دالیں روز مرہ خوراک کا حصہ ہونے کے ساتھ لحمیات کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان میں تقریباً 20 سے 25 فیصد پروٹین پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی جڑوں میں ایسے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔ مونگ اور ماش کی دالیں انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔
بوائی سے پہلے دالوں کے بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگانے سے پودوں کی نائٹروجن اور فاسفورس حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے جس سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہےاور بعد میں کاشت کی جانے والی فصل کو بھی نائٹروجن حاصل ہوتی ہے۔
ایک ایکڑ کے بیج کو ٹیکہ لگانے کے لئے 750 ملی لیٹر پانی میں 150 گرام شکر، گڑ یا چینی ملا کر محلول کی صورت میں بیچ پر چھڑکیں اور بیج کے ساتھ اچھی طرح ملا دیں اور پھر بیج کو سایہ دار جگہ میں خشک کر لیں۔ ٹیکہ لگانے کے بعد بیج کی بوائی فوراً کریں کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ٹیکے کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔
نوٹ: جراثیمی ٹیکے شعبہ دالیں و شعبہ بیکٹر یالوجی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد، نیشنل انسٹی ٹیوٹ براۓ بائیوٹیکنالوجی اور جنیٹک انجینئرنگ فیصل آباد اور نیشنل زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
مونگ اور ماش کی کاشت کے
لئے درمیانے اور اچھے درجے کی بہتر نکاس والی میرا ز مین موزوں ہے جبکہ کلراٹھی اور
سیم زدہ زمین مناسب نہیں رہتی۔ کھیت میں سابق فصل کے مڈھ وغیرہ موجود ہونے کی صورت
میں ڈِسک ہَیروا ور روٹاویٹر چلائیں۔ مونگ اور ماش کی کاشت کے لئے زمین کا ہموار ہونا
نہایت ضروری ہے تا کہ آبپاشی یا بارش کا پانی کھیت میں یکساں طور پرتقسیم ہو سکے۔
بارانی علاقوں میں بارش سے پہلے ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل اور بارش کے بعد وتر
آنے پر دو دفعہ دیسی ہل چلائیں اور پھر زمین کو لیزر لینڈ لیولر سے ہموار کرلیں۔
مونگ اور ماش کو بذریعہ ڈرل قطاروں میں کاشت کریں۔ اور قطاروں
کا باہمی فاصلہ ایک فٹ رکھیں۔ یاد رہے کہ آ بپاش علاقوں میں خریف کاشت کی صورت
میں قطاروں کا باہمی فاصلہ ڈیڑھ تا دو فٹ رکھیں۔ اگر ڈرل میسر نہ ہو تو پور یا
کیرا سے کاشت کرلیں۔ زیادہ بارش والے علاقوں میں اِن فصلات کی کاشت کھیلیوں پر کریں۔
نوٹ: نیاب فیصل آباد کے تجربات کے مطابق مونگ کی نیاب اقسام کو اگر اڑھائی فٹ کے باہمی فاصلے پر لائنوں میں کاشت کیا جائے تو بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
بارانی علاقوں میں چھدرائی اس وقت کریں جب فصل کے چار تا پانچ پتے نکل آئیں، جبکہ آبپاش علاقوں میں پہلا پانی لگانے سے پہلے چھدرائی کریں تا کہ پودوں کا باہمی فاصلہ 3 تا4 اِنچ ہو جاۓ۔
سفارش کردہ کھاد کی پوری مقدار بوائی سے پہلے آخری ہل کے ساتھ استعمال کریں۔
گروٹیک آپ کے رقبے میں زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ہر کھیت کے اندر کھادوں کی مختلف مقداریں سفارش کرتی ہے، تا کہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کی جا سکے۔
نائٹروجن اور سلفر کا بہترین امتزاج
مونگ اور ماش کی بہاریہ فصل کو تین تا چار دفعہ آ بپاشی درکار ہوتی ہے۔
خریف میں کاشتہ مونگ اور ماش کی فصل کو عام طور پر تین پانی درکار ہوتے ہیں۔
نوٹ: اگر خریف میں اِن اوقات میں بارش ہو جاۓ تو پانی دینے کی ضرورت نہیں۔
یہ وائرس سفید مکھی کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ بیماری مونگ کی نسبت ماش پر زیادہ حملہ آور ہوتی ہے۔ پتوں پر پیلے رنگ کے دھبے بنتے ہیں اور سبز مادہ ( کلور فل ) کی کمی کی وجہ سے پودے اپنی خوراک نہیں بنا سکتے۔ شدید حملہ پیداوار میں کمی کا موجب بنتا ہے۔ اس کے انسداد کے لئے سفید مکھی کو کنٹرول کیا جاۓ ، کھیت سے بیمار پودوں کو نکال کر تلف کر دیا جاۓ ، بیج صحت مند کھیت سے حاصل کیا جاۓ اور قوت مدافعت رکھنے والی منظور شدہ اقسام کاشت کی جائیں۔
اس وائرس کا حملہ ماش کی فصل پر زیادہ ہوتا ہے۔ متاثرہ پودے کے پتے چُڑ مُڑ ہو جاتے ہیں۔ بیمار پودوں کا قد چھوٹا رہ جا تا ہے اور پھلی میں دانے بنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ یہ وائرس اگلی فصل تک بیج کے ذریعے سے بھی منتقل ہو جا تا ہے۔ کھیت میں یہ وائرس بیمار پودے سے صحت مند پودے میں ست تیلے کے ذریعے سے منتقل ہوتا ہے۔اس کے انسداد کے لئے ست تیلے کا موثر کنٹرول کریں ، بیج صحت مند پودوں سے حاصل کیا جاۓ اور بیج والے کھیتوں سے فصل کی بڑھوتری کے شروع میں ہی بیمار پودے نکال دیں۔
اس بیماری کا سبب کولیٹورائیکم لنڈی میوتھییانم اورگلوسپوریم فیزیولائی نامی پھپھوندی ہیں۔ متاثرہ پتوں پر بے قاعدہ شکل کے بھورے رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں اور بیماری بڑھنے پر یہ دھبے مل کر بڑے اور گہرے بھورے دھبوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔
اس بیماری کا سبب سرکوسپورا کروئنٹا یا مائرو تھیشیم روری ڈمامی کوئی سی ایک یا دونوں پھپھوندی ہوسکتی ہیں۔ بیماری کے حملہ کی صورت میں پتوں اور چھوٹی ٹہنیوں پر ہلکے بھورے دھبے نمودار ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑے اور گہرے بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں ۔ان دھبوں کے مرکز میں اکثر اوقات سوراخ بھی ہوجا تا ہے۔
اس بیماری کا سبب فیوزیریم سولینی یاورٹیسیلم ایلب اٹرم پھپھوندی ہوسکتی ہے۔ بیمار پودے اچانک مرجھا جاتے ہیں۔ یہ بیماری کھیت میں ٹکڑیوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے اور اگر اس کھیت میں اگلے سال بھی یہی فصل کاشت کی جائے تو یہ بڑھتی جاتی ہے۔ پودوں کی تعداد میں کمی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ بچاؤ کے لئے بیماری والے کھیت میں آئندہ سال فصل کاشت نہ کریں ، سفارش کردہ قوتِ مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں۔ کاشت سے پہلے بیچ کو سفارش کردہ پھپھوندی کش زہر لگائیں۔
اس بیماری کا سبب رائز وکٹونیاسولین اور میکروفیمینا فیزولینا نامی پھپھوندی ہے۔ بیماری پودوں کے تنے اور جڑیں گل جاتی ہیں اور پودا سوکھ جا تا ہے۔ اس کے انسداد کے لئے بیماری والے کھیت میں آئندہ سال فصل کاشت نہ کریں۔ نیز بیج کو سفارش کر دہ پھپھوندی کش زہر لگا کر کاشت کر یں۔
اس بیماری کا سبب فائیٹو فتھو را میگ ا سپرما نامی پھپھوندی ہے۔ تنوں کے نچلے حصہ پر سیاہ رنگ کے داغ نمودار ہوتے ہیں اور متاثرہ جگہ سے تنا قدرے سکڑ جا تا ہے اور آخر کار پودا مرجھا کر سوکھ جاتا ہے۔ جڑوں کا چھلکا اُتر جاتا ہے۔ یہ بیماری بھی کھیت میں ٹکڑیوں کی شکل میں نمودار ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے ۔اس کے انسداد کے لئے بیماری والے کھیت میں آئندہ سال فصل کاشت نہ کی جاۓ فصل کو پٹڑیوں پر کاشت کرنے سے بیماری سے بچایا جا سکتا ہے نیز محکمہ زراعت کی سفارش کردہ پھوندی کش زہر لگا کر بیج کاشت کریں۔
یہ کیڑا پودوں کی جڑوں پر حملہ کرتا ہے۔حملہ شدہ پودے سوکھ جاتے ہیں۔ دیمک کا حملہ فصل اُگنے سے کٹائی تک بھی ہوسکتا ہے۔
گوبر کی کچی کھاد کی بجاۓ گلی سڑی اور تیار کھاد استعمال کریں۔ جڑی بوٹیاں اور فصل کی باقیات کو مناسب طریقے سے تلف کریں۔ بارش ہونے یا فصل کو پانی دینے سے حملہ قدرے کم ہو جاتا ہے۔
بچے اور بالغ رس چوس کر پودوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ سفیدمکھی اپنے جسم سے لیس دار میٹھا مادہ بھی خارج کرتی ہے جس پر بعد ازاں سیاہ پھپھوندی لگ جاتی ہے۔ پودوں میں ضیائی تالیف کا عمل رک جانے سے پودے کمزور اور پیداوار کم ہو جاتی ہے ۔بہت زیادہ کیمیائی زہروں کے استعمال سے پرہیز کریں تا کہ شکاری کیڑے مثلا لیڈی برڈ بیٹل، سرفڈ فلائی اور کرائیسو پرلا جیسے فصل دوست کیڑےتلف نہ ہوں۔ جڑی بوٹیاں تلف کی جائیں۔
کلوتھیانیڈن بحساب 50 ملی لیٹر 20 لیٹر پانی میں فی ایکڑ سپرے کریں۔
اگتی ہوئی فصل کے چھوٹے پودوں کو کاٹ کر کھاتا ہے۔
تدارک کے لیے کھیت کھالوں اور وٹو ں پر موجود جڑی بوٹیاں تلف کریں۔
اس کی سنڈ یاں دن کے وقت پودوں کے قریب چھپی رہتی ہیں اور رات کے وقت چھوٹے پودوں کے تنوں کو کاٹتی ہیں جن کی وجہ سے پودے گرے ہوئے ملتے ہیں۔
اس کے تدارک کے لیے بچی ہوئی سبزیوں کو کاٹ کر شام کے وقت ڈھیریوں کی شکل میں رکھیں اور صبح ان ڈھیریوں کے نیچے چھپی ہوئی سنڈیوں کو تلف کریں۔ جڑی بوٹیاں تلف کریں، گوڈی کر کے پانی لگائیں اور پروانے تلف کرنے کے لئے روشنی کے پھندے لگائیں۔
یہ مونگ کی فصل پر بالکل آخری مرحلے میں حملہ آور ہوتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے لئے فصل کو بروقت کاشت کریں ۔اس کیڑے کا حملہ ماہ ستمبر کے وسط سے شروع ہوتا ہے لہذا مناسب ہے کہ اس کے حملہ آور ہونے سے پہلے مونگ کی فصل پک کر تیار ہو جاۓ۔
کلو تھیانیڈن بحساب 50 ملی لیٹر 20 لیٹر پانی میں فی ایکڑ سپرے کریں۔
سنڈی نرم پتوں کو کھاتی ہے اور اگتے ہوئے پودوں کو تباہ کر دیتی ہے پھلیوں میں سوراخ کر کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور دانوں کو کھاتی رہتی ہے۔ ایک سنڈی 30 سے 40 پھلیوں کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔
فلومیکٹ 5 فیصد ای سی بحساب 70 ملی لیٹر 20 لیٹر پانی میں فی ایکڑ سپرے کریں (یہ زہر لشکری سُنڈی اور امریکن سُنڈی کے انسداد کے لیے بھی یکساں مفید ہے)۔
شدید حملہ کی صورت میں سنڈیاں لشکر کی صورت میں پودوں کو ٹُنڈ مُنڈ کر دیتی ہیں اور ایک کھیت سے دوسرے کھیت کی طرف یلغار کرتی ہیں۔ حملہ شدہ کھیتوں کے گرد کھائیاں بنائیں اور ان کو پانی سے بھر دیں تا کہ رینگتی سنڈیوں کو روکا جا سکے۔ سنڈیوں کو کھانے والے پرندوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس کے انڈے اکٹھے کر کے تلف کریں ۔شروع میں حملہ ٹکڑیوں میں ہوتا ہے اس لئے اس کو وہیں کنٹرول کریں تا کہ حملہ سارے کھیت میں نہ پھیلے۔
لیفینوران بحساب 200 ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں فی ایکڑ سپرے کریں۔
جب فصل کی 80 سے 90 فی صد پھلیاں پک جائیں تو فصل کو کاٹ لینا چاہئیے۔ برداشت کے لئے کمبائن ہارویسٹر کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ کٹائی صبح کے وقت کی جاۓ فصل کو کھیت میں چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں کی شکل میں 4 سے 5 دن پڑا رہنے دیں۔ جب پودے پوری طرح خشک ہو جائیں تو تھریشر کی مدد سے گہائی کرلیں۔ دانوں کو چند روز تک دھوپ میں خشک کر کے سٹور کریں اور گودام کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
ذخیرہ کرنے سے پہلے بیج کو اچھی طرح صاف اور خشک کرلیں کہ اس میں نمی کا تناسب 10 فی صد سے زیادہ نہ ہو۔ گودام کی صفائی کریں۔ گودام میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ ز ہر سپرے کر یں ۔پرانی بوریوں کو زہر ملے پانی میں ڈبوئیں اور خشک کرلیں۔ مز ید احتیاط کیلئے گودام میں زہریلی گیس والی گولیاں بحساب 30 تا35 فی ہزار مکعب فٹ استعمال کریں۔ اگر ممکن ہو تو جنس کو ہرمیٹک تھیلوں میں ذخیرہ کریں۔ اس طرح اسے ایک سال سے زیادہ عرصہ تک محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تھیلے ہوا بند ہوتے ہیں اور ان میں ذخیرہ شدہ غلہ پر کیٹرے بھی حملہ آور نہیں ہوتے۔ گودام کے اندر بوریاں اونچی جگہ پر رکھیں۔