مکئی پاکستان کی ایک اہم زرعی فصل ہے،جس کا استعمال بہت سے مقاصد
(خوردنی تیل ،گلوکوز، کسٹرڈ، جیلی اور کارن فلیکس) کے لیے کیا جاتا ہے۔اور یہ ملک کےبے شمار
حصوں میں کاشت کی جاتی ہے۔
گزشتہ چند سالوں سےملکی سطح اور بالخصوص پنجاب میں اس فصل
کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کی مالی حالت میں کافی بہتری آئی ہے۔
بہاریہ مکئی :
( موزوں وقت کاشت)جنوری کے آخر سے لیکر فروری کے آخر تک کاشت کی جا سکتی ہے۔
راولپنڈی اور دوسرے پہاڑی
علاقوں میں بہاریہ مکئی کا موزوں وقت کاشت 15مارچ
سے 15 اپریل تک ہے۔
خریف کاشت: مکئی کی موسمی کاشت کے لیےموزوں وقت وسط جولائی تا وسط اگست ہے۔
صاف ستھرے، صحت مند، خالص اور 90 فیصد اگاؤ والے بیج کی وٹوں پر کاشت کے لیے عام اقسام کے
لیے شرح بیج 8 تا 10(ہائبرڈ بیج 10 ) کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔ جبکہ بذریعہ سنگل
رو کاٹن
ڈرل سے بوائی کے لیے(صرف بارانی علاقے) شرح بیج 12 سے 15 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔
فی ایکڑ پودوں کی تعداد:
ہائبرڈ اقسام کے پودوں کی تعداد
بہاریہ فصل میں33- 35ہزار اور خریف میں 30-32 ہزار پودے فی
ایکڑ ہونے چاہیئے، جبکہ عام اقسام کے لیے بہاریہ فصل
میں پودوں کی تعداد 30 ہزار اور
خریف میں 23 تا 26 ہزار فی ایکڑ ہونی چاہیئے۔پودوں کا باہمی فاصلہ 6-8 انچ رکھیں۔
نوٹ: مکئی کو ساڑھے تین فٹ کے باہمی فاصلہ پر بنائی گئی پٹڑیوں پر بھی کاشت کیا جا سکتا
ہے، اس صورت میں مکئی کا چوکا پٹڑیوں کی دونوں اطراف لگانا چاہئیے۔
وٹوں پر کاشت کی صورت میں 2.5 فٹ کے فاصلے پر شرقا غربا باہمی وٹیں بنائیں اور ہلکا
پانی لگانے کے فورا بعد وٹوں کی ڈھلوان پر ایک ایک بیج کا چوکا لگا دیں۔ بہاریہ
کاشت کی صورت
میں وٹوں کی جنوبی سمت اور خریف کاشت میں شمالی سمت پر چوکا لگائیں۔
عام اقسام: ملکہ۔2016، گوہر۔ 19، ساہیوال گولڈ، سرحد سفید، پرل، ایم ایم آر آئی ییلو۔
| بہاریہ کاشت | موسمی کاشت |
|---|---|
| ہائی کارن۔ 11 پلس | ہانی کارن۔339 |
| ڈی کے۔9108 | ہانی کارن۔555 |
| وائی ایچ۔5427 | ایف ایچ۔1036 |
| ایچ سی۔2090 | ڈی کے۔8148 |
| ڈی کے۔6724 | وائی ایچ۔ 5427 |
| ڈی کے۔6103 | پی-4040 |
| ڈی کے۔6317 | 30T60 |
| 30Y87 |
| علاقے/ اضلاع | اقسام | وقت برائے موسمی کاشت |
|---|---|---|
| بہاولنگر، رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ،اوکاڑہ، ساہیوال، سرگودھا، میانوالی، نارووال، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ۔ | ساہیوال ,2002- ایم ایم آر آئی ییلو، پرل، ساہیوال گولڈ، گوہر- 19 | 15 جولائی تا 10 اگست |
| جہلم، گجرات، اٹک،راولپنڈی (سوائے راولپنڈی کے پہاڑی علاقے) | اگیتی 2002-، ساہیوال 2002-، ایم ایم آر آئی ییلو، پرل | مون سون کے مطابق کاشت کریں |
| ضلع راولپنڈی کے پہاڑی علاقے | ایم ایم آر آئی ییلو، پرل، ساہیوال 2002-، اگیتی- 2002 | 15 مارچ تا 15 اپریل |
ابتدائی مرحلے میں رس چوسنے والے کیڑوں خصوصا کونپل کی مکھی کے حملہ سے بچاؤ اور
فصل کو بیماریوں کے حملہ سے بچانے کے لیے ایزوکسی سٹروبن + کلو تھیانیڈن 62.5 فیصد
بحساب 9 گرام فی
کلو بیج یا امیڈا کلوپرڈ +ٹیبوکونازول 37.25 فیصد
بحساب 10 ملی لیٹر فی کلو گرام بیج یا ایزوکسی سٹروبن + کلو تھیانیڈن + فلو
ڈی آکسی نل 72 فیصد بحساب 9 گرام فی کلو گرام بیج لگا کر کاشت کریں۔
وٹوں پر کاشت کی گئی مکئی کو اگاؤ تک وتر حالت
میں رکھیں، اور پہلے چھ پانی 5 سے 7 دن کے وقفہ سے لگائیں، اسکے بعد موسمی حالات اور
فصل کی ضرورت کے مطابق آبپاشی کا وقفہ کم کر دیں۔ پھول
آنے عمل زیرگی اور دانے کی
دودھیا حالت میں فصل کو سوکا نہ آنے دیں، کیونکہ ان مراحل پر پانی کی کمی سے پیداوار
متاثر ہوتی ہے۔ مکئی کی بہاریہ فصل کو عموما 12 تا 14 مرتبہ پانی دینے کی ضرورت
ہوتی
ہے۔موسمی مکئی کی بوائی چونکہ گرم موسم میں ہوتی ہے، اس لیے فصل کے شروع کے مراحل
میں آبپاشی کا وقفہ کم رکھیں اور درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ آبپاشی کا وقفہ بڑھا
دیں۔ موسمی یعنی
خریف کاشتہ مکئی کو 10-12 مرتبہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔
نوٹ:زمین کی ساخت اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پانی لگانے کے وقت میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔
مکئی کی فی ایکڑ اچھی پیداوار کے حصول اور سفارش کردہ کھادوں کی
صحیح مقدار کا تعین کرنے کے لیے، زمین کا تجزیہ کروانا بہت ضروری ہے۔ گروٹیک کسانوں کو
اپنی زمین کا تجزیہ کروانے کی سفارش کرتا
ہے۔ تا کہ کم لاگت میں بہتر پیداوار کا حصول
ممکن ہو سکے۔ کھادوں کے استعمال سے پہلے مکئ کی نشونما کی حالتوں کو
سمجھنا بہت ضروری ہے تا کہ زمین کا تجزیہ کروانے کے بعد صحیح
وقت پر صحیح خوراک
کا استعمال صحیح مقدار میں کیا جا سکے۔
مکئی کی فصل میں صحیح وقت پر صحیح خوراک ہی اچھی پیداوار کی ضمانت ہے۔
| حالتیں | عوامل | سفارشات |
|---|---|---|
| اگاؤ |
|
|
| پہلے اور دوسرے پتے کی حالت |
|
|
| 3 سے 4 پتوں کی حالت |
|
|
| 5 سے 8 پتوں کی حالت |
|
|
| حالتیں | عوامل | منیجمنٹ |
|---|---|---|
| 11-10 پتوں کی حالت |
|
|
| 13-12 پتوں کی حالت |
|
|
| 15-14 پتوں کی حالت |
|
|
| 17-16 پتوں کی حالت |
|
|
| ٹیسلنگ |
|
|
| سلکنگ |
|
|
| بلسٹر |
|
|
| ملکنگ یعنی دودھیا دانے کی حالت |
|
|
| ڈف اور ڈینٹنگ کی حالت |
|
|
| فزیالوجیکل میچورٹی |
|
| زمین کی زرخیزی | مقدار غذائی اجزائ (کلو گرام فی ایکڑ) |
|---|---|
| کمزور زمین:نامیاتی مادہ 0.87% سے کم،فاسفورس 7 پی پی ایم سے کم اور پوٹاش 80 پی پی ایم سے کم ہوتا ہے۔ | 119 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
69 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ 50 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ |
| درمیانی زمین: نامیاتی مادہ 0.87% تا 1.29% ، فاسفورس 7 تا 14 پی پی ایم، اور پوٹاش 80 تا 180 پی پی ایم ہوتا ہے۔ | 92 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
58 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ 37 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ |
| زرخیز زمین: نامیاتی مادہ 1.29% سے زائد، فاسفورس 14 پی پی ایم سے زائد اور پوٹاش 180 پی پی ایم سے زائد ہوتا ہے۔ | 75 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
46 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ 25 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ |
| علاقہ جات | مقدار غذائی اجزائ (کلو گرام فی ایکڑ) |
|---|---|
| کم بارش والے علاقے | نائٹروجن 34 کلو گرام، فاسفورس 23 کلو گرام اور پوٹاش 12 کلو گرام فی ایکڑ ڈالیں |
| زیادہ بارش والے علاقے | نائٹروجن 46 کلو گرام، فاسفورس 34کلو گرام اور پوٹاش25 کلو گرام فی ایکڑ ڈالیں |
| زمین کی زرخیزی | مقدار غذائی اجزائ (کلو گرام فی ایکڑ) |
|---|---|
| کمزور زمین:نامیاتی مادہ 0.87% سے کم،فاسفورس 7 پی پی ایم سے کم اور پوٹاش 80 پی پی ایم سے کم ہوتا ہے۔ | 92 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
58 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ 37 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ |
| درمیانی زمین: نامیاتی مادہ 0.87% تا 1.29% ، فاسفورس 7 تا 14 پی پی ایم، اور پوٹاش 80 تا 180 پی پی ایم ہوتا ہے۔ | 80 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
46 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ 37 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ |
| زرخیز زمین: نامیاتی مادہ 1.29% سے زائد، فاسفورس 14 پی پی ایم سے زائد اور پوٹاش 180 پی پی ایم سے زائد ہوتا ہے۔ | 70 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
35 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ 25 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ |
| وقت استعمال | فاسفورس | نائٹروجن | پوٹاش | نامیاتی مادہ | زنک | |
|---|---|---|---|---|---|---|
| زمین کی تیاری(بیجائی کے وقت) | 1 بوری ڈی-اے-پی+2 بیگ بی-او-پی | |||||
| اگاؤکے بعد | 4-3 پتوں کی حالت | 1 بیگ ایم-اے - پی | 1 بیگ یوریا | 10 لیٹر پوٹاشیم ہیومیٹ | ||
| 6-5 پتوں کی حالت | 1 بیگ یوریا | 10 لیٹر زنک سلفیٹ | ||||
| 10-8 پتوں کی حالت | 25 کلو یوریا+ 1 بیگ امونیم سلفیٹ | 10 لیٹر پوٹاش 30 فیصد | ||||
| 14-12 پتوں کی حالت | 25 کلو یوریا | 12.5 کلو پوٹاشیم سلفیٹ | ||||
نوٹ: اوپر دی گئی سفارشات درمیانے درجے کی زرخیز زمینوں کے لئے ہیں۔کھادوں کی مقدار کا تعین زمین کا تجزیہ کرنے کے بعد کریں۔
سائیلیج کے لیے کاشت کی گئی فصل میں نائٹروجن 25 فیصد ،فاسفورس 25 فیصد اور پوٹاش کی 50 فیصد کم مقدار استعمال کریں- اور 85-90 کی فصل کو برداشت کرلیں۔
نوٹ: مندرجہ بالا سفارشات نامیاتی مادہ اور
غذائی اجزائ کی مقدار کے لحاظ سے ہیں۔ گروٹیک آپ کے رقبے میں زمین
کی زرخیزی کے لحاظ سے ہر کھیت کے اندر مختلف مقدار میں کھادوں
کی سفارش کرتی
ہے، تا کہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کی جا سکے۔
نائٹروجن کی کمی کی صورت میں پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے، اور پتوں کا رنگ پیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔پتے میں پیلاہٹ نو کدار سرے سے شروع ہو کر چوڑے حصے کی طرف جاتی ہے۔ پتے بعد میں بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔
پودے کی بڑھوتری رک جاتی جاتی ہے۔ جڑوں کا نظام کمزور رہ جاتا ہے۔ پتوں کے نوکدار سرے جامنی رنگ کے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ چھلی کا سائیز چھوٹا رہ جاتا ہے۔
پوٹاش کی کمی کی صورت میں پتوں پر سفید نشان پڑ جاتے ہیں۔ جو بعد میں بھورے ہو جاتے ہیں۔ یا پتے کناروں سے جلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ چھلی کے اوپر لائینوں اور دانوں کی تعداد میں کمی ہو جاتی ہے۔
بوران کی کمی کی صورت میں پتے پر سفید یا پیلے رنگ کے نشان نظر آتے ہیں ، اور چھلی پر دانوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔
زنک کی کمی کی صورت میں پتوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور پتے جلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
نوٹ: مکئی کی فصل میں آخری خوراک ٹیسل مکمل باہر نکلنے سے پہلے پہلے تک دے دیں۔
اس بیماری میں پتوں پر بھورے اور سفیدی مائل
دھبے نمودار ہوتے ہیں ، جو چھ انچ تک پتوں کے اوپر لمبائی کے رخ پھیل
سکتے ہیں۔ یہ بیماری نہ صرف فصل کی پیداوار میں کمی کا سبب بنتی ہے،بلکہ
مویشیوں کے لیے بطور خوراک چارہ کی کوالٹی میں بھی کمی کا باعث بنتی ہے۔
نوٹ:اس بیماری سےبچاؤ کے لیے تھائیو فینیٹ
میتھائل 70 ڈبلیو پی بحساب 2 گرام فی کلو گرام بیج لگا کر کاشت کریں۔
یہ بیماری کم و بیش ہر کھیت میں ملتی ہے اور اس بیماری کی وجہ سے پیداواری
شرح میں ہونے والے نقصانات کا دارومدار بارشوں کی مقدار اور عرصے پر ہوتا
ہے۔اگر بھٹوں کے پکنے کے دنوں میں بارشیں زیادہ ہوں گی تو سڑن کی شرح میں
اضافہ ہو جائے گا۔ جس کی وجہ سے پیداوار میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔
نوٹ: اس بیماری
سے بچاؤ کے لیے نائٹروجنی کھادوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
یہ شمالی
علاقہ جات کی ایک خطر ناک بیماری ہے۔لیکن پنجاب میں بھی اکثر مکئی کے کھیتوں
میں دیکھی جاتی ہے، پھپھوندی متاثرہ پودوں کی چھلی پر سفید یا سیاہی مائل
ابھار بنا دیتی ہے۔ابھاروں کے اندر سیاہ رنگ کا پاؤڈر نموودار ہوتا ہے، جب یہ
ابھار چھلی پر بنتے ہیں تو وہاں دانے نہیں بن پاتے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
نوٹ: اس سے بچاؤ کے لیے
بینو مل 50 ڈبلیو پی بحساب 2 گرام فی کلو گرام بیج کو لگا کر کاشت کریں۔
اس بیماری میں پودے کا تنا گلنا سڑنا
شروع ہو جاتا ہے،اور شدید حملے کی صورت میں پتے پیلے پڑ نا شروع ہو جاتے
ہیں۔بیماری سے متاثرہ پودے اگر گرنے یا ضائع ہونے سےبچ بھی جائیں تو، چھلی
پر دانے کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے جس سے پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔
نوٹ: اس بیماری سے بچاؤ کے لیے
ٹاپسن ایم 70 ڈبلیو پی بحساب دو گرام فی کلو گرام بیج کو
لگا کر کاشت کریں۔ حملہ نظر آنے پر تھائیوفنیٹ میتھائیل 1 کلو
گرام یا فوسٹائیل ایلومینیم 1 کلوگرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔
اس کا حملہ فصل کی جڑوں پر ہوتا ہے۔
متاثرہ پودے پیلے پڑ جاتے ہیں اور شدید حملہ کی صورت میں مر جاتے ہیں۔
پودوں کی جڑوں کے آس پاس زمین میں ان کے حملہ کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔
انسداد: اسکے تدارک کے
لئے کلور پائیرفاس بحساب ڈیرھ سے دو لیٹر یا پھر فیپرونل5 ایس
سی بحساب960 ملی لیٹر فی ایکڑ پہلی آبپاشی کے وقت استعمال کریں۔
یہ مکھی اگتی ہوئی فصل پر حملہ کرتی ہے۔حملے کا دورانیہ ابتدائی 40-50 دن
تک زیادہ ہوتا ہے۔اس کی سنڈیاں کونپل میں داخل ہو کر نرم حصے کا رس
چوستی ہیں اور لیس دار مادہ چھوڑتی ہیں، جسکی وجہ سے پتے آپس میں جڑ جاتے
ہیں اور چھوٹے رہ جاتے ہیں۔بہاریہ مکئی پر اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔
انسداد: بیج
کو تھائیا میتھو کزام 70 ڈبلیو ایس بحساب 5 سے 7 گرام فی کلو گرام لگا
کر کاشت کرنے سے پہلے 40 دن تک فصل اس مکھی کے حملہ سے محفوظ رہتی ہے۔
اگاؤ مکمل ہونے پر حملہ ہونے کی صورت میں امیڈا کلوپرڈ 200 ایس
ایل بحساب 200 ملی لیٹر ، 100 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں۔
سنڈیاں اگتی
ہوئی فصل کی درمیانی کونپل میں داخل ہو کر اس کو کھاتی ہیں، جس سے سوراخ
بن جاتے ہیں۔ساری کونپل کٹ جانے کی صورت میں کونپل سوکھ جاتی ہے، یہ
سنڈی پتوں کے ساتھ ساتھ بھٹوں کے پکے ہوئے دانوں کو بھی کھا جاتی ہے۔
انسداد: اس سے بچاؤ
کے لیے کاربو فیوران 3 جی بحساب 8 کلو گرام فی ایکڑ پودوں کی کونپل
میں ڈالیں اور فصل کو پانی لگا دیں۔ یہی عمل 15 دن بعد دہرائیں۔
بالغ اور بچے دونوں ہی رس چوس کر پودے کو نقصان پہنچاتے
ہیں، جس کی وجہ سے پودوں پر سفید نشانات بن جاتے ہیں۔ اس کا حملہ بہاریہ
مکئی پر زیادہ ہوتا ہے اور شدید حملہ کی صورت میں پتے سوکھ جاتے ہیں۔
انسداد: حملہ کی صورت میں ڈائی
نوٹی فیوران 30 فیصد 75 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔
اس کیڑے کے جسم سے خارج کردہ
لیس دار مادہ کی وجہ سے پتوں پر سیاہ اُ لی لگ جاتی ہے، جس سے پتوں کے
خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے، اور پولنز (زرد دانے) کو بھی نقصان
پہنچتا ہے۔ جس کی وجہ سے چھلیوں میں دانے بننے کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔
اانسداد: اسکے تدارک کے لئےکاربووسلفان120ای
سی بحساب 500 ملی لیٹر فی ایکڑ 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں۔
یہ سنڈی گروہ کی شکل میں فصل پر حملہ آور ہوتی ہے، سنڈیاں پتوں کو نچلی سطح
سے کھانا شروع کر دیتی ہیں اور پتے میں سوراخ کر کے پتوں کو چھلنی کر
دیتی ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں پورے پتے اور بھٹوں سے نکلنے والی
سلک کو کھا جاتی ہیں ، جس سے پولی نیشن اور دانے بننے کا عمل رک جاتا ہے۔
انسداد: اسکے تدارک کے
لیے لیوفینوران 5 فیصد 200 ملی لیٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔
فال آرمی ورم لشکری سنڈی کی ہی ایک قسم ہے،جو پاکستان
سمیت مختلف افریقی اور ایشیائی ممالک میں پھیل چکا ہے۔ اس کا حملہ گزشتہ سال صوبہ
پنجاب کے مکئی کے زیر کاشت علاقوں خصوصا بہاولنگر، ساہیوال،
اوکاڑہ اور چنیوٹ میں
دیکھا گیا۔ عام لشکری سنڈی کے حملہ کے بر عکس یہ پتوں کے ساتھ ساتھ تنے اور چھلی کو
بھی کھا کر پیداوار میں شدید نقصان کا سبب بنتی ہے۔ 30 سے 40 دنوں کی فصل پر اس کا
حملہ زیادہ
ہوتا ہے اور یہ پیداوار میں 30 سے 35 فیصد تک نقصان کا باعث بنتی ہے۔
نوٹ: فال آرمی ورم کے تدارک کے لئیے فی
ایکڑ پانی 140 لیٹر استعمال کریں۔سپرے ٹی-جیٹ نوزل سے کریں اور کوشش کریں
کے سپرے کونپل کے اندر تک داخل ہو۔ایک وقت میں ایک ہی لائن
پر سپرے کریں۔
| نام زہر | مقدار فی ایکڑ | ہدایات |
|---|---|---|
| سپنٹورام 120 ایس سی یا ایما میکٹن بینزویٹ1.9 ای سی | 100 ملی لیٹر
200 ملی لیٹر |
چھوٹی سنڈی پر سپرے کریں (جب سنڈی کا رنگ ہلکا سبز اور سر سیاہی مائل ہو ) |
| ایمامیکٹن بینزویٹ 1.9 ای سی + لوفینورون 50 ای سی | 200 +200 ملی لیٹر | بڑی سنڈی پر سپرے کریں (سنڈی کا رنگ بھورا اور جسم پر سیاہ دھبے) |
| جڑی بوٹیاں | نام زہر | وقت استعمال | مقدار فی ایکڑ | طریقہ استعمال |
|---|---|---|---|---|
| چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں | پینڈی میتھالین33 فیصد | اگاؤ سے پہلے | 1000ملی لیٹر | بیجائی کے بعد 24 گھنٹے کے اندر سپرے کریں۔ |
| چوڑے و نوکیلےپتوں والی جڑی بوٹیاں | ایٹرازین 38 فیصد+اسیٹوکلور 50 فیصد | اگاؤ سے پہلے | 350 ملی لیٹر+350 ملی لیٹر | بیجائی کے بعد 24 گھنٹے کے اندر سپرے کریں۔ |
| چوڑے و نوکیلےپتوں والی جڑی بوٹیاں | ایس میٹولاکلور+ ایٹرازین 720 فیصد | اگاؤ سے پہلے | 800 ملی لیٹر | بیجائی کے بعد 24 گھنٹے کے اندر سپرے کریں۔ |
| چوڑے و نوکیلےپتوں والی جڑی بوٹیاں | ایٹرازین+ میزوٹرائی اون +پروپیسسوکلور 33.5 فیصد | اگاؤ کے بعد | 750 ملی لیٹر | جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت |
| چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں | ایٹرازین+ میزوٹرائی اون 50 فیصد | اگاؤ کے بعد | 330سے 400گرام | جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت |
| چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں | ایٹرازین+ میزوٹرائی اون 55 فیصد | اگاؤ کے بعد | 500-750 ملی لیٹر | جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت |
| چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں | ایٹرازین+ میزوٹرائی اون 25 فیصد | اگاؤ کے بعد | 650ملی لیٹر | جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت |
| چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں+ڈیلا | ایٹرازین+ میزوٹرائی اون +ہیلوسلفوران 58 فیصد | اگاؤ کے بعد | 500 گرام فی ایکڑ | جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت |
| چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں+ڈیلا | آئیسوکسافلوٹول+تھین کاربازون میتھائیل 31.5 فیصد (ایڈنگو ایکسٹرا ) | اگاؤ کے بعد | 132 ملی لیٹر فی ایکڑ | مکئی کے اگاؤ سے لیکر 3 پتوں کے نکلنے تک کے درمیان اسپرے کر لیں۔ اسپرے کے بعد 5 دن تک آبپاشی سے گریز کریں۔ |
سپرے کے بعد جڑی بوٹیوں کو چارہ کے طور پر ہرگز استعمال نہ کریں۔ بہاریہ مکئی
میں جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال جڑی بوٹیاں اگنے کے بعد کریں۔ پانی
کی فی ایکڑ مقدار 120 لیٹر رکھیں۔ سپرے کے لئے
صاف پانی کا استعمال کریں۔
تیز ہوا، بارش یا دھند میں سپرے نہ کریں۔
معیاری سپرے کے لئے (فلیٹ فین یا ٹی جیٹ) نوزل کا استعمال کریں۔
فصل صحیح طور پر پک جانے پر برداشت کریں، کچی
چھلیاں توڑنے پر دانے سوکھ کر پچک جاتے ہیں اور وزن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جب دانوں
کے نوک دار سرے کالے ہو جائیں اور دبانے پر دانوں میں
ناخن نہ چبھ سکے تو سمجھ لیں
کے فصل تیار ہو گئی ہے۔ پکی ہوئی فصل کی برداشت میں ہرگز تاخیر نہ کریں، کیونکہ پودے
گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور بارش ہو جانے کی صورت میں دانوں میں پھپھوندی
لگ جاتی ہے۔
توڑنے کے بعد چھلیاں پردوں سے نکال کر کھلی جگہوں پر پھیلا دیں، اور جب دانہ دانتوں میں
دبانے سے کڑک کی آواز کے ساتھ ٹوٹے تو سمجھ لیں کہ چھلیاں خشک ہو گئی ہیں۔ اس وقت
دانوں
میں نمی تقریبا %15 ہوتی ہے، جنس کو ذخیرہ کرنے کے لیے نمی کا تناسب %10 ہونا چاہئے۔
زراعت سے متعلق
ٹیکنالوجی کمپنی ہے، جو پاکستان کے زراعت کے شعبے میں محرومیوں اور عدم استحکام
کو ختم کرنے کے لیے جدید حل مہیا کرتی ہے۔ ہمارا مقصد پاکستان میں ہر کسان کو جدید
ٹیکنالوجی
سے آراستہ کرنا ہے، تا کہ وہ اپنی زرعی اراضی سے موجودہ خرچ سے کم خرچ میں
زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکے اور اس کے نتیجے میں اپنی زندگی کو بہتر بنا سکے۔
فصلوں کو
وسیع پیمانے پر ہونے والے معاشی نقصان کی ایک بڑی وجہ پودوں میں صحت کا فقدان ہے۔
پودوں میں صحت کا فقدان ، فصل کے میعار اور مقدار کو متاثر کرتا ہے، لہذا اس مسئلے
کے حل کے لیے
صحت کا جائزہ لینا اور بروقت ممکن اقدام اٹھانا انتہائی ضروری امر ہے۔
گروٹیک آپ کو آپ کی فصل کے پارے میں پافاعدہ اور پازہ پرٹن معلومات فراہم کرتا ہے۔ ہمارا
پودوں کی صحت کا تجزیہ حل پودوں کی صحت اور کار کردگی اور ان علاقوں کی نشاندہی کر
کے جہاں فوری
مداخلت کی ضرورت ہے،فصل کی صحت اور بہتر پیداوار کو یقینی بناتا ہے۔
فصلوں کے مسائل کی بروقت تشخیص
زرعی اراضی کی سکاؤٹنگ اور نگرانی کو بہتر بنانا
فصل کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنا
سیٹلائیٹ پر مبنی نگرانی
درست معلومات
بروقت اور قابل عمل سفارشات
مندرجہ بالا تمام سہولیات آپ گھر بیٹھے اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
مزید معلومات: www.growtechsol.com
www.facebook.com/growtechsol پر ملا حظہ کریں۔
یا آپ ہمیں اس نمبر 03213234980 پر کال بھی کر سکتے ہیں