یہ دوامی نوعیت کا ایک پھلی دار چارہ ہے۔جس میں کیلشیم اور فاسفورس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ فصل سارا سال چارہ فراہم کرتی ہے۔ برسیم کی طرح یہ فصل بھی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرکے زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہے۔ ربیع کے دیگر چارہ جات برسیم اور جئ کی نسبت یہ فصل سخت جان بھی ہے اور شدید کورا، سردی اور سخت گرمی کو بھی برداشت کر سکتئ ہے۔ باربرداری والے جانوروں کےلے یہ چارہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ دیگر چارہ جات کے ساتھ ملا کر دودھ دینے والے اور گوشت والے مویشیوں کےلے مفید ہے۔ ربیع کے چارہ جات کے کل رقبہ کے تقریبا آٹھ فیصد پر لوسرن کاشت کیاجاتا ہے
تحقیقاتی ادارہ چارہ جات سرگودھا کی منظور شدہ اقسام:
لوسرن کی فصل کےلے بہتر نکاس والی زرخیز میرازمین جس میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہو موزوں ترین ہے۔ سیم زدہ اور کلر والی زمین اس کےلے مناسب نہیں۔ لوسرن کی فصل چونکہ پانچ سے آٹھ سال تک چارہ دیتی رہتی ہے، اس لے اس کےلیے زمین کی تیاری پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ ایک دفع مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور چار پانچ دفعہ سہاگہ چلا کر زمین کو نرم اور بھربھرا کر لیں۔ کھیت کا ہموار ہونا ضروری ہے اس لیے بہتر ہے کہ زمین کو لیزر لینڈ لیولر سے ہموار کروائیں۔ چارے والی فصل کےلیے لائنوں کا فاصلہ ایک سے ڈیڑھ فٹ ہونا چا ہیے جبکہ بیج کیلیے کاشت کی گئی فصل میں لائنوں کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں۔
بذریعہ ڈرل یا کیرا 4 تا 6 کلوگرام جبکہ چھٹا کی صورت میں 6 تا 8 کلو گرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں۔ بیج خالص، صاف ستھرا اور صحت مند ہونا چاہیے۔ ناقص بیج کا رنگ سرخی مائل بھورا جبکہ معیاری بیج کا رنگ زرد ہوتا ہے۔ چارے کی بہترین پیداوار اور خالص بیج کے حصول کےلیے بہترین تیارشدہ وتر زمین میں اسے قطاروں میں بذریعہ سنگل رو ڈرل یا سمال سیڈ ڈرل کاشت کریں۔ یاد رہے کہ بیج زمین میں زیادہ گہرا نہیں جانا چاہیے ورنہ اُگاؤ متاثر ہوگا۔ لوسرن کی بوائی کیلیے بہترین وقت 15 اکتوبر سے 15نومبر تک ہے تاہم اگیتی بوائی سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
| کھادوں کا استعمال | ||
|---|---|---|
| غذائی عناصر(کلو گرام فی ایکڑ) | کھاد کی مقدار (بوریوں میں فی ایکڑ) | |
| نائٹروجن | فاسفورس | ڈیڑھ بوری ڈی اے پی +آدھی بوری یوریا یا دو بوری نائٹروفاس + ڈیڑھ بوری ایس ایس پی (18%) یا چار بوری ایس ایس پی +(18%) ایک بوری یوریا |
| 23 | 35 | |
نوٹ :کھاد کی ساری مقدار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اس کے علاوہ ہرسال اکتوبر میں ایک تا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی استعمال کریں۔ نیز چارہ کی ہر کٹائی کے بعد فصل کی حالت کے مطابق نائٹروجنی کھاد استعمال کی جا سکتی ہے۔
فصل کو پہلا پانی بوائی کے تین ہفتہ بعد اور پھر باقی پانی حسب ضرورت دیں۔ برسات کے دنوں میں اسے پانی کی بالکل ضرورت نہیں رہتی۔ عام طور پر اسے فی کٹائی ایک پانی کی ضرورت ہوتی ہے اورنسبتا خشک علاقوں میں دو پانی درکار ہیں۔ موسم گرما میں چارے کی فصل کو پانی ہر 15تا20 دن کے بعد لگانا چاہئیے۔
اس بیماری کی وجہ سے سفید روئی کے گالوں کی طرح کی پھپھوند زمین اور پودوں کے تنوں کے نچلے حصے پر لگی نظر آتی ہے۔ جس سے پودے گلنا شروع ہو جاتے ہیں اور آخر کا مرجھا جاتے ہیں۔ یہ بیماری کھیت میں ٹکریوں کی صورت میں نظر آتی ہے اور اس بیماری کا حملہ عموما جنوری،فروری میں دیکھاگیا ہے۔ اس کے تدارک کےلیے زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلائیں، زمین کو ہموار کریں، شرح بیج کم رکھیں اور زیادہ پانی لگانے سے اجتناب کریں۔ فصل کو کٹائی کے بعد ڈائی فیناکونازول بحساب 1سی سی فی لیٹر پانی یا سلفر بحساب 2گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
اس بیماری کے حملہ کی صورت میں پودے کے تنے کے نچلے حصہ پر دھنسے ہوے دھبے بن جاتے ہیں۔ متاثرہ جگہ سے تنا گل جاتا ہے اور سیاہ رنگ کا ہو جاتا ہے۔پودے مرجھا کر سوکھ جاتے ہیں۔ جس کھیت میں یہ بیماری پائی جائے اس میں کٹائی کے بعد سی موکسانل + مینکوزیب بحساب 2گرام فی لیٹر پانی یا کلورونل +میٹالیکسل ایم بحساب 2سی سی فی لیٹر پانی میں لا کر سپرے کریں۔
بیماری کے حملہ کی صورت میں پتوں اور تنوں پر گہرے بھورے بیضوی شکل کے دھبے بنتے ہیں۔ بیماری کے شدید حملہ کی صورت میں تنے گل جاتے ہیں۔ اور پودے مرجھاجاتے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد بعد ڈائ فیناکونازول بحساب 1سی سی فی لیٹر پانی یا سلفر بحساب 2گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
لوسرن کی فصل چونکہ سال ہا سال چلتی ہے اس لیے اس میں گھاس اور جڑی بوٹیاں اگنے کی صورت میں فصل کو بیج کےلیے چھوڑنے سے پہلے قطاروں میں کاشتہ فصل میں ہل چلا دینا چاہیے۔ لوسرن کی بیج والی فصل کو کھبل گھاس اور آکاش بیل نقصان پہنچاتے ہیں۔ کھبل گھاس کےلیے قزیلوفوپ بحساب 350تا400ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ اِٹ سٹ کے تدارک کےلیے پینڈی میتھالین بحساب 1.5لٹر فی ایکڑ کاشت سے ایک مہینہ پہلے سپرے کرکے پانی لگا دیں۔
سنڈیاں پتوں کو کھا کر چٹ کر جاتی ہیں اور صرف رگیں باقی رہ جاتی ہیں۔ پتوں کے علاوہ پھول ڈوڈیوں پر بھی حملہ
آور ہوتی ہیں۔ فروری مارچ میں اس کا حملہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس کے تدارک کےلیے شدید حملہ کی صورت میں چارہ کاٹنے کے بعد فلوبینڈامائڈ بحساب
25ملی لیٹر یا کلورینٹرا نیلی پرول بحساب 40 تا 50 ملی لیٹر یا لیوفینوران بحساب 200 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے
کریں۔
نوٹ: سپرے صبح یا شام کرنا چاہیے تاکہ شہد کی مکھیاں متاثر نہ ہوں۔
سنڈیاں پتوں کو کھا کر نقصان کرتی ہیں۔ اور پتوں میں سوراخ کردیتی ہیں۔ اس کے تدارک کےلیے شدید حملہ کی صورت میں چارہ کاٹنے کے بعد سپائینو سیڈ بحساب 25 ملی لیٹر یا کلورنٹرا نیلی پرول بحساب 40 تا 50 ملی لیٹر یا ایمامیکٹن بینزوویٹ بحساب 200 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔
متاثرہ پتے سوکھ جاتے ہیں اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
اس کے تدارک کےلیے فصل کو پانی لگا ئیں۔
یہ پتوں اور نئی نکلنے والی شاخوں پر زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ پتوں کا سبز حصہ کھاجاتے ہیں۔
اسکے حملے سے بچنے کےلیے چارہ جلدی کاٹ لیناچاہیے۔
لوسرن کی فصل سے بیج حاصل کرنے کیلیے اس کی کٹائی شروع مارچ سے آخر مارچ تک بند کر دینی چاہیے۔ لوسرن کا بیج قیمتی ہوتا ہے اس لیے اس کی کٹائی، گہائی اور سنبھال پر خصوصی توجہ دی جائے۔ فصل کو کچا ہرگز نہ کاٹاجائے اور کٹائی صبح کے وقت کرنی چاہئے تاکہ بیج کا نقصان کم سے کم ہو۔ گہائی کے بعد بیج کو خشک لیکن ہوادار سٹور میں کپڑے کے تھیلوں یا پٹ سن کی بوری میں سنبھال کر رکھا جائے۔