کپاس کا منافع بخش پیداواری پروگرام

محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی سفارشات

ضروری انتباہ

بی ٹی اقسام کی کاشت کے ساتھ کھیت میں روایتی ( غیر بی ٹی) اقسام کی موجودگی بھی ضروری ہے تا کہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوت مدافعت پیدا نہ ہو سکے اس لئے کاشتکاروں کو چاہئے کہ ان کے کل کا شتہ رقبہ کپاس کا 10 سے 20 فیصد لازمی طور پر روائتی اقسام پرمشتمل ہو۔ مزید یہ کہ اگر بی ٹی اقسام کے ساتھ 20 فیصد رقبہ پر روایتی اقسام کاشت کی گئی ہوں تو ان پر کیٹرے کا حملہ معاشی حد سے بڑھنے کی صورت میں کیڑے مارز ہر سپرے کیا جاۓ ۔

کپاس کی بہترین پیداوار کیلئے رہنما اُصول

زمین کی تیاری

کپاس کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے ایسی زرخیز میراز مین بہتر رہتی ہے جو تیاری کے بعد بھر بھری اور دانے دار ہو جاۓ۔ اس میں نامیاتی مادہ کی مقدار بہتر ہو، پانی زیادہ جذب کر نے اور دیر تک وتر قائم رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔ زمین کی پہلی سطح سخت نہ ہوتا کہ پودے کی جڑوں کو نیچے اور اطراف میں پھیلنے میں دشواری نہ آۓ ۔اس لیے زمین کی تیاری کے لئے گہرا ہل چلائیں تا کہ پودے کی جڑ میں آسانی سے گہرائی تک جاسکیں اور وتر دیر تک قائم رہے۔ بیچ کے بہتر اگاؤ اور پانی کے با کفایت استعمال کے لیے زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لیولر کر یں۔ پچھلی فصلات کی باقیات کو جلانے کی بجائے انہیں اچھی طرح زمین میں ملا دینا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے روٹاویٹر، ڈسک ہیرو یامٹی پلٹنے والا ہل استعمال کر یں تا کہ بوائی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے ۔سبز کھاد کے طور پر استعمال ہونے والی فصلات کو 30 دن پہلے وتر زمین میں دبا دیا جاۓ اور کھیت میں دبانے کے 10 دن کے اندر اندر پانی لگا دیا جائے تا کہ سبز کھادا چھی طرح گل سڑ جاۓ ۔ گلنے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے فصل کو زمین میں دباتے وقت 1/2 بوری یوریا فی ایکڑ ڈالیں ۔

بیج کو زہر لگا نے کا عمل

  • شروع کے 30دن تک فصل کی رس چوسنے والے کیڑوں سے بچت
  • بھرپور ُاگاو
  • صحت مند پودے
  • بھرپور پیداوار
  • زہر پودے کی جڑوں میں شامل ہو کر لمبے عرصے تک کنٹرول دے

نوٹ:

  • کلوتھیانیڈن 20 فیصد 10 ملی لیٹر فی کلو بیج
  • ایزوکسی سٹروبن + کلو تھیانیڈن 62.5 فیصد بحساب 9 گرام فی کلو بیج
  • امیڈاکلوپرڈ 70 فیصد 5 گرام فی کلو بیج
  • امیڈاکلوپرڈ+ڈائی فیناکونازول 36 فیصد 12 گرام فی کلو بیج

طریقہ کاشت

کاشت بذریعہ ڈرل

کپاس کی کاشت خریف ڈرل کے ساتھ قطاروں میں اڑھائی فٹ کے فاصلہ پر کرنی چاہیے اور بیج دو سے اڑھائی انچ کی گہرائی تک بوئیں ۔ اس طرح کاشت کی گئی فصل میں جب اس کا قد ڈیڑھ سے دوفٹ ہو جاۓ تو پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پرمٹی چڑھا کر پٹڑیاں بناد میں کیونکہ پانی کی کمی کے پیش نظر ایسا کرنا بہت ضروری ہے ۔ اس کے درج ذیل فوائد ہوتے ہیں ۔

فوائد

پڑیوں پر کاشت

مشینی کاشت

ہاتھ سے کاشت(چوپا)

پٹڑیوں پر کاشت کے فوائد

بارشوں کے نقصانات سے بچنے یا کم کرنے کے اقدامات

درج ذیل حفاظتی اقدامات سے پارشوں کے نقصان سے فصل کو بچایا جاسکتا ہے۔

پیداواری ٹیکنالوجی

وقت کاشت طریقہ کاشت مقداربیج / ایکڑ فاصلہ۔ پودے سےپودے فاصلہ۔ لائین سے لائین پودوں کی تعداد/ایکڑ
یکم اپریل -30 اپریل ڈرل کاشت 8-10 کلوگرام 12-15انچ 30انچ 14000-17500
کھیلیؤں پر کاشت 6-5کلوگرام 30انچ
یکم مئی-31مئی ڈرل کاشت 10-8 کلوگرام 6-9انچ 30انچ 23000-35000
کھیلیؤں پر کاشت 8-6کلوگرام 30انچ

آبپاشی

آبپاشی زمین کی زرخیزی ، طریقہ کاشت، قسم ، موسمی حالات اور فصل کی حالت کو مد نظر رکھ کر کی جائے۔ پانی کی کمی کی علامات کھیت کے نسبتا اونچے حصے پر پہلے واضح ہوتی ہیں جس میں پتوں کا نیلگوں ہونا ، اوپر والی شاخوں کی درمیانی لمبائی میں کمی ، سفید پھول کا چوٹی پر آنا ، تنے کے اوپر کے حصہ کا تیزی سے سرخ ہونا اور چوٹی کے پتوں کا کھر درا ہونا شامل ہے۔ فصل پر ایسی علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے آبپاشی کی جائے تا کہ فصل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

طریقہ کاشت آبپاشی
لائنوں میں کاشت کے لئے پہلی آبپاشی بجائی کے 30 تا 35 دن اور بقیہ 12 تا 15 دن کے وقفے سے کریں۔ اگر کپاس کے بعد گندم کاشت کرنی ہو تو آخری آبپاشی 10 اکتوبر تک کریں۔
پٹڑیوں پر کاشت کے لئے بھائی کے بعد پہلا پانی 3 تا 4 دن, دوسرا، تیسرا اور چوتھا پانی 6 تا 9 دن کے وقفے سے کریں اور باقیہ پانی 15 دن کے وقفہ سے لگائیں اگر کپاس کے بعد گندم کاشت کرنی ہو تو آخری پانی 15 اکتوبر تک لگائیں۔

نوٹ : موسم کے مطابق آبپاشی کے وقفہ میں ردو بدل کریں۔

فصل کے پانی مانگنے کی نشانیاں

( صبح10 بجے سے پہلے اور 5 بجے کے بعد)

واٹر سکاؤٹنگ

صبح 10 بجے کھیت کے ایک کونے سے داخل ہوں اور چند قدم اندر جا کر چھ مختلف پودوں کا بغور مشاہدہ اس طرح کریں کہ :

پیداواری مراحل

بڑھوتری کی حالتیں وقت(دنوں میں)
1 بیجائی سے اگاؤ 5 سے 7 دن
2 اگاو ٔسے پہلی گڈی 27 سے 35 دن
3 گڈی سے پھول بننے کا مرحلہ 20 سے 28 دن
4 بیجائی سے پہلا پھول 45 سے 50 دن
5 پھول سے ٹینڈے کی بھرائی مکمل ہونے کا عمل 55 سے 65 دن

21 دنوں میں گڈی سے پھول بننے کا مرحلہ

کپاس کا پھول

پولی نیشن

چھدرائی کا عمل

بیجائی کے فوراً بعد کے مسائل

ابتدائی 45 دنوں میں بڑھوتری کی اہمیت

جڑ کی نشوونما

پیداور میں اضافے کے 2 اہم عوامل

خورا کی اجزا میں کمی کی علامات

نائٹروجن :

پتوں کا رنگ ہلکا سبز ہو جاتا ہے جو کہ بعد میں پیلے رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے پرانے اور نیچے والے پتے متاثر ہوتے ہیں۔ فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔

فاسفورس:

پودوں کی نشو و نمارک جاتی ہے، پودوں کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے اور پتے گہرے سبز ہو جاتے ہیں ۔ ٹینڈے دیر سے بنتے ہیں۔ ٹینڈوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور ٹینڈے دیر سے سے کھلتے ہیں۔ تنے کا رنگ زمین کی سطح سے تھوڑا اوپر پیلا ہوتا ہے۔

پوٹاش :

پتوں کے کنارے پہلے اور زردی مائل ہو جاتے ہیں درمیانی رگوں کا رنگ سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ زیادہ کمی کی صورت میں پتے کناروں سے خشک ہو جاتے ہیں اور جھلسے ہوئے نظر آتے ہیں۔

زنگ :

نئے پتوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور اندرونی پیلا پن آجاتا ہے نمایاں علامت گانٹھوں کے درمیان فاصلہ کم ہو جانا ہے۔ پتوں کی رگیں دھندلی ( کالی ) ہو جاتی ہیں اور پتے زنگ آلود نظر آتے ہیں۔

بوران :

پتوں میں پیلا پن آجاتا ہے، جھریاں پڑ جاتی ہیں جس سے ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور پتے نیچے کی جانب مڑ جاتے ہیں۔

اوسط درجے کی زرخیز زمینوں کے لئے متوازن کھادوں کا استعمال

نمبر شمار کھاد وقت کاشت بیجائی کے 25-30 دن بعد بیجائی کے50-60 دن بعد بیجائی کے 90-100 دن بعد بیجائی کے 120-130 دن بعد بیجائی کے 150-160 دن بعد
1 فاسفورسی کھاد 1 بوری ڈی۔اے۔پی+ 2بوری بی-او-پی
2 پوٹاش 12.5 کلوگرام (ایس او پی) فلڈنگ 500 ملی لیٹر پوٹاش 30 فیصد (اسپرے) 500 ملی لیٹر پوٹاش 30 فیصد (اسپرے)
3 نائٹروجنی کھاد آدھی بوری یوریا 1 بوری یوریا آدھی بوری یوریا آدھی بوری یوریا آدھی بوری یوریا
4 زنک 27 فیصد 6 کلو گرام فی ایکڑ
5 سلفر 80 فیصد 2 کلوگرام

متوازن کھادوں کا استعمال

خوراکی اجزأ کی ضرورت کھادوں کی سفارشات فی ایکڑ
نائیٹروجن فاسفورس پوٹاش ڈی-اے-پی یوریا ایس او پی
70-100 کلوگرام 30-40 38 -2 بوری 3-3.5 بوری 1.5-1بوری

کپاس کی فصل میں زنک کا استعمال

ملٹی مایئکرو نیوٹرینٹس

(زنک،آئرن،کاپر،بوران،میگانیز)10 فیصد 60-90-120 دن کی فصل پر 3 بار اسپرے کرنے سے بہترین نتائج ملتے ہیں۔

قسم زنک مقدار فی ایکڑ وقت / طریقہ استعمال
چیلیٹیڈ زنک 5 فیصد 2 کلوگرام بیجائی کے 30 دن بعد یوریا کے ساتھ ملا کر استعمال کریں۔
زنک سلفیٹ 10 فیصد 10 لیٹر

پوٹاشیم ہیومیٹ

پودوں کی شاندار بڑھوتری - بھرپور پھول و پھل

مقدار فی ایکڑ

وقت / طریقہ استعمال

کپاس کی پیداوار میں پوٹاش کا کردار

قسم پوٹاش مقدار طریقہ استعمال
پوٹاش 50 فیصد(18 فیصد سلفر) 12.5 کلو گرام فی ایکڑ 90-100 دن کی فصل میں فلڈ کریں۔ 30 دن بعد دوسری فلڈنگ کریں
پوٹاش 30 فیصد 10 لیٹرفی ایکڑ 90-100 دن کی فصل میں فلڈ کریں۔ 30 دن بعد دوسری فلڈنگ کریں
پوٹاش 30 فیصد(فولئیر گریڈ) کیٹالسٹ،گروتھ ہیلپر پلس 500 ملی لیٹر 90 دن کے بعد 15 دن کے وقفے سے 2 اسپرے کریں۔

کپاس کی گُڈی کے گرنے/ خراب ہونے کا عمل

کپاس کے پھل کا کیرا

علاج

کپاس کی جڑی بوٹیاں

گھاس نما/ڈیلے کے خاندان چوڑے پتوں والی
ڈیلا اِٹ سٹ
سوانکی ماکڑو/ ھرن کھری/ پان پتہ
مدھانا چبڑ
کتاگھاس جنگلی پٹ سن
سوڈان گھاس تاندلہ
کھبل گھاس

جڑی بوٹیوں کا مکمل تدارک

  • پیداوار کا اوسطاً 50 نقصان
  • مؤثر علاج۔ اگنے ہی نہ دیا جائے۔
  • دستی گوڈی سے بر وقت تلف کرنا ۔
  • 60 دن تک جڑی بوٹیوں سے پاک فصل بہترین فصل

کپاس کی جڑی بوٹیوں کا روائتی کنٹرول

بذریعہ گوڈی

گوڈی سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے علاوہ ضمنی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مثلاً کھیت میں نمی محفوظ رہتی ہے اور زمین میں ہوا کا گزر رہتا ہے۔ رجر کے استعمال سے گوڈی آسانی سے ہوتی ہے اور خرچ بھی کم آتا ہے۔

خشک طریقہ

یہ گوڈی بوائی کے بعد اور پہلے پانی سے قبل کی جاتی ہے۔ خشک گوڈی ایک ہی کافی ہوتی ہے بشرطیکہ جڑی بوٹیوں کی تلفی ہو جائے۔ خشک گوڈی کی گہرائی دو تا اڑھائی انچ رکھیں تا کہ وتر ضائع نہ ہو۔ گوڈی کرتے وقت کوشش کی جائے کہ لائنوں میں پودوں کے درمیان مٹی گرے۔ مزید یہ کہ بارش کے بعد گوڈی ضرور کریں۔

وتر کا طریقہ

اگر وسائل اجازت دیں تو ہر آبپاشی اور بارش کے بعد گوڈی کی جائے ۔ گوڈی کا عمل اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک گوڈی سے کپاس کے پودے ٹوٹنے کا احتمال نہ ہو۔ گوڈی مناسب وتر میں کی جائے تا کہ ڈھیلے نہ بنیں ۔

کیا گوڑی بہتر حل ہے ؟

کچھ کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے گوڈی کرتے ہیں لیکن گوڈی سے جڑی بوٹیاں صحیح طور پر تلف نہیں ہوتیں اور پودوں کی جڑوں کو نقصان پہنچتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ جب تک کا شتکار گوڈی کرتے ہیں اسوقت تک جڑی بوٹیاں کپاس کے پودوں کے لیے درکار پانی اور غذا میں حصے دار بن چکی ہوتی ہیں جو کہ دراصل پودے کو ملنی چاہیے نتیجتا پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور پیداوار میں کمی ہو جاتی ہے۔

تمام جڑی بوٹی مار دوائوں کے لئے ٹی جیٹ نوزل یا فلیٹ فین نوزل استعمال کریں (ہالوکون نوزل ہرگز استعمال نہ کریں۔) اسپرے کے لئے پانی کی فی ایکڑ مقدار 120 لیٹر رکھیں۔اسپرے بیجائی کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر کریں۔

اگاؤ کے بعد استعمال ہونے والی جڑی بوٹیاں
جڑی بوٹی مار زہر قسم جڑی بوٹیاں مقدار فی ایکڑ
گلائیفوسیٹ 48 فیصد تمام جڑی بوٹیاں(شیلڈ لگا کراسپرے کریں) 1200 ملی لیٹر
امونیم سالٹ آف گلائیفوسیٹ 75 فیصد (ٹاپ کئیر ) جعفر ایگرو سروسز تمام جڑی بوٹیاں(شیلڈ لگا کراسپرے کریں) 150گرام فی 20 لیٹر لیٹر پانی
پیراکواٹ 20 فیصد تمام جڑی بوٹیاں(شیلڈ لگا کراسپرے کریں) 1000 ملی لیٹر فی ایکڑ
قوزیلوفوپ پی 10.8 فیصد سوانکی، کھبل 350-500 ملی لیٹر فی ایکڑ

جڑی بوٹی مار زرعی ادویات کے اسپرے کے لئے اہم ہدایات

ابتدائی ایام میں حملہ آور ہونے والے اہم کیڑے

ابتدائی ایام میں شدید نقصان

پیسٹ نقصان کی معاشی حد زہر مقدار فی ایکڑ
سبز تیلہ(جیسڈ) 1 بالغ یا بچہ فی پتہ ڈائی نوٹی فیوران 30 فیصد 75 ملی لیٹر فی ایکڑ
ڈائی نوٹی فیوران 20 فیصد(اوشن ) 100 گرام فی ایکڑ
نائٹن پائرام 50 فیصد 50 گرام فی ایکڑ
ایسیفیٹ 75 فیصد 250 گرام فی ایکڑ
نائٹن پائرام10 فیصد 250 ملی لیٹر فی ایکڑ
سلفوکسافلور 30 گرام فی ایکڑ
فلونیکامیڈ 50 فیصد(اولالا) 60 گرام فی ایکڑ

تھرپس (Thrips)

تھرپس (Thrips)

  • فصل کو ابتدائی دنوں میں شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
  • گرم اور خشک موسم میں افزائش نسل تیزی سے کرتا ہے۔
  • سارا سال موجود رہتا ہے اور مختلف فصلوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔
  • حملہ شدہ پتے چڑ مڑ جاتے ہیں اور سوکھ کر جھڑ جاتے ہیں۔
  • شدید حملے کی صورت میں پید اور بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
  • یہ کیٹر ا اپنے درانتی نمادانت سے پتے کی نچلی سطح کو کھرچ کر رس چوستا ہے۔
  • جس کی وجہ سے پتے کی اوپر والی جھلی نیچے والی جھلی سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
  • حملہ شدہ پتے کمزور ہو کر اوپر کی طرف مڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور بالآخر سوکھ کر جھڑ جاتے ہیں۔

تھرپس کا کنٹرول

پیسٹ نقصان کی معاشی حد زہر مقدار فی ایکڑ
تھرپس 8-10 بالغ یا بچہ فی پتہ کلورفیناپائیر 36 فیصد 150 ملی لیٹر فی ایکڑ
ڈائی میتھویئیٹ 40 فیصد(ڈیناڈیم) 320-250 گرام فی ایکڑ
سپنٹورام 12 فیصد 60 ملی لیٹر
اایسیفیٹ 75 فیصد 250 گرام فی ایکڑ
کلورفیناپائیر 36 فیصد +فیپرونل 5 فیصد (شدید حملے کی صورت میں) 100 ملی لیٹر+320 ملی لیٹر
بہتر کنٹرول کے لئے 5-6 دن بعد اسپرے دوہراہیں

سفید مکھی

بالغ مکھی:

سفید مکھی: نقصان کا طریقہ کار

  • پتے کا رس چوسنا
  • زہریلے مادوں کا اخراج
  • گلوکوز خارج کر کے سُوٹی مولڈ فنگس کا باعث
  • کاٹن لیف کرل وائرس کا ویکٹر
پیسٹ نقصان کی معاشی حد زہر مقدار فی ایکڑ
سفید مکھی 5 بالغ یا بچے یا دونوں ملا کر فی پتہ اسیٹا میپرڈ+پائری پراکسی فن 41.6 فیصد (بالغ+بچے) 250 ملی لیٹر فی ایکڑ
بیپروفیزن 25 فیصد (بچے) 600 گرام فی ایکڑ
پائری پراکسی فن 10.8 فیصد(بچے) 400-500 ملی لیٹر فی ایکڑ
پائری فلوکونازون (متوئی جعفر ایگرو سروسز) 200 گرام فی ایکڑ
ڈائیا فینتھوران 50 فیصد(بالغ) 150-100 ملی لیٹر+320 ملی لیٹر
فلونیکامیڈ 50 فیصد(اولالا) 80 گرام فی ایکڑ
سپائیرو ٹیٹرا میٹ 24 فیصد(مووینٹو بائر پاکستان) 125-250 ملی لیٹر
بہتر کنٹرول کے لئے بالغ+بچوں کا زہر ملا کر اسپرے کریں۔ کپاس بڑی ہونے کی صورت میں پانی کی مقدار 150 لیٹر رکھیں۔ فصل کالی ہونے کی صورت میں ساتھ پھپھوندی کش زہر ملا کر اسپرے کریں۔

ملی بگ

ملی بگ

  • مادہ ایک تھیلی میں 150-600تک انڈے دیتی ہے۔
  • پیسٹ میں زیادہ تر تعداد مادہ ملی بگھ کی ہوتی ہے۔
  • 3-9 دنوں میں انڈٖوں سے بچے نکل آتےہیں، جنکو کرالرز کہا جاتا ہے۔
  • مادہ کی انڈوں والی تھیلی کو Ovisac کہا جاتا ہے، جو کہ حفاظتی کام بھی کرتی ہے۔
  • کرالرز متاثرہ پودوں سے صحت مند پودوں پر شفٹ ہوتے ہیں۔
  • بارش، پانی، ہوا اور دیگر حشرات کے ذریعے ٹرانسپورٹ۔
  • شدید حملے کی صورت میں پودے شاخوں کی طرف سے سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔
  • اسکے جسم سے لیس دار مادہ نکلتا ہے جو کہ سُوٹی مولڈ فنگس کا باعث بنتا ہے۔

ریڈ کاٹن بگ اور ڈسکی کاٹن بگ

ریڈ کاٹن بگ

ڈسکی بگ

کلوتھیانیڈن 20 فیصد ایس سی

مقدار فی ایکڑ: 150 سے 200 ملی لیٹر

گلابی سنڈی

  • بالغ پروانے کا رنگ گہرا بھورا، جس کے اگلے پر نو کیلے اور پچھلے چوڑے ہوتے ہیں۔
  • مادہ چھوٹے سبز ٹینڈوں ، تازہ پتوں ، نئی شاخوں اور پھولوں پر ۱۰۰۔ ۲۰۰ انڈے دیتی ہے
  • نوزائیدہ سنڈی سفید ، جو بعد میں گلابی ہو جاتی ہے۔
  • پہلے مرحلے میں سنڈی کا حملہ مدھانی نما پھولوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
  • ٹینڈے پر حملہ کی صورت میں سوراخ بہت ہی باریک ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتا۔
  • حملہ شدہ ٹینڈے جسامت میں چھوٹے رہ جاتے ہیں اور ٹھیک طرح کھل نہیں سکتے۔
  • سنڈی تمام عمر ایک ہی ٹینڈے کے اندر رہتی ہے۔
  • آخری نسل کی سنڈیاں ٹینڈے کے اندر دو بنولوں کو جوڑ کر سر دیاں ان میں گزارتی ہیں
  • قدرے کم گرم اور بارشوں کے موسم میں اسکی افزائش تیزی سے ہوتی ہے۔

سنڈی کی حالتیں

  • گلابی سنڈی یا لاروا کی 3 حالتیں ہوتی ہے۔
  • پہلی 2 حالتوں میں سنڈی کا رنگ ہلکا سبز اور بعد میں گلابی ہوجاتا ہے۔ جبکہ سر کا رنگ بھورا ہوتا ہے۔
  • گلابی سنڈی اپنی ایک نسل تقریباً 41 دِنوں میں مکمل کرتی ہے۔

گلابی سنڈی کا نقصان

  • گلابی سنڈی کپاس کی ڈوڈی کی پتیوں، پھولوں اور ٹینڈوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
  • حملہ شدہ ڈوڈیاں کھل نہیں سکتیں۔ حملہ شدہ پھول مدھانی نما ہو جاتے ہیں۔
  • یہ سنڈی پھول کے نر اور مادہ حصوں کو کھا جاتی ہے۔
  • نرم ٹینڈوں میں سنڈی داخل ہو کر بیج کو اندر ہی اندر کھاتی رہتی ہے۔ سوراخ بند ہو جاتا ہے اور نظر نہیں آتا۔
  • ٹینڈے صحیح طرح کھل نہیں سکتے اور پھٹی گلابی رنگ کی ہوجاتی ہے۔
پیسٹ نقصان کی معاشی حد زہر مقدار فی ایکڑ
گلابی سنڈی 5 سنڈ یاں فی 100 نرم ٹینڈے ایبامیکٹن 1.9 فیصد ای سی یا بائی فینتھرین 10 فیصد 400 ملی لیٹر یا 330 ملی لیٹر
ٹرائی ایزو فاس 40 فیصد 500 سے 660 ملی لیٹر
ایبا میکٹن+ٹرائی ایزو فاس 20 فیصد 660 ملی لیٹر فی ایکڑ
لیمبڈا سائی ہیلو تھرین+ٹرائی ایزو فاس 21 فیصد 550-660 ملی لیٹر
سپنٹورام 12 فیصد 80 ملی لیٹر فی ایکڑ
لیمبڈا سائی ہیلوتھرین 2.5 فیصد 330ملی لیٹر
گیما سائی ہیلوتھرین 6 فیصد 100 ملی لیٹر فی ایکڑ

گلابی سنڈی کیلئے جنسی پھندوں کا طریقہ


امریکن سنڈی

ایک سال میں امریکن سنڈی 11 نسلیں مکمل کرتی ہے۔

چتکبری سنڈی

چتکبر ی سنڈی کا نقصان

  • سنڈی کے جسم پر بال اور کالے بھورے دھبے ہوتے ہیں۔
  • سنڈی پھل آنے سے پہلے نرم کونپلوں میں سوراخ کر کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور حملہ شدہ کونپل خشک ہو جاتی ہے۔
  • ڈوڈیوں، پھولوں اور ٹینڈوں میں داخل ہو کر نقصان پہنچاتی ہے۔
  • سنڈی کا فضلہ ٹینڈے میں بناے ہوئے سوراخ سے باہر نکلتا رہتا ہے۔
  • بارشیں اسکے حملے میں شدت کا باعث بنتی ہیں۔
  • چتکبری سنڈی کا حملہ نان-بی ٹی اقسام پر زیادہ ہوتا ہے۔
پیسٹ معاشی حد زہر مقدار فی ایکڑ
چتکبری سنڈی 3 سنڈیاں فی 25 پودے لیمبڈا سائی ہیلوتھرین 2.5 ای سی 330 ملی لیٹر
سائیپر میتھرین 330 ملی لیٹر
لشکر ی سنڈی حملہ نظر آنے پر لیوفینوران 5 فیصد 200 ملی لیٹر فی ایکڑ
امریکن سنڈی 5 بھورے انڈےیا 3 چھوٹی سنڈیاں فی 25 پودے ایما میکٹن بینزوئیٹ 1.9 ای سی 400 ملی لیٹر فی ایکٹر

پیسٹ سکاؤٹنگ کے طریقے

رس چوسنے والے کیڑے

پانچ ایکڑ کے بلاک میں کھیت کے ایک کونے سے داخل ہوں ۔ چند قدم اندر جا کر 20 مختلف پودوں کے پتوں سے کیڑوں کا اس طرح معائنہ کریں کہ پہلی قطار میں پودے کا اوپر والا مکمل سائز کا پتالیں پھر دوسرے پودے کے درمیان سے اور تیسرے پودے کے نچلے حصے سے پھر چوتھے پودے کا اوپر والا پتالیں اور بالترتیب 20 پتے پورے کریں۔ رس چوسنے والے کیڑوں اور مفید کیڑوں کی گنتی کرنے کے بعد پیٹ سکاؤٹنگ کارڈ پر لکھ لیں اور فی پتا کیڑوں کی اوسط تعداد معلوم کر کے دی گئی کیڑوں کے نقصان کی معاشی حد سے موازنہ کریں۔ تمام کیڑوں کی پیسٹ سکاؤٹنگ ہفتہ میں دو مرتبہ کریں۔

ٹینڈوں کی سنڈیاں (Bollworms)

پانچ مختلف جگہوں سے پانچ اکٹھے پودے فی جگہ یعنی کل 25 پودوں کا معائنہ کریں اور سنڈیوں کی تعداد نوٹ کریں۔ اس سے سنڈیوں کی تعداد فی 25 پودے معلوم کریں۔ اس کا مواز نہ نقصان کی معاشی حد (ETL) سے کریں۔

کپاس کی بیماریاں

پودوں کا مرجھاؤ (Plant Wilt)

یہ بیماری دو قسم کی پھپھوندی ( Fusarium oxysporum) اور (Verticillium dahliae) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بیماری زدہ پودے قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں اور پودا مرجھا کر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر تنے کو کاٹ کر دیکھا جائے تو اندر سے گہرے بھورے رنگ کا نظر آتا ہے۔

کپاس کی جڑوں کا گلنا(Root Rot)

کپاس میں یہ بیماری مختلف قسم کی پھپھوندی اور بیکٹریا سے پیدا ہوتی ہے۔ پودے اچانک مرجھا جاتے ہیں اور اکھاڑنے پر زمین سے آسانی کے ساتھ نکل آتے ہیں۔ پودوں کی جڑیں گلی سڑی نظر آتی ہیں۔

کپاس کا جراثیمی جھلساو

  • کپاس کی یہ بیماری ایک بیکٹیریا (Xanthomonas) کی وجہ سے پھیلتی ہے۔
  • یہ بیماری نشوونما کی کسی بھی حالت پر حملہ آور ہو سکتی ہے۔
  • یہ بیماری کپاس کے تنے، ڈوڈیوں اور ٹینڈوں کو متاثر کرتی ہے۔
  • پتوں پر گہرے سیاہ اور بھورے رنگ کے دھبے بنتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔
  • ٹینڈوں پر حملے کی صورت میں ٹینڈے گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
  • فصل کی ابتدائی حالت میں تنوں پر حملے کی صورت میں پودے مرجھا کر خشک ہو جاتے ہیں۔

سُوٹی مولڈ فنگس:

اس فنگس کا حملہ سفید مکھی کے شدید حملے کے بعد دیکھنے میں نظر آتا ہے۔ سفید مکھی کے بچے لیس دار مادہ خارج کرتے ہیں۔جسکی وجہ سے ہو امیں موجود بیماری کے جراثیم پتوں پرنشوونما پا کر بیماری پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ پتوں پر سیاہ رنگ کی ارلی لگ جاتی ہے۔خوراک بنانے میں رکاوٹ ڈال کر یہ فنگس پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ شدید حملے کی صورت میں پودا مرجھا کر خشک ہو جاتا ہے۔

کپاس کی بیماریوں کا کنٹرول
بیماری زہر مقدار فی ایکڑ
پودوں کا مرجھاؤ،کپاس کی جڑوں کا گلنا تھاییوفینیٹ میتھائل 70 فیصد 1000 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
فوسٹائیل ایلومینیم 80 فیصد 1000 گرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
سُوٹی مولڈ ایزاکسی سٹروبن+ٹیبا کونا زول 50 فیصد 100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی
پتوں کا جھُلساو کاپر آکسی کلورائیڈ+ کاسوگا مائیسین 47 فیصد 250 گرام فی 100 لیٹر پانی