کا حملہ معاشی حد سے بڑھنے
کی صورت میں کیڑے مارز ہر سپرے کیا جاۓ ۔
کپاس کی بہترین پیداوار کیلئے رہنما اُصول
- ہمیشہ کپاس کی منظور شدہ اقسام کا صاف ستھرا صحت مند سنکر بیج استعمال کریں
- پودوں کی تعداد اور ورائٹی کے بارے میں دی گئی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری کریں
- جڑی بوٹیاں بروقت تلف کریں
- پیسٹ سکاؤٹنگ کرنے کے بعد صحیح دوائی کا انتخاب اور بروقت سپرے کو یقینی بنائیں
- کھادوں کا متناسب استعمال کریں
- فصل کو کسی بھی مرحلے پر پانی کی کمی نہ آنے دیں
- رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً سفید مکھی کو ابتدا ہی سے کنٹرول کریں
- گلابی سنڈی کے مؤثر اور بروقت کنٹرول کیلئے فیرو مون ٹریپ لگایئں اور معاشی نقصان کی حد پر ہی پہنچے پر سفارش کردہ
ادویات کا اسپرے کریں
زمین کی تیاری
کپاس کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے ایسی زرخیز میراز مین بہتر رہتی ہے جو تیاری کے بعد بھر بھری اور دانے دار ہو
جاۓ۔ اس میں نامیاتی مادہ کی مقدار بہتر ہو، پانی زیادہ جذب کر نے اور دیر تک وتر قائم رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔
زمین کی پہلی سطح سخت نہ ہوتا کہ پودے کی جڑوں کو نیچے اور اطراف میں پھیلنے میں دشواری نہ آۓ ۔اس لیے زمین کی تیاری
کے لئے گہرا ہل چلائیں تا کہ پودے کی جڑ میں آسانی سے گہرائی تک جاسکیں اور وتر دیر تک قائم رہے۔ بیچ کے بہتر اگاؤ اور
پانی کے با کفایت استعمال کے لیے زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لیولر کر یں۔ پچھلی فصلات کی باقیات کو جلانے کی بجائے
انہیں اچھی طرح زمین میں ملا دینا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے روٹاویٹر، ڈسک ہیرو یامٹی پلٹنے والا ہل استعمال کر یں تا کہ
بوائی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے ۔سبز کھاد کے طور پر استعمال ہونے والی فصلات کو 30 دن پہلے وتر زمین میں دبا
دیا جاۓ اور کھیت میں دبانے کے 10 دن کے اندر اندر پانی لگا دیا جائے تا کہ سبز کھادا چھی طرح گل سڑ جاۓ ۔ گلنے کے عمل
کو تیز کرنے کے لئے فصل کو زمین میں دباتے وقت 1/2 بوری یوریا فی ایکڑ ڈالیں ۔
بیج کو زہر لگا نے کا عمل
- شروع کے 30دن تک فصل کی رس چوسنے والے کیڑوں سے بچت
- بھرپور ُاگاو
- صحت مند پودے
- بھرپور پیداوار
- زہر پودے کی جڑوں میں شامل ہو کر لمبے عرصے تک کنٹرول دے
نوٹ:
- کلوتھیانیڈن 20 فیصد 10 ملی لیٹر فی کلو بیج
- ایزوکسی سٹروبن + کلو تھیانیڈن 62.5 فیصد بحساب 9 گرام فی کلو بیج
- امیڈاکلوپرڈ 70 فیصد 5 گرام فی کلو بیج
- امیڈاکلوپرڈ+ڈائی فیناکونازول 36 فیصد 12 گرام فی کلو بیج
طریقہ کاشت
کاشت بذریعہ ڈرل
کپاس کی کاشت خریف ڈرل کے ساتھ قطاروں میں اڑھائی فٹ کے فاصلہ پر کرنی چاہیے اور بیج دو سے اڑھائی انچ کی گہرائی تک
بوئیں ۔ اس طرح کاشت کی گئی فصل میں جب اس کا قد ڈیڑھ سے دوفٹ ہو جاۓ تو پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پرمٹی
چڑھا کر پٹڑیاں بناد میں کیونکہ پانی کی کمی کے پیش نظر ایسا کرنا بہت ضروری ہے ۔ اس کے درج ذیل فوائد ہوتے ہیں ۔
فوائد
- پانی کی 20 تا30 فیصد تک بچت ہوتی ہے
- جڑی بوٹیوں کا کنٹرول آسان ہوتا ہے
- کفایت شعار طریقہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں کسی خاص مشینری کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے
- کم اور زیادہ پودوں والے دونوں پیداواری نظاموں کیلئے مناسب ہے
- فصل کا قد مناسب
رہتا ہے
- کھاد کا بہتر استعمال ہوتا ہے
- زیادہ بارش کی صورت میں پانی کا بہتر نکاس ہوسکتا ہے
- سپرے کرنا آسان ہوتا ہے
- ڈوڈیاں
اور ٹینڈوں کے گرنے میں کمی ہوتی ہے
- زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے
پڑیوں پر کاشت
مشینی کاشت
- مشینی کاشت کیلئے کھیت کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے ۔
- مشینی کاشت خشک پڑ یوں پر کر میں
- مشین سے بیج لگانے کے بعد نالیوں میں پانی
کی سطح بیج سے دوا نچ نیچے رکھیں
- کاشت کے پہلے پانی کے بعد دوسرا پانی اگیتی کاشت کے لئے 5 تا 6 دن اور درمیانی کاشت کی صورت میں 3 تا 4 دن کے وقفہ
سے لگائیں تا کہ بیج کا اگاؤ بہتر ہو
ہاتھ سے کاشت(چوپا)
- ہاتھ سے بیج لگانے کی صورت میں پہلے نالیوں میں 6 تا 7 انچ کی گہرائی تک پانی لگائیں ۔
- پانی لگانے کے فورا بعد پانی کی سطح
سے ایک انچ اوپر ہاتھ سے بیج لگائیں ۔
- اگر نانے رہ جائیں تو دوسرے پانی کے وتر میں پورے کر میں ۔
پٹڑیوں پر کاشت کے فوائد
- بیج کا اگا کا اچھا اور پودوں کی پوری تعداد حاصل ہوتی ہے
- تھوڑے وقت میں زیادہ رقبے پر کاشت ہو سکتی ہے
- روائتی کاشت کی نسبت پانی کی بچت ہوتی ہے
- بارش کے نقصانات سے بچت ہوتی ہے
- ہاتھ سے بیج لگانے کی صورت میں بیج کی بچت ہوتی ہے
- بارش اور آبپاشی کی صورت میں بھی سپرے کرنا آسان ہوتا ہے
- فصل کی بڑھوتری مناسب ہوتی ہے
- کلر اٹھی زمینوں میں اگاؤ بہتر ہوتا ہے
بارشوں کے نقصانات سے بچنے یا کم کرنے کے اقدامات
درج ذیل حفاظتی اقدامات سے پارشوں کے نقصان سے فصل کو بچایا جاسکتا ہے۔
- کلر اٹھی باڑہ زمینوں میں کاشت کھیلیوں (Ridges) یا پر یوں (Bed & Furrow) پر کی جائے
- نشیبی کھیتوں میں کپاس کی فصل کاشت نہ کریں
- اگر کاشت کرنی مقصود ہو تو کھیلیوں یا پٹڑیوں پر کریں
- بارش کے بعد کھیت وتر آنے پر گوڈی ضرور کریں اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں
- کپاس کے کھیت کے ساتھ چھوٹے چھوٹے تالاب بنائے جائیں تا کہ بارشوں کی صورت میں پانی تالاب میں جمع ہو سکے اور فصل
کو نقصان نہ پہنچے
- بارش کی وجہ سے اگر کھیت جلدی و تر نہ آئیں تو دستی سپرے پمپ یا پاور سپرئیر (Power Sprayers) سے ضرورت پڑنے پر
زہروں کا سپرے کریں
پیداواری ٹیکنالوجی
| وقت کاشت |
طریقہ کاشت |
مقداربیج / ایکڑ |
فاصلہ۔ پودے سےپودے |
فاصلہ۔ لائین سے لائین |
پودوں کی تعداد/ایکڑ |
| یکم اپریل -30 اپریل |
ڈرل کاشت |
8-10 کلوگرام |
12-15انچ |
30انچ |
14000-17500 |
| کھیلیؤں پر کاشت |
6-5کلوگرام |
30انچ |
| یکم مئی-31مئی |
ڈرل کاشت |
10-8 کلوگرام |
6-9انچ |
30انچ |
23000-35000 |
| کھیلیؤں پر کاشت |
8-6کلوگرام |
30انچ |
آبپاشی
آبپاشی زمین کی زرخیزی ، طریقہ کاشت، قسم ، موسمی حالات اور فصل کی حالت کو مد نظر رکھ کر کی جائے۔ پانی کی کمی کی
علامات کھیت کے نسبتا اونچے حصے پر پہلے واضح ہوتی ہیں جس میں پتوں کا نیلگوں ہونا ، اوپر والی شاخوں کی درمیانی
لمبائی میں کمی ، سفید پھول کا چوٹی پر آنا ، تنے کے اوپر کے حصہ کا تیزی سے سرخ ہونا اور چوٹی کے پتوں کا کھر درا
ہونا شامل ہے۔ فصل پر ایسی علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے آبپاشی کی جائے تا کہ فصل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
| طریقہ کاشت |
آبپاشی |
| لائنوں میں کاشت کے لئے |
پہلی آبپاشی بجائی کے 30 تا 35 دن اور بقیہ 12 تا 15 دن کے وقفے سے کریں۔ اگر کپاس کے بعد گندم کاشت کرنی ہو
تو آخری آبپاشی 10 اکتوبر تک کریں۔ |
| پٹڑیوں پر کاشت کے لئے |
بھائی کے بعد پہلا پانی 3 تا 4 دن, دوسرا، تیسرا اور چوتھا پانی 6 تا 9 دن کے وقفے سے کریں اور باقیہ پانی 15
دن کے وقفہ سے لگائیں اگر کپاس کے بعد گندم کاشت کرنی ہو تو آخری پانی 15 اکتوبر تک لگائیں۔ |
نوٹ : موسم کے مطابق آبپاشی کے وقفہ میں ردو بدل کریں۔
فصل کے پانی مانگنے کی نشانیاں
( صبح10 بجے سے پہلے اور 5 بجے کے بعد)
- صبح اور شام کو پودے مرجھانے لگیں۔
- کونپل کو مروڑیں ٹوٹنے کی بجائے لچک دار ہو جائے۔
- پودوں کی چوٹیوں کے نزدیک سفید پھول فصل کو آبپاشی کی ضرورت کی نشان دہی کرتے ہیں۔
- پودے کی گانٹھوںکا درمیانی فاصلہ کم ہو جائے گا۔
واٹر سکاؤٹنگ
صبح 10 بجے کھیت کے ایک کونے سے داخل ہوں اور چند قدم اندر جا کر چھ مختلف پودوں کا بغور مشاہدہ اس طرح کریں کہ :
- پہلے پودے کے اوپر کے پتوں کا بغور جائزہ لیں کہ پتے گملائے ہوئے ہیں یا نہیں
- دوسرے پودے کے تنے کا مشاہدہ کریں کہ تنے کے اوپری تین چوتھائی حصہ پر سرخی (لالی) ہے یا نہیں ہے
- تیسرے پودے کی چوٹی کو توڑیں اور دیکھیں کہ چوٹی تڑخ کی آواز کر کے نہیں ٹوٹتی ہے
- چوتھے پودے کی چھتری کے نیچے سے زمین کی سطح سے دو انچ نیچے کی مٹی مٹھی میں دبانے سے گولا بنتا ہے یا نہیں
- پانچویں پودے پر یہ دیکھیں کہ پودے پر گانٹھ کا درمیانی فاصلہ کم ہو رہا ہے یا نہیں
- چھٹے پودے کی چوٹی پر سفید پھول کی موجودگی ہے یا نہیں۔
- اسی طرح تین مختلف جگہوں سے پودوں کا معائنہ کریں اور اگر چھ میں سے چار عوامل مثبت ہوں تو کھیت کو پانی دے دینا
چاہیے۔ یہ علامات کھیت میں اونچی اور کلر والی جگہوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔
- آبپاشی کی کمی والے علاقوں میں متبادل کھیلیوں میں پانی دینے سے بھی بہتر پیداوار لی جاسکتی ہے۔
- اس طریقہ آبپاشی میں تمام کھیلیوں کی نمبر نگ کرنے کے بعد پہلی آبپاشی پر صرف جفت کھیلیوں میں پانی چھوڑا جاتا ہے
اور طاق کھیلیوں کو بند رکھا جاتا ہے اور دوسری آبپاشی پر صرف طاق کھیلیوں میں پانی چھوڑا جاتا ہے اور جفت کھیلیوں
کو بند رکھا جاتا ہے۔
پیداواری مراحل
|
بڑھوتری کی حالتیں
|
وقت(دنوں میں)
|
| 1 |
بیجائی سے اگاؤ
|
5 سے 7 دن
|
| 2 |
اگاو ٔسے پہلی گڈی
|
27 سے 35 دن
|
| 3 |
گڈی سے پھول بننے کا مرحلہ
|
20 سے 28 دن
|
| 4 |
بیجائی سے پہلا پھول
|
45 سے 50 دن
|
| 5 |
پھول سے ٹینڈے کی بھرائی مکمل ہونے کا عمل
|
55 سے 65 دن
|
- درجہ حرارت کی کمی بیشی کے لحاظ سے اڑھائی سے ساڑھے تین دن کے دوران تنے پر ایک نئی گاتھ کا اضافہ ہوتا ہے
- دو گانٹھوں کا درمیانی فاصلہ (internodes) موافق یا نا موافق زمینی اور موسمی حالات کے مطابق گھٹتا بڑھتا رہتا ہے
21 دنوں میں گڈی سے پھول بننے کا مرحلہ
کپاس کا پھول
پولی نیشن
چھدرائی کا عمل
بیجائی کے فوراً بعد کے مسائل
- تھایئو فینیٹ میتھائل 1000 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
- فیپرنل 5 فیصد 960 ملی لیٹر فی ایکڑ فلڈ کریں۔
ابتدائی 45 دنوں میں بڑھوتری کی اہمیت
جڑ کی نشوونما
پیداور میں اضافے کے 2 اہم عوامل
خورا کی اجزا میں کمی کی علامات
نائٹروجن :
پتوں کا رنگ ہلکا سبز ہو جاتا ہے جو کہ بعد میں پیلے رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے پرانے اور نیچے والے پتے
متاثر
ہوتے ہیں۔ فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔
فاسفورس:
پودوں کی نشو و نمارک جاتی ہے، پودوں کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے اور پتے گہرے سبز ہو جاتے ہیں ۔ ٹینڈے دیر سے بنتے ہیں۔
ٹینڈوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور ٹینڈے دیر سے سے کھلتے ہیں۔ تنے کا رنگ زمین کی سطح سے تھوڑا اوپر پیلا ہوتا ہے۔
پوٹاش :
پتوں کے کنارے پہلے اور زردی مائل ہو جاتے ہیں درمیانی رگوں کا رنگ سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ زیادہ کمی کی صورت میں پتے
کناروں سے خشک ہو جاتے ہیں اور جھلسے ہوئے نظر آتے ہیں۔
زنگ :
نئے پتوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور اندرونی پیلا پن آجاتا ہے نمایاں علامت گانٹھوں کے درمیان فاصلہ کم ہو جانا ہے۔
پتوں کی رگیں
دھندلی ( کالی ) ہو جاتی ہیں اور پتے زنگ آلود نظر آتے ہیں۔
بوران :
پتوں میں پیلا پن آجاتا ہے، جھریاں پڑ جاتی ہیں جس سے ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور پتے نیچے کی جانب مڑ جاتے ہیں۔
اوسط درجے کی زرخیز زمینوں کے لئے متوازن کھادوں کا استعمال
| نمبر شمار
|
کھاد |
وقت کاشت
|
بیجائی کے 25-30 دن بعد
|
بیجائی کے50-60 دن بعد
|
بیجائی کے 90-100 دن بعد
|
بیجائی کے 120-130 دن بعد
|
بیجائی کے 150-160 دن بعد
|
| 1 |
فاسفورسی کھاد
|
1 بوری ڈی۔اے۔پی+ 2بوری بی-او-پی
|
|
|
|
|
|
| 2 |
پوٹاش
|
|
|
|
12.5 کلوگرام
(ایس او پی) فلڈنگ
|
500 ملی لیٹر پوٹاش 30 فیصد
(اسپرے)
|
500 ملی لیٹر پوٹاش 30 فیصد (اسپرے) |
| 3 |
نائٹروجنی کھاد
|
|
آدھی بوری یوریا
|
1 بوری یوریا
|
آدھی بوری یوریا
|
آدھی بوری یوریا
|
آدھی بوری یوریا
|
| 4 |
زنک 27 فیصد
|
|
6 کلو گرام فی ایکڑ
|
|
|
|
|
| 5 |
سلفر 80 فیصد
|
|
|
2 کلوگرام
|
|
|
|
متوازن کھادوں کا استعمال
| خوراکی اجزأ کی ضرورت
|
کھادوں کی سفارشات فی ایکڑ
|
| نائیٹروجن
|
فاسفورس
|
پوٹاش
|
ڈی-اے-پی
|
یوریا
|
ایس او پی
|
| 70-100 کلوگرام
|
30-40
|
38
|
-2 بوری
|
3-3.5 بوری
|
1.5-1بوری
|
کپاس کی فصل میں زنک کا استعمال
- زنک کی کمی کو پورا کر کےپودوں کو صحتمند بنائے
- زمین کو زرخیز بنا کر پودوں کی نشوونما کو تیز کرے
- دیگر کھادوں کی افادیت میں اضافہ کرے
- سبز مادہ یعنی کلورو فل کی مقدار میں اضافہ کرے
ملٹی مایئکرو نیوٹرینٹس
(زنک،آئرن،کاپر،بوران،میگانیز)10 فیصد 60-90-120 دن کی فصل پر 3 بار اسپرے کرنے سے بہترین نتائج ملتے ہیں۔
| قسم زنک
|
مقدار فی ایکڑ
|
وقت / طریقہ استعمال
|
| چیلیٹیڈ زنک 5 فیصد
|
2 کلوگرام
|
بیجائی کے 30 دن بعد یوریا کے ساتھ ملا کر استعمال کریں۔
|
| زنک سلفیٹ 10 فیصد
|
10 لیٹر
|
پوٹاشیم ہیومیٹ
پودوں کی شاندار بڑھوتری - بھرپور پھول و پھل
- زمیں کی ساخت کو بہتر بنا کر کپاس کی جڑوں کی کارکردگی میں اضافہ کرے
- زمین کو نرم اور بھر بھرا بنا کر بڑھوتری میں شاندار اضافہ کرے
- اجزائے صغیرہ کا استعمال بہتر کرے
- زمینی وتر کو زیادہ دیر تک قائم رکھے
مقدار فی ایکڑ
وقت / طریقہ استعمال
- بیجائی کے 60 دن بعد یوریا کے ساتھ ملا کر استعمال کریں۔
کپاس کی پیداوار میں پوٹاش کا کردار
- پودوں میں پانی کی ترسیل اور استعمال میں بہتری لا کر پودوں کو جاندار بناتا ہے۔
- پوٹاش شدید موسمی حالات میں کپاس کو دباو سے بچاتی ہے۔
- پھل گڈی کی تعداد میں اضافہ کرتی ہے۔
- ٹینڈے کے سائز میں اضافہ کر کے وزن دار بناتی ہے۔
| قسم پوٹاش
|
مقدار
|
طریقہ استعمال
|
| پوٹاش 50 فیصد(18 فیصد سلفر)
|
12.5 کلو گرام فی ایکڑ
|
90-100 دن کی فصل میں فلڈ کریں۔
30 دن بعد دوسری فلڈنگ کریں
|
| پوٹاش 30 فیصد
|
10 لیٹرفی ایکڑ
|
90-100 دن کی فصل میں فلڈ کریں۔
30 دن بعد دوسری فلڈنگ کریں
|
| پوٹاش 30 فیصد(فولئیر گریڈ) کیٹالسٹ،گروتھ ہیلپر پلس
|
500 ملی لیٹر
|
90 دن کے بعد 15 دن کے وقفے سے 2 اسپرے کریں۔
|
کپاس کی گُڈی کے گرنے/ خراب ہونے کا عمل
کپاس کے پھل کا کیرا
- ہارمونز کا توازن خراب (آگزن بمقابلہ ایتھائلین)
- طویل بادل موسم
- غذائیت کی کمی
- درجہ حرارت
- پودوں کی زیادہ تعداد، کیڑوں اور بیماریوں کا حملہ
علاج
- اماِئینو ایسڈز کا اسپرے
- ملٹی ماِئیکرونیوٹرینٹس کا اسپرے
- بوران کا اسپرے
- این-پی-کے فولئیر گریڈ کا اسپرے
کپاس کی جڑی بوٹیاں
| گھاس نما/ڈیلے کے خاندان |
چوڑے پتوں والی
|
| ڈیلا |
اِٹ سٹ |
| سوانکی |
ماکڑو/ ھرن کھری/ پان پتہ
|
| مدھانا |
چبڑ |
| کتاگھاس
|
جنگلی پٹ سن
|
| سوڈان گھاس
|
تاندلہ
|
| کھبل گھاس
|
|
جڑی بوٹیوں کا مکمل تدارک
- پیداوار کا اوسطاً 50 نقصان
- مؤثر علاج۔ اگنے ہی نہ دیا جائے۔
- دستی گوڈی سے بر وقت تلف کرنا ۔
- 60 دن تک جڑی بوٹیوں سے پاک فصل بہترین فصل
کپاس کی جڑی بوٹیوں کا روائتی کنٹرول
بذریعہ گوڈی
گوڈی سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے علاوہ ضمنی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مثلاً کھیت میں نمی محفوظ رہتی ہے اور زمین میں ہوا
کا گزر رہتا ہے۔ رجر کے استعمال سے گوڈی آسانی سے ہوتی ہے اور خرچ بھی کم آتا ہے۔
خشک طریقہ
یہ گوڈی بوائی کے بعد اور پہلے پانی سے قبل کی جاتی ہے۔ خشک گوڈی ایک ہی کافی ہوتی ہے بشرطیکہ جڑی بوٹیوں کی تلفی ہو
جائے۔ خشک گوڈی کی گہرائی دو تا اڑھائی انچ رکھیں تا کہ وتر ضائع نہ ہو۔ گوڈی کرتے وقت کوشش کی جائے کہ لائنوں میں
پودوں کے درمیان مٹی گرے۔ مزید یہ کہ بارش کے بعد گوڈی ضرور کریں۔
وتر کا طریقہ
اگر وسائل اجازت دیں تو ہر آبپاشی اور بارش کے بعد گوڈی کی جائے ۔ گوڈی کا عمل اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک گوڈی سے
کپاس کے پودے ٹوٹنے کا احتمال نہ ہو۔ گوڈی مناسب وتر میں کی جائے تا کہ ڈھیلے نہ بنیں ۔
کیا گوڑی بہتر حل ہے ؟
کچھ کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے گوڈی کرتے ہیں لیکن گوڈی سے جڑی بوٹیاں صحیح طور پر تلف نہیں ہوتیں اور پودوں
کی جڑوں کو نقصان پہنچتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ جب تک کا شتکار گوڈی کرتے ہیں اسوقت تک جڑی بوٹیاں کپاس کے پودوں
کے لیے درکار پانی اور غذا میں حصے دار بن چکی ہوتی ہیں جو کہ دراصل پودے کو ملنی چاہیے نتیجتا پودے کمزور ہو جاتے ہیں
اور پیداوار میں کمی ہو جاتی ہے۔
تمام جڑی بوٹی مار دوائوں کے لئے ٹی جیٹ نوزل یا فلیٹ فین نوزل استعمال کریں (ہالوکون نوزل ہرگز استعمال نہ کریں۔)
اسپرے کے لئے پانی کی فی ایکڑ مقدار 120 لیٹر رکھیں۔اسپرے بیجائی کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر کریں۔
| اگاؤ کے بعد استعمال ہونے والی جڑی بوٹیاں
|
| جڑی بوٹی مار زہر
|
قسم جڑی بوٹیاں
|
مقدار فی ایکڑ
|
| گلائیفوسیٹ 48 فیصد
|
تمام جڑی بوٹیاں(شیلڈ لگا کراسپرے کریں)
|
1200 ملی لیٹر
|
| امونیم سالٹ آف گلائیفوسیٹ 75 فیصد
(ٹاپ کئیر ) جعفر ایگرو سروسز
|
تمام جڑی بوٹیاں(شیلڈ لگا کراسپرے کریں)
|
150گرام فی 20 لیٹر لیٹر پانی
|
| پیراکواٹ 20 فیصد
|
تمام جڑی بوٹیاں(شیلڈ لگا کراسپرے کریں)
|
1000 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
| قوزیلوفوپ پی 10.8 فیصد
|
سوانکی، کھبل
|
350-500 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
جڑی بوٹی مار زرعی ادویات کے اسپرے کے لئے اہم ہدایات
- اسپرے کے لئے صاف پانی کا استعمال کریں اور ٹی-جیٹ یا فوم نوزل استعمال کریں۔
- اسپرے صبح یا شام کے وقت کریں اور اسپرے مشین کی کیلیبریشن کریں۔
- سپرے کے دوران نوزل ٹھیک حالت میں ہو اور اسکا پریشر یکساں ہو۔
- پانی کی کم سے کم مقدار 120 لیٹر فی ایکڑ رکھیں۔
ابتدائی ایام میں حملہ آور ہونے والے اہم کیڑے
ابتدائی ایام میں شدید نقصان
| پیسٹ |
نقصان کی معاشی حد
|
زہر |
مقدار فی ایکڑ
|
| سبز تیلہ(جیسڈ)
|
1 بالغ یا بچہ فی پتہ
|
ڈائی نوٹی فیوران 30 فیصد
|
75 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
| ڈائی نوٹی فیوران 20 فیصد(اوشن )
|
100 گرام فی ایکڑ
|
| نائٹن پائرام 50 فیصد
|
50 گرام فی ایکڑ
|
| ایسیفیٹ 75 فیصد
|
250 گرام فی ایکڑ
|
| نائٹن پائرام10 فیصد
|
250 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
| سلفوکسافلور
|
30 گرام فی ایکڑ
|
| فلونیکامیڈ 50 فیصد(اولالا)
|
60 گرام فی ایکڑ
|
تھرپس (Thrips)
تھرپس (Thrips)
- فصل کو ابتدائی دنوں میں شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
- گرم اور خشک موسم میں افزائش نسل تیزی سے کرتا ہے۔
- سارا سال موجود رہتا ہے اور مختلف فصلوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔
- حملہ شدہ پتے چڑ مڑ جاتے ہیں اور سوکھ کر جھڑ جاتے ہیں۔
- شدید حملے کی صورت میں پید اور بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
- یہ کیٹر ا اپنے درانتی نمادانت سے پتے کی نچلی سطح کو کھرچ کر رس چوستا ہے۔
- جس کی وجہ سے پتے کی اوپر والی جھلی نیچے والی جھلی سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
- حملہ شدہ پتے کمزور ہو کر اوپر کی طرف مڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور بالآخر سوکھ کر جھڑ جاتے ہیں۔
تھرپس کا کنٹرول
| پیسٹ |
نقصان کی معاشی حد
|
زہر |
مقدار فی ایکڑ
|
| تھرپس |
8-10 بالغ یا بچہ فی پتہ |
کلورفیناپائیر 36 فیصد
|
150 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
| ڈائی میتھویئیٹ 40 فیصد(ڈیناڈیم)
|
320-250 گرام فی ایکڑ
|
| سپنٹورام 12 فیصد
|
60 ملی لیٹر
|
| اایسیفیٹ 75 فیصد
|
250 گرام فی ایکڑ
|
| کلورفیناپائیر 36 فیصد +فیپرونل 5 فیصد
(شدید حملے کی صورت میں)
|
100 ملی لیٹر+320 ملی لیٹر
|
| بہتر کنٹرول کے لئے 5-6 دن بعد اسپرے دوہراہیں
|
سفید مکھی
- کپاس کا سب سے زیادہ نقصان دہ پیسٹ
- 50 سے زیادہ وائرل بیماریوں کا ویکٹر
- کاٹن لیف کرل وائرس کا ویکٹر
- کپاس کے ساتھ ساتھ 600 سے زیادہ پودوں پے حملہ کرتی ہے۔
- خشک اور گرم مرطوب موسم پسند کرتی ہے۔
بالغ مکھی:
- 1-1.5 ملی میٹر
- گرمیوں میں 2-5 دن تک زندہ رہتی ہے۔
- ایک مادہ 110 سے 250 تک انڈے دیتی ہے۔
- اپریل سے ستمبر تک 3-5 دنوں میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔
- انڈے پتوں کی نیچلی سطح پر علیحدہ علیحدہ دیتی ہے۔
- سارہ سال اسکی نسل چلتی رہتی ہے۔
سفید مکھی: نقصان کا طریقہ کار
- پتے کا رس چوسنا
- زہریلے مادوں کا اخراج
- گلوکوز خارج کر کے سُوٹی مولڈ فنگس کا باعث
- کاٹن لیف کرل وائرس کا ویکٹر
| پیسٹ |
نقصان کی معاشی حد
|
زہر |
مقدار فی ایکڑ
|
| سفید مکھی |
5 بالغ یا بچے یا دونوں ملا کر فی پتہ
|
اسیٹا میپرڈ+پائری پراکسی فن 41.6 فیصد
(بالغ+بچے)
|
250 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
| بیپروفیزن 25 فیصد (بچے)
|
600 گرام فی ایکڑ
|
| پائری پراکسی فن 10.8 فیصد(بچے)
|
400-500 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
| پائری فلوکونازون (متوئی جعفر ایگرو سروسز)
|
200 گرام فی ایکڑ
|
| ڈائیا فینتھوران 50 فیصد(بالغ)
|
150-100 ملی لیٹر+320 ملی لیٹر
|
| فلونیکامیڈ 50 فیصد(اولالا)
|
80 گرام فی ایکڑ
|
| سپائیرو ٹیٹرا میٹ 24 فیصد(مووینٹو بائر پاکستان)
|
125-250 ملی لیٹر
|
| بہتر کنٹرول کے لئے بالغ+بچوں کا زہر ملا کر اسپرے کریں۔
کپاس بڑی ہونے کی صورت میں پانی کی مقدار 150 لیٹر رکھیں۔ فصل کالی ہونے کی صورت میں ساتھ پھپھوندی کش زہر ملا
کر اسپرے کریں۔
|
ملی بگ
- شروع میں جڑی بوٹیوں پر نسل سازی کرتی ہے۔
- بھنڈی، بینگن اور ٹماٹر پسندیدہ پودے
- مادہ پروں کے بِنا جبکہ نرپَر دار ہوتے ہیں۔
- مینگو بگ سے ملتی جلتی جبکہ سائز میں چھوٹی
ملی بگ
- مادہ ایک تھیلی میں 150-600تک انڈے دیتی ہے۔
- پیسٹ میں زیادہ تر تعداد مادہ ملی بگھ کی ہوتی ہے۔
- 3-9 دنوں میں انڈٖوں سے بچے نکل آتےہیں، جنکو کرالرز کہا جاتا ہے۔
- مادہ کی انڈوں والی تھیلی کو Ovisac کہا جاتا ہے، جو کہ حفاظتی کام بھی کرتی ہے۔
- کرالرز متاثرہ پودوں سے صحت مند پودوں پر شفٹ ہوتے ہیں۔
- بارش، پانی، ہوا اور دیگر حشرات کے ذریعے ٹرانسپورٹ۔
- شدید حملے کی صورت میں پودے شاخوں کی طرف سے سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔
- اسکے جسم سے لیس دار مادہ نکلتا ہے جو کہ سُوٹی مولڈ فنگس کا باعث بنتا ہے۔
ریڈ کاٹن بگ اور ڈسکی کاٹن بگ
- ریڈ کاٹن بگ اور ڈسکی کاٹن بگ (Stainer) کپاس کی روئی کو داغدار کرتے ہیں جس سے کپاس کا معیار گر جاتا ہے۔
- یہ کیڑا بالغ اور بچہ دونوں حالتوں میں سبز ٹینڈے میں اپنی سوئی (Style) داخل کر کے بیج کا رس چوس لیتا ہے۔ متاثرہ
بیج اور روٹی پر بیکٹیریا اور فنجائی کا حملہ ہوتا ہے۔ نتیجتا ٹینڈا پورا نہیں کھلتا اور غیر معیاری روئی پیدا ہوتی
ہے۔
- کیڑے کے فضلات سے بھی روئی آلودہ ہو جاتی ہے یا پھر جننگ فیکٹریوں میں جنگ کے عمل میں یہ کیڑا کچلا جاتا ہے تو اس
کی باقیات بھی روئی پر داغ بنانے کا سبب بنتی ہیں ۔ بیچ پر شدید حملے کی صورت میں بیج میں تیل کے اجزا کم ہو جاتے
ہیں اور بیج کا اگاؤ
بھی متاثر ہوتا ہے۔
- کپاس ، بھنڈی توری، جوار، باجرہ اور پٹ سن اس کے میزبان پودے ہیں۔
- زیادہ نمی اور کم درجہ حرارت میں ان کا حملہ بڑھ جاتا ہے اور ستمبر سے نومبر تک یہ کیڑے کپاس پر حملہ آور ہوتے
ہیں۔
ریڈ کاٹن بگ
ڈسکی بگ
کلوتھیانیڈن 20 فیصد ایس سی
- ملی بگ،ریڈ کاٹن بگ اور ڈسکی کاٹن بگ کا ایک ساتھ خاتمہ
- ایک جدید کیڑے مار زہر ہے ۔ جو کپاس کی فصل میں گدھیڑی (ملی بگ) کی تلفی کے لئے انتہائی مئوثر ہے
- ایک منفرد زہر ہے ۔ جو ڈسکی کاٹن بگ کے کنٹرول کے لئے نہایت کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے ۔
- بالغ سفیدمکھی پر بھی موئثر کنٹرول دیتا ہے۔
مقدار فی ایکڑ: 150 سے 200 ملی لیٹر
گلابی سنڈی
- بالغ پروانے کا رنگ گہرا بھورا، جس کے اگلے پر نو کیلے اور پچھلے چوڑے ہوتے ہیں۔
- مادہ چھوٹے سبز ٹینڈوں ، تازہ پتوں ، نئی شاخوں اور پھولوں پر ۱۰۰۔ ۲۰۰
انڈے دیتی ہے
- نوزائیدہ سنڈی سفید ، جو بعد میں گلابی ہو جاتی ہے۔
- پہلے مرحلے میں سنڈی کا حملہ مدھانی نما پھولوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
- ٹینڈے پر حملہ کی صورت میں سوراخ بہت ہی باریک ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتا۔
- حملہ شدہ ٹینڈے جسامت میں چھوٹے رہ جاتے ہیں اور ٹھیک طرح کھل نہیں سکتے۔
- سنڈی تمام عمر ایک ہی ٹینڈے کے اندر رہتی ہے۔
- آخری نسل کی سنڈیاں ٹینڈے کے اندر دو بنولوں کو جوڑ کر سر دیاں ان میں گزارتی ہیں
- قدرے کم گرم اور بارشوں کے موسم میں اسکی افزائش تیزی سے ہوتی ہے۔
سنڈی کی حالتیں
- گلابی سنڈی یا لاروا کی 3 حالتیں ہوتی ہے۔
- پہلی 2 حالتوں میں سنڈی کا رنگ ہلکا سبز اور بعد میں گلابی ہوجاتا ہے۔ جبکہ سر کا رنگ بھورا ہوتا ہے۔
- گلابی سنڈی اپنی ایک نسل تقریباً 41 دِنوں میں مکمل کرتی ہے۔
گلابی سنڈی کا نقصان
- گلابی سنڈی کپاس کی ڈوڈی کی پتیوں، پھولوں اور ٹینڈوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
- حملہ شدہ ڈوڈیاں کھل نہیں سکتیں۔ حملہ شدہ پھول مدھانی نما ہو جاتے ہیں۔
- یہ سنڈی پھول کے نر اور مادہ حصوں کو کھا جاتی ہے۔
- نرم ٹینڈوں میں سنڈی داخل ہو کر بیج کو اندر ہی اندر کھاتی رہتی ہے۔ سوراخ بند ہو جاتا ہے اور نظر نہیں آتا۔
- ٹینڈے صحیح طرح کھل نہیں سکتے اور پھٹی گلابی رنگ کی ہوجاتی ہے۔
| پیسٹ |
نقصان کی معاشی حد
|
زہر |
مقدار فی ایکڑ
|
| گلابی سنڈی |
5 سنڈ یاں فی 100 نرم ٹینڈے |
ایبامیکٹن 1.9 فیصد ای سی
یا
بائی فینتھرین 10 فیصد
|
400 ملی لیٹر
یا
330 ملی لیٹر
|
| ٹرائی ایزو فاس 40 فیصد |
500 سے 660 ملی لیٹر |
| ایبا میکٹن+ٹرائی ایزو فاس 20 فیصد |
660 ملی لیٹر فی ایکڑ |
| لیمبڈا سائی ہیلو تھرین+ٹرائی ایزو فاس 21 فیصد |
550-660 ملی لیٹر |
| سپنٹورام 12 فیصد |
80 ملی لیٹر فی ایکڑ |
| لیمبڈا سائی ہیلوتھرین 2.5 فیصد |
330ملی لیٹر |
| گیما سائی ہیلوتھرین 6 فیصد |
100 ملی لیٹر فی ایکڑ |
گلابی سنڈی کیلئے جنسی پھندوں کا طریقہ
- ایکڑ کے بلاک میں چار جنسی پھندے لگانے چاہئیں ۔ اس طرح ہر پانچ ایکڑ میں ایک پھندا آئے گا۔ اگر بلاک 120 ایکڑ سے
بڑا ہو تو ہر 110 ایکڑ میں ایک پھندا لگانا چاہیئے ۔ مجموعی طور پر کم از کم پانچ پھندے ہونے چاہئیں ۔ ہر صبح کو
تمام پھندوں میں پروانوں کی تعداد معلوم
کریں اور اس کی اوسط نکال لیں۔
- اگر کپاس کا رقبہ 150ایکڑ سے زیادہ ہو تو پی بی روپ کا استعمال گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔
- گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے اپریل سے نومبر تک 20 جنسی پھندے یا ڈیٹا ٹریپ فی ہیکٹر لگائیں اور کیپسول ہر 15 دن کے
بعد
تبدیل کریں۔
امریکن سنڈی
- بڑی سنڈی کی رنگت خوراک کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔
سنڈی کے 6 انسٹار یا حالتیں ہوتی ہیں۔
- 13-22 دن بعد امریکن سنڈی پیوپا کی حالت میں چلی جاتی ہے
- 10-15 دن پیوپا کی حالت زمین کے اندر گزارتی ہے۔
- پروانے کے اگلے پَر بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔درمیان میں سیاہ دھبہ ہوتا ہے۔
پودے کے نرم حصوں پر ایک ایک کر کے انڈےدیتا ہے۔
- انڈے کا رنگ فرٹیلائیزیشن کے بعد بھورا ہوجاتا ہے
- انڈے سے 1 ہفتے میں بچے نکل آتے ہیں۔
شروع میں سنڈی کا رنگ ہلکا سبز یا بھورا ہوتا ہے
سنڈی کی لمبائی تقریبا 1.5 انچ تک ہوتی ہے۔
- امریکن سنڈی ڈوڈیوں، پھولوں اور ٹینڈوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
- ٹینڈے کو کھاتے وقت سنڈی کا سر والا حصہ اکثر اندر اور باقی باہر رہتا ہے۔
- پھل دار حصے کم پڑ جائیں تو یہ سنڈی پتوں کو بھی کھا جاتی ہے۔
- ایک سنڈی بہت سے پھل دار حصوں اور پودوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
- اس سنڈی کا حملہ عموما پھول آنے پر شروع ہوتا ہے اور فصل کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
- ذیادہ بارشیں اور کھیت میں موجود جڑی بوٹیاں اسکے حملے میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
ایک سال میں امریکن سنڈی 11 نسلیں مکمل کرتی ہے۔
چتکبری سنڈی
چتکبر ی سنڈی کا نقصان
- سنڈی کے جسم پر بال اور کالے بھورے دھبے ہوتے ہیں۔
- سنڈی پھل آنے سے پہلے نرم کونپلوں میں سوراخ کر کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور حملہ شدہ کونپل خشک ہو جاتی ہے۔
- ڈوڈیوں، پھولوں اور ٹینڈوں میں داخل ہو کر نقصان پہنچاتی ہے۔
- سنڈی کا فضلہ ٹینڈے میں بناے ہوئے سوراخ سے باہر نکلتا رہتا ہے۔
- بارشیں اسکے حملے میں شدت کا باعث بنتی ہیں۔
- چتکبری سنڈی کا حملہ نان-بی ٹی اقسام پر زیادہ ہوتا ہے۔
| پیسٹ |
معاشی حد
|
زہر |
مقدار فی ایکڑ
|
| چتکبری سنڈی
|
3 سنڈیاں فی 25 پودے
|
لیمبڈا سائی ہیلوتھرین 2.5 ای سی
|
330 ملی لیٹر
|
|
سائیپر میتھرین
|
330 ملی لیٹر
|
| لشکر ی سنڈی
|
حملہ نظر آنے پر
|
لیوفینوران 5 فیصد
|
200 ملی لیٹر فی ایکڑ
|
| امریکن سنڈی
|
5 بھورے انڈےیا 3 چھوٹی سنڈیاں فی 25 پودے
|
ایما میکٹن بینزوئیٹ 1.9 ای سی
|
400 ملی لیٹر فی ایکٹر
|
پیسٹ سکاؤٹنگ کے طریقے
رس چوسنے والے کیڑے
پانچ ایکڑ کے بلاک میں کھیت کے ایک کونے سے داخل ہوں ۔ چند قدم اندر جا کر 20 مختلف پودوں کے پتوں سے کیڑوں کا اس طرح
معائنہ کریں کہ پہلی قطار میں پودے کا اوپر والا مکمل سائز کا پتالیں پھر دوسرے پودے کے درمیان سے اور تیسرے پودے کے
نچلے حصے سے پھر چوتھے پودے کا اوپر والا پتالیں اور بالترتیب 20 پتے پورے کریں۔ رس چوسنے والے کیڑوں اور مفید کیڑوں
کی گنتی کرنے کے بعد پیٹ سکاؤٹنگ کارڈ پر لکھ لیں اور فی پتا کیڑوں کی اوسط تعداد معلوم کر کے دی گئی کیڑوں کے نقصان
کی معاشی حد سے موازنہ کریں۔ تمام کیڑوں کی
پیسٹ سکاؤٹنگ ہفتہ میں دو مرتبہ کریں۔
ٹینڈوں کی سنڈیاں (Bollworms)
پانچ مختلف جگہوں سے پانچ اکٹھے پودے فی جگہ یعنی کل 25 پودوں کا معائنہ کریں اور سنڈیوں کی تعداد نوٹ کریں۔ اس سے
سنڈیوں کی تعداد فی 25 پودے معلوم کریں۔ اس کا مواز نہ نقصان کی معاشی حد (ETL) سے کریں۔
کپاس کی بیماریاں
پودوں کا مرجھاؤ (Plant Wilt)
یہ بیماری دو قسم کی پھپھوندی ( Fusarium oxysporum) اور (Verticillium dahliae) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بیماری زدہ پودے
قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں اور پودا مرجھا کر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر تنے کو کاٹ کر دیکھا جائے تو اندر سے گہرے بھورے رنگ
کا
نظر آتا ہے۔
کپاس کی جڑوں کا گلنا(Root Rot)
کپاس میں یہ بیماری مختلف قسم کی پھپھوندی اور بیکٹریا سے پیدا ہوتی ہے۔ پودے اچانک مرجھا جاتے ہیں اور اکھاڑنے پر
زمین سے
آسانی کے ساتھ نکل آتے ہیں۔ پودوں کی جڑیں گلی سڑی نظر آتی ہیں۔
کپاس کا جراثیمی جھلساو
- کپاس کی یہ بیماری ایک بیکٹیریا (Xanthomonas) کی وجہ سے پھیلتی ہے۔
- یہ بیماری نشوونما کی کسی بھی حالت پر حملہ آور ہو سکتی ہے۔
- یہ بیماری کپاس کے تنے، ڈوڈیوں اور ٹینڈوں کو متاثر کرتی ہے۔
- پتوں پر گہرے سیاہ اور بھورے رنگ کے دھبے بنتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔
- ٹینڈوں پر حملے کی صورت میں ٹینڈے گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
- فصل کی ابتدائی حالت میں تنوں پر حملے کی صورت میں پودے مرجھا کر خشک ہو جاتے ہیں۔
سُوٹی مولڈ فنگس:
اس فنگس کا حملہ سفید مکھی کے شدید حملے کے بعد دیکھنے میں نظر آتا ہے۔ سفید مکھی کے بچے لیس دار مادہ خارج کرتے
ہیں۔جسکی وجہ سے ہو امیں موجود بیماری کے جراثیم پتوں پرنشوونما پا کر بیماری پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ پتوں پر سیاہ
رنگ کی ارلی لگ جاتی ہے۔خوراک بنانے میں رکاوٹ ڈال کر یہ فنگس پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ شدید حملے کی صورت میں
پودا مرجھا کر خشک ہو جاتا ہے۔
| کپاس کی بیماریوں کا کنٹرول
|
| بیماری
|
زہر
|
مقدار فی ایکڑ
|
| پودوں کا مرجھاؤ،کپاس کی جڑوں کا گلنا
|
تھاییوفینیٹ میتھائل 70 فیصد
|
1000 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
|
| فوسٹائیل ایلومینیم 80 فیصد |
1000 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
|
| سُوٹی مولڈ
|
ایزاکسی سٹروبن+ٹیبا کونا زول 50 فیصد
|
100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی
|
| پتوں کا جھُلساو
|
کاپر آکسی کلورائیڈ+ کاسوگا مائیسین 47 فیصد
|
250 گرام فی 100 لیٹر پانی
|