بیج کی مقدار سے سو ا گُنا زیادہ پانی میں سفارش کردہ پھپھوندی کش زہر ڈالیں اور 24 گھنٹے کے لئے بھگو دیں۔ کسی
سایہ دار جگہ پر بیج کو سُکھانے کے بعد 15 سے 20 کلوگرام کی ڈھیریاں بنا لیں اور گیلی بوریوں سے ڈھانپ دیں ۔ بوری
پر پانی چھڑکتے رہیں تا کہ بیج خشک نہ ہو جائیں ۔ تقریبًا 36 سے 48 گھنٹے بعد بیج انگوری مارنے لگے گا۔
نوٹ: گھر کا بیج استعمال کرنا ہو تو بحساب 10لیٹر پانی میں 250 گرام نمک ڈال کر حل کریں اور اس میں بیج ڈال کر
بھگو دیں تا کہ ناقص اور ہلکا بیج اوپر آ جائے۔
پنیری لگانے سے تقریبًا 15 سے 20 دن پہلے کھیت میں گہرا ہل چلائیں اور پھر پانی لگا دیں ۔ وتر آنے کے بعد دہرا ہل
چلاکر کھیت میں پانی لگائیں اور سہاگہ دیں یعنی کدو کر لیں۔ اب کھیت کو آٹھ یا دس مرلے کے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم
کر لیں اور انگوری مارے ہوئے بیج کا چھٹہ دے دیں۔ چھٹے کے وقت کھیت میں تقریبًا ڈیڑھ اِنچ پانی کھڑا ہونا چاہیے۔
بیج کا چھٹہ شام کے وقت دیں ۔ ہر شام کھیت سے پانی نکال دیں اور اَگلی صبح پھر پانی ڈال دیں تا کہ گرمی کی وجہ سے
بیج میں گلنے سڑنے کا عمل نہ ہو۔ ایک ہفتہ پنیری کا قد بڑھنے کے بعد پانی کی گہرائی بڑھا کر تین انچ تک کر دیں۔ اس
طریقہ سے 25 تا30 دن میں پنیری تیار ہو جائے گی۔
نوٹ: کمزور پنیری بننے کی صورت میں لاب کی منتقلی سے تقریبًا دس دن پہلے یور یا بحساب 250 گرام یا کیلشیم امونیم
نائٹریٹ بحساب 400 گرام فی مرلہ چھٹہ کر دیں ۔
یہ طریقہ ان علاقوں کے لئے مناسب ہے جہاں زمین مَیرا ہو اور کھیت میں پانی بمشکل کھڑا ہوسکتا ہو ۔ اس طریقے سے چاول کاشت کرنے کے لئے دس دن کے وقفے سے دو بار راؤنی کر یں اور پھر وَتر آنے پر دوہرا ہل چلا کر سُہاگہ دے دیں۔ زمین کی تیاری کے بعد کھیت کو چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں تقسیم کریں اور خشک بیج (اِری اقسام بحساب ڈیڑھ کلوگرام فی مرلہ اور باسمتی اقسام بحساب 750 گرام تا ایک کلوگرام فی مرلہ) چھٹہ دے دیں۔ اس پر گلی سڑی کھاد ، روڑی یا پرالی کی ایک انچ موٹی تہہ بچھا دیں اور ہلکا پانی لگا دیں ۔ چند دن بعد توڑی یا پرالی کو اٹھالیں اور پنیری پر سورج کی روشنی پڑ نے دیں ۔ اس طریقہ سے 35 تا 40 دن میں پنیری تیار ہوجاتی ہے اور اُسے منتقلی کے وقت اکھاڑنا آسان ہوتا ہے ۔
یہ طریقہ اُن علاقوں میں رائج ہے جہاں زمین عام طور پر سخت ہوتی ہے۔ زمین کی تیاری کے بعد کھیت کو ہموار کر کے گوبر یا پَرالی کی دوانچ موٹی تہہ ڈالیں اور آگ لگا دیں۔ راکھ ٹھنڈی ہونے پر اس کو گوڈی کر کے زمین میں ملا دیں۔ خشک بیج (اِری اَقسام بحساب 2 کلوگرام اور باسمتی اقسام بحساب 1 کلوگرام فی مرلہ) چھٹہ دے کر حسبِ ضرورت پانی لگادیں۔ اس طریقہ سے پنیری تقریبا 35 تا 40 دن میں منتقلی کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ دھان کی فصل ریتلی زمین کے علاوہ ہر قسم کی زمین میں کاشت کی جا سکتی ہے۔
زمین میں پانی لگانے سے پہلے ایک مرتبہ خشک ہل چلا ئیں تا کہ زمین اچھی تیار ہو جائے۔ چاول کی اچھی پیداوار کیلئے
پنیری کی منتقلی سے10 تا 15 دن پہلے کھیت میں پانی کھڑا رکھیں اور پھر کدو کر لیں۔ پانی کی کمی کی صورت میں 3 تا 7
دن تک پا نی کھڑا رہنے دیں اور ہل وسہاگہ چلا کر کھیت کو اچھی طرح تیار کر لیں اور اگلے دن پنیری منتقل کر
دیں۔آخری سہاگے کے وقت کھاد کی سفارش کردہ مقدار بھی ڈال دیں۔ جن علاقوں میں پانی کھڑا نہیں ہوتا وہاں زمین کی
تیاری خشک طریقہ سے کر لیں۔
نوٹ: سیم تھور والی زمینوں کی آبادکاری کے دوران راجہ ہل نہ چلائیں۔کلراٹھی زمینوں میں کدو نہ کریں کیونکہ اس سے
نمکیات نیچےنہیں جائیں گی۔
پنیری اکھاڑ نے سے ایک دو روز پہلے اُسے پانی لگا دیں تا کہ زمین نرم ہو جائے اور اکھاڑ تے وقت پورے نہ ٹوٹیں
۔پنیری اُکھاڑنے کے بعد اُسے پانی میں رکھیں تا کہ گرمی کی وجہ سے پنیری خراب نہ ہو۔ لاب کی منتقلی ڈیڑھ انچ گہرے
پانی میں کر یں ۔ پہلے ہفتے میں پانی کی گہرائی ڈیڑھ انچ رکھیں پھر آہستہ آہستہ تین انچ تک کر دیں۔ لاب اکھاڑ تے
وقت جھُلسے ہوئے ، بکائنی یا سُنڈی سے متاثرہ پودے تَلف کر دیں۔
نوٹ: اگر منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25 دن سے کم ہو تو پودے نازک ہونے کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر سکتے اور
مر جاتے ہیں اور اگر پنیری 40 دن سے زیادہ عمر کی ہوتو اس کی شاخیں کم بنیں گی۔
اس طریقہ سے چاول کی کاشت کرنے کے لیے زمین ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تا کہ فصل کے اگاؤ اور پانی کے استعمال پر اِس کے اچھے اثرات مُرتب ہوں۔ لیزر لیولر سے زمین کو بہتر انداز میں ہموار کیا جا سکتا ہے۔مئی کے تیسرے ہفتے میں دو بار ہل چلا کر کھیت میں پانی لگا دیں اور وتر آ نے پر زمین تیار کر لیں۔ دھان کی براہِ راست کاشت کے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کھیت میں پچھلے سال کی کاشتہ قِسم (بالخصوص موٹی جو قدرے پہلے کاشت ہوتی ہیں) ہی دو بارہ کاشت کی جائے کیونکہ پچھلے سال کے گِرے ہوئے بیج زمین میں دو بارہ اُگ آتے ہیں اور ملِاوٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر دھان کی قِسم کو تبدیل کرنا ہو تو دو مرتبہ راؤنی کرنا ضروری ہے۔
بوائی کے بعدکھیت میں چھوٹے کیارے بنائیں اور ہلکا پانی لگادیں۔ اس کے علاوہ بوائی کے وقت فاسفورس اور پوٹاش کی سفارش کردہ کھادیں بھی ڈال دیں۔
رائس ٹرانسپلا نٹر کےاستعمال سے کم وقت میں زیادہ رقبہ پر پنیری کی منتقلی آسان ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ چاول کی پیداوار میں فی ایکٹر اضافہ بھی مُمکن ہو جا تا ہے۔ دھان کی مشینی کاشت کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں:
زنک سلفیٹ ( 33 فیصد ) بحساب 6 کلو گرام یا ز نک سلفیٹ( 27 فیصد ) بحساب 7 کلو گرام یا زنک سلفیٹ ( 21 فیصد )
بحساب 10 کلوگرام فی ایکڑ بوائی کے18سے 20 دن بعد ڈالیں ۔
بوران کی کمی کی صورت میں زمین کی تیاری کے وقت بورک ایسڈ بحساب3 یا بوریکس 10.5 فیصد بحساب 4.5 کلو گرام فی ایکڑ
استعمال کریں۔
نوٹ: اگر پچھلی فصل میں بوران کا استعمال کیا گیا ہو تو دھان میں استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔
دھان کی نرسری میں کاشت کے 2 ہفتہ بعد زنک سلفیٹ (33 فیصد ) بحساب 200 گرام یا زنک سلفیٹ ( 27 فیصد ) بحساب 250 یا زنک سلفیٹ (21 فیصد )بحساب 300 گرام فی مرلہ استعمال کرنے سے فصل کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔
پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے پہلے اسکی جڑوں کو زنک آ کسائیڈ 2 فیصد محلول میں ڈبوئیں۔ اس محلول کی تیاری کے لیے اگر ایک کلو گرام زنک آکسائیڈ 50 لیٹر پانی میں حل کر یں تو یہ ایک ایکڑ پنیری کے لیے کافی ہوتا ہے۔
فصل میں زنک کی زیادہ کمی کی صورت میں زنک سلفیٹ (33 فیصد ) بحساب 6 یا ز نک سلفیٹ (27 فیصد ) بحساب 7.5 یا زنک سلفیٹ (21 فیصد ) بحساب 10 کلوگرام فی ایکڑ لاب منتقل کرنے کے دس دن بعد چھٹہ کر یں ۔
بوران کی کمی چاول کے روایتی علاقوں میں دیکھی گئی ہے ،اسلئے پنیری کی منتقلی کے لئے زمین کی تیاری کے وقت بورک ایسڈ بحساب 3 کلوگرام یا بوریکس 20 فیصد بحساب 4.5 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کر یں ۔
نوٹ: سٹہ نکلتے وقت اور دانہ بھرتے وقت فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں۔
دھان کی فصل میں جڑی بُوٹیاں بہت زیادہ اُگتی ہیں کیونکہ پانی اور درجہ حرارت ان کی افزائش کے لئے معاون ہوتے ہیں۔ جڑی بوٹیاں عموماً 15 تا 20 فیصد اور بعض صورتوں میں پچاس فیصد تک پیداوار کم کر دیتی ہیں۔ دھان کی فصل میں گھاس نما، ڈیلا اور اس کا خاندان اور چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔
پہچان : اِس خاندان کی جڑی بوٹیوں کے پتے باریک اور نو کیلے ہوتے ہیں۔ تنا عموماً گول اور جوڑ دار ہوتا ہے ۔ پودے زمین کی سطح پربِچھے ہوۓہوتے ہیں لیکن کچھ زمین سے اوپر اُٹھے ہوۓ بھی ہوتے ہیں۔
پہچان : اس خاندان کی جڑی بوٹیوں کے پتے لمبے، پرنالہ نما اور چمک دار ہوتے ہیں۔ تنا تین کونوں والا ہوتا ہے اور پتے کے درمیان میں ایک لمبی اور واضح رَگ ہوتی ہے۔
پہچان : اس خاندان کی جڑی بوٹیوں کے پتےچوڑے اور مختلف شکلوں کے ہوتے ہیں۔ تنا سخت اور پودا زمین سے اوپر کو اُٹھا ہوا اور سیدھا ہوتا ہے۔
دھان کی برداشت بذریعہ مشین پچھلے کچھ سالوں سے کاشتکاروں میں مقبول ہو رہی ہے ۔ اس مقصد کے لئے عام طور پر استعمال ہونے والی مشینیں بنیادی طور پر گندم کی برداشت کے لئے بنی ہوئی ہیں۔ اس لئے برداشت کے دوران مشینیں دانے توڑ دیتی ہیں اور کچھ ان کا چھلکا اتار دیتی ہیں ۔ یہ مشینیں سبز ، کمزور اور خالی دانے جھاڑنے کے ساتھ ساتھ پودے کے سبز حصے بھی کاٹ لیتی ہیں جو جنس میں زیادہ کمی اور معیار کو کم کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔اس لئے اس ضِمن میں مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کر یں:
اگر کسی وجہ سے دھان کی کٹائی میں تاخیر ہو جاۓ اور دانوں میں نمی کی سطح 18 فیصد سے کم ہو جاۓ تو مشینی کٹائی سے اجتناب کریں ورنہ چھڑ ائی میں ٹو ٹابہت زیادہ ہوگا ۔