چاول کا پیداواری منصوبہ!

عنوان:


  • چاول کی منظور شدہ اقسام
  • پنیری کی کاشت کا طریقہ
  • شرح بیج
  • پنیری کی منتقلی کے لئے کھیت کی تیاری
  • پنیری کی کھیت میں منتقلی
  • پنیری کا وقت کاشت اور منتقلی
  • کلراٹھی زمین میں دھان کی کاشت کے لئے ضروری گزارشات
  • دھان کی بذریعہ بیج براہ راست کاشت
  • دھان کی مشینی کاشت
  • کھادوں کی سفارشات
  • آبپاشی
  • دھان کی فصل میں جڑی بوٹیوں کا اِنسداد
  • دھان کی بیماریاں اور اُنکا اِنسداد
  • دھان کے ضرر رساں کیڑے اور اُنکا اِنسداد
  • دھان کی برداشت

چاول کی بڑھوتری کے مراحل :

Production Steps Image

پنیری کی کاشت کا طریقہ :

کدُو کا طریقہ:

بیج کی مقدار سے سو ا گُنا زیادہ پانی میں سفارش کردہ پھپھوندی کش زہر ڈالیں اور 24 گھنٹے کے لئے بھگو دیں۔ کسی سایہ دار جگہ پر بیج کو سُکھانے کے بعد 15 سے 20 کلوگرام کی ڈھیریاں بنا لیں اور گیلی بوریوں سے ڈھانپ دیں ۔ بوری پر پانی چھڑکتے رہیں تا کہ بیج خشک نہ ہو جائیں ۔ تقریبًا 36 سے 48 گھنٹے بعد بیج انگوری مارنے لگے گا۔
نوٹ: گھر کا بیج استعمال کرنا ہو تو بحساب 10لیٹر پانی میں 250 گرام نمک ڈال کر حل کریں اور اس میں بیج ڈال کر بھگو دیں تا کہ ناقص اور ہلکا بیج اوپر آ جائے۔


کھیت کی تیاری کدُو کے طریقےسےپنیری لگانےکے لیے

پنیری لگانے سے تقریبًا 15 سے 20 دن پہلے کھیت میں گہرا ہل چلائیں اور پھر پانی لگا دیں ۔ وتر آنے کے بعد دہرا ہل چلاکر کھیت میں پانی لگائیں اور سہاگہ دیں یعنی کدو کر لیں۔ اب کھیت کو آٹھ یا دس مرلے کے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کر لیں اور انگوری مارے ہوئے بیج کا چھٹہ دے دیں۔ چھٹے کے وقت کھیت میں تقریبًا ڈیڑھ اِنچ پانی کھڑا ہونا چاہیے۔ بیج کا چھٹہ شام کے وقت دیں ۔ ہر شام کھیت سے پانی نکال دیں اور اَگلی صبح پھر پانی ڈال دیں تا کہ گرمی کی وجہ سے بیج میں گلنے سڑنے کا عمل نہ ہو۔ ایک ہفتہ پنیری کا قد بڑھنے کے بعد پانی کی گہرائی بڑھا کر تین انچ تک کر دیں۔ اس طریقہ سے 25 تا30 دن میں پنیری تیار ہو جائے گی۔
نوٹ: کمزور پنیری بننے کی صورت میں لاب کی منتقلی سے تقریبًا دس دن پہلے یور یا بحساب 250 گرام یا کیلشیم امونیم نائٹریٹ بحساب 400 گرام فی مرلہ چھٹہ کر دیں ۔

خُشک طریقہ:


یہ طریقہ ان علاقوں کے لئے مناسب ہے جہاں زمین مَیرا ہو اور کھیت میں پانی بمشکل کھڑا ہوسکتا ہو ۔ اس طریقے سے چاول کاشت کرنے کے لئے دس دن کے وقفے سے دو بار راؤنی کر یں اور پھر وَتر آنے پر دوہرا ہل چلا کر سُہاگہ دے دیں۔ زمین کی تیاری کے بعد کھیت کو چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں تقسیم کریں اور خشک بیج (اِری اقسام بحساب ڈیڑھ کلوگرام فی مرلہ اور باسمتی اقسام بحساب 750 گرام تا ایک کلوگرام فی مرلہ) چھٹہ دے دیں۔ اس پر گلی سڑی کھاد ، روڑی یا پرالی کی ایک انچ موٹی تہہ بچھا دیں اور ہلکا پانی لگا دیں ۔ چند دن بعد توڑی یا پرالی کو اٹھالیں اور پنیری پر سورج کی روشنی پڑ نے دیں ۔ اس طریقہ سے 35 تا 40 دن میں پنیری تیار ہوجاتی ہے اور اُسے منتقلی کے وقت اکھاڑنا آسان ہوتا ہے ۔

رَاب کا طریقہ :


یہ طریقہ اُن علاقوں میں رائج ہے جہاں زمین عام طور پر سخت ہوتی ہے۔ زمین کی تیاری کے بعد کھیت کو ہموار کر کے گوبر یا پَرالی کی دوانچ موٹی تہہ ڈالیں اور آگ لگا دیں۔ راکھ ٹھنڈی ہونے پر اس کو گوڈی کر کے زمین میں ملا دیں۔ خشک بیج (اِری اَقسام بحساب 2 کلوگرام اور باسمتی اقسام بحساب 1 کلوگرام فی مرلہ) چھٹہ دے کر حسبِ ضرورت پانی لگادیں۔ اس طریقہ سے پنیری تقریبا 35 تا 40 دن میں منتقلی کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ دھان کی فصل ریتلی زمین کے علاوہ ہر قسم کی زمین میں کاشت کی جا سکتی ہے۔

بیج کو بیماریوں کے خلاف زہر لگانا:

  • چاول کی فصل کو بکائنی اور پتوں کا بھورا جلساؤ جیسی بیماریوں سے بچانے کے لئے بیج کو زہر لگانا بہت ضروری ہے۔
  • خشک طریقہ سے پنیری کرنے کے لیے کاشت سے 2 ہفتے پہلے بیچ کو زہر لگائیں۔
  • کدو کے ذریعے پنیری کاشت کرنے کے لیے بیج کو دوائی ملے پانی کے محلول میں ( بحساب 2 تا 2.5 گرام زہر فی لٹر پانی) 24 گھنٹے کیلئے بھگوئیں اور پھر کسی سایہ دار جگہ پر 36 تا 48 گھنٹے کے لیے پَٹ سَن کی بوری میں لپیٹ دیں تا کہ بیج انگوری مارنے لگے اور پھر پہلے سے تیار کردہ کیاریوں میں چھٹہ کر دیں۔

پنیری کی منتقلی کے لیے کھیت کی تیاری

زمین میں پانی لگانے سے پہلے ایک مرتبہ خشک ہل چلا ئیں تا کہ زمین اچھی تیار ہو جائے۔ چاول کی اچھی پیداوار کیلئے پنیری کی منتقلی سے10 تا 15 دن پہلے کھیت میں پانی کھڑا رکھیں اور پھر کدو کر لیں۔ پانی کی کمی کی صورت میں 3 تا 7 دن تک پا نی کھڑا رہنے دیں اور ہل وسہاگہ چلا کر کھیت کو اچھی طرح تیار کر لیں اور اگلے دن پنیری منتقل کر دیں۔آخری سہاگے کے وقت کھاد کی سفارش کردہ مقدار بھی ڈال دیں۔ جن علاقوں میں پانی کھڑا نہیں ہوتا وہاں زمین کی تیاری خشک طریقہ سے کر لیں۔
نوٹ: سیم تھور والی زمینوں کی آبادکاری کے دوران راجہ ہل نہ چلائیں۔کلراٹھی زمینوں میں کدو نہ کریں کیونکہ اس سے نمکیات نیچےنہیں جائیں گی۔

پنیری کی کھیت میں منتقلی:

پنیری اکھاڑ نے سے ایک دو روز پہلے اُسے پانی لگا دیں تا کہ زمین نرم ہو جائے اور اکھاڑ تے وقت پورے نہ ٹوٹیں ۔پنیری اُکھاڑنے کے بعد اُسے پانی میں رکھیں تا کہ گرمی کی وجہ سے پنیری خراب نہ ہو۔ لاب کی منتقلی ڈیڑھ انچ گہرے پانی میں کر یں ۔ پہلے ہفتے میں پانی کی گہرائی ڈیڑھ انچ رکھیں پھر آہستہ آہستہ تین انچ تک کر دیں۔ لاب اکھاڑ تے وقت جھُلسے ہوئے ، بکائنی یا سُنڈی سے متاثرہ پودے تَلف کر دیں۔
نوٹ: اگر منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25 دن سے کم ہو تو پودے نازک ہونے کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر سکتے اور مر جاتے ہیں اور اگر پنیری 40 دن سے زیادہ عمر کی ہوتو اس کی شاخیں کم بنیں گی۔

پنیری کا وقتِ کاشت ا ور منتقلی:


کلراٹھی زمین میں دھان کی کاشت کے لئے ضروری گزارشات


  • پنیری کلر سے پاک زمین پر تیار کریں۔ منتقلی کے وقت لاب کی عمر 35 تا 45 دن ہونی چاہئے۔
  • لاب منتقلی کے لیےکھیت کی تیاری گہرا ہل چلا کر شروع کریں لیکن کدو بالکل نہ کر یں تا کہ پانی لگانے سے نمکیات پانی کے ساتھ نیچے چلی جائیں۔ لاب منتقل کرنے سے 7 تا 10 دن پہلے کھیت میں پانی کھڑا رکھیں۔
  • جس زمین میں سفیدکَلر کی زیادتی ہو وہاں کھیت کا پانی تبدیل کرتے رہیں تا کہ دھان کی نشو ونما متا ثر نہ ہو۔
  • زمین کے تجزیہ کے مطابق اگر کالے کَلر سےمتاثر زمینوں میں گندھک کا تیزاب استعمال کیا جائےتو فصل کی نشوونما بحال ہو جاتی ہے۔

دھان کی بذریعہ بیج براہِ راست کاشت:


براہِ راست کاشت کے لئےزمین کی تیاری:


اس طریقہ سے چاول کی کاشت کرنے کے لیے زمین ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تا کہ فصل کے اگاؤ اور پانی کے استعمال پر اِس کے اچھے اثرات مُرتب ہوں۔ لیزر لیولر سے زمین کو بہتر انداز میں ہموار کیا جا سکتا ہے۔مئی کے تیسرے ہفتے میں دو بار ہل چلا کر کھیت میں پانی لگا دیں اور وتر آ نے پر زمین تیار کر لیں۔ دھان کی براہِ راست کاشت کے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کھیت میں پچھلے سال کی کاشتہ قِسم (بالخصوص موٹی جو قدرے پہلے کاشت ہوتی ہیں) ہی دو بارہ کاشت کی جائے کیونکہ پچھلے سال کے گِرے ہوئے بیج زمین میں دو بارہ اُگ آتے ہیں اور ملِاوٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر دھان کی قِسم کو تبدیل کرنا ہو تو دو مرتبہ راؤنی کرنا ضروری ہے۔

خشک/ وتر زمین میں براہِ راست کاشت:


بوائی کے بعدکھیت میں چھوٹے کیارے بنائیں اور ہلکا پانی لگادیں۔ اس کے علاوہ بوائی کے وقت فاسفورس اور پوٹاش کی سفارش کردہ کھادیں بھی ڈال دیں۔

دھان کی مشینی کاشت:


رائس ٹرانسپلا نٹر کےاستعمال سے کم وقت میں زیادہ رقبہ پر پنیری کی منتقلی آسان ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ چاول کی پیداوار میں فی ایکٹر اضافہ بھی مُمکن ہو جا تا ہے۔ دھان کی مشینی کاشت کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں:

  • لاب کی بروقت منتقلی
  • پودوں کی مطلوبہ تعداد کا حصول
  • منتقلی کے بعد پودوں کی جلد بڑھوتری کا آغار
  • مزدوروں کی قلت پر قابو
  • پیداواری لاگت میں کمی
  • فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ

پلاسٹک ٹرے میں پنیری اُ گانے کا طریقہ:


  • ایک ایکڑ دھان کی نرسری کے لئے 100 تا 120 ٹرے درکار ہوتی ہیں ۔ جن کے لئے بیج کی مقدار 8 تا10 کلوگرام فی ایکڑ ہوگی ۔
  • ٹرے کے لئے مٹی زرخیز ہو اور اس میں پتھر یا روڑ وغیرہ نہ ہوں۔ مٹی کو 5 ملی میٹر سوراخوں والے چھاننے سےچھان لیں ۔
  • سارے ٹرے مٹی سے بھرنے کے بعد ایک سیدھ میں رکھ دیں۔ تقریبا ایک مرلہ میں 100 ٹرے رکھی جاسکتی ہیں، بعد میں پانی لگا دیں لیکن ٹریوں کے او پر پانی نہ چڑھے اور ان کو سوکا بھی نہ لگنے پاۓ۔ پنیری کا قد بڑا ہونے پر پانی کھڑا بھی رکھا جاسکتا ہے۔
  • اگر پنیری قد میں چھوٹی یا کمزور نظر آۓ تو بوائی کے ہفتہ دس دن بعد ایک تا ڈیڑھ کلوگرام یوریا کھاد فی 100 ٹرے چھٹہ دیں۔ کیڑے وغیرہ کے حملہ کی صورت میں سفارش کردہ زہر کا استعمال کر یں۔
  • بوائی کے 25 تا30 دن بعد پنیری منتقلی کے قابل ہو جاتی ہے۔ منتقلی سےتقریبا 12 گھنٹے پہلے ٹرے پانی سے نکال کر خشک جگہ پر رکھ دیں اور تھوڑ اخشک ہونے دیں تا کہ پنیری کی جڑوں پر زیادہ گیلی مٹی ہونے کی صورت میں مشین کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔

منتقلی لاب بذریعہ رائس ٹرانسپلا نٹر


  • لاب کی منتقلی کے لیے کھیت اچھی طرح ہموار کر لیں اور منتقلی سے دو دن پہلے کھیت کو تیار کر کے کدو کرلیں۔
  • منتقلی کے وقت کھیت میں پانی کی مقدار ایک انچ سے کم اور یکساں رکھیں۔
  • منتقلی کے وقت پنیری کی جڑوں میں مٹی کی تہہ کی موٹائی دو سینٹی میٹر تک بہتر رہتی ہے۔
  • منتقلی کے دوران اگرمشین ناغے چھوڑے تو اسے اچھی طرح چیک کر کے درست کر لیں اور ناغوں کو بذریعہ مزدور پُر کر لیں ۔
  • مشینی کاشتہ فصل کی دیگر ضروریات مثلا کھادیں، زہریں اور پانی کا استعمال عام فصل کی سفارشات کے مطابق ہی رکھیں۔
  • مشین کے ذریعے لائینوں کا باہمی فاصلہ 12 انچ جبکہ پودوں کا باہمی فاصلہ 6 انچ برقرار رکھیں۔ تاہم ٹرانسپلانٹر میں پودے سےپودے کا فاصلہ کم یا زیادہ کرنے کی سہولت موجود ہے۔
  • پودے ڈیڑھ انچ سے زیادہ گہرے نہ لگائیں تا کہ یا اچھی طرح شاخیں بناسکیں۔

کھادوں کی سفارشات :



زنک اور بوران کا استعمال:


زنک سلفیٹ ( 33 فیصد ) بحساب 6 کلو گرام یا ز نک سلفیٹ( 27 فیصد ) بحساب 7 کلو گرام یا زنک سلفیٹ ( 21 فیصد ) بحساب 10 کلوگرام فی ایکڑ بوائی کے18سے 20 دن بعد ڈالیں ۔ بوران کی کمی کی صورت میں زمین کی تیاری کے وقت بورک ایسڈ بحساب3 یا بوریکس 10.5 فیصد بحساب 4.5 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔
نوٹ: اگر پچھلی فصل میں بوران کا استعمال کیا گیا ہو تو دھان میں استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔

کھادوں کے استعمال سے متعلق ہدایات:


  • اگر سابقہ فصل برسیم یا پھلی دار ہوتو نائٹروجنی کھاد کی مقدار میں 20 فیصد کمی کر لیں ۔
  • فاسفورس اور پوٹا ش کی پوری جبکہ نائٹروجن کی 1/3 مقدار کدو کر تے وقت آ خری ہل چلا کر ڈالیں اور سہاگہ دیں ، نائٹروجنی کھا د کی باقی ماندہ مقدار دو برابر اقساط میں ڈالیں اور 20 اگست سے پہلے مکمل کر لیں ۔
  • اگر پوٹاش کی کھاد بوائی کے وقت استعمال نہ کی گئی ہو تو نائٹروجنی کھاد کی دوسری قسط کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ کھا د کا چھٹہ دیتے وقت کھیت میں پانی کی مقدار کم سے کم رکھیں ، بہتر ہے کہ پانی بالکل نہ ہو صرف کیچڑ ہی ہو۔
  • ٹیوب ویل سے سیراب ہونے والی زمینوں میں پوٹاش کی کمی زیادہ ہوتی ہے۔ شدید کمی کی صورت میں پوٹاش کی کھاد کا سپرے کریں۔(پوٹاش 30 فیصد فولئر گریڈ مونجر نکلنے سے پہلے 1000 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

دھان میں زنک کی کمی کی علامات


  • پنیری کی منتقلی کے 10 تا 15 دن بعد پتوں کے کنارے پر گہرے بھورےرنگ کے دھبے بن جاتے ہیں۔
  • شدید کمی کی صورت میں یہ دھبے مل کر دھاریوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور کھیت جلا ہوا نظرآتا ہے اور پودے تھوڑا سا زور لگانے سے آسانی سے اکھڑ جاتے ہیں۔
  • پودوں کی شاخیں کم بنتی ہیں اور دانوں کی تعداد میں بھی کمی ہوتی ہے۔

لاب میں زنک سلفیٹ کا استعمال:

دھان کی نرسری میں کاشت کے 2 ہفتہ بعد زنک سلفیٹ (33 فیصد ) بحساب 200 گرام یا زنک سلفیٹ ( 27 فیصد ) بحساب 250 یا زنک سلفیٹ (21 فیصد )بحساب 300 گرام فی مرلہ استعمال کرنے سے فصل کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔

لاب کی جڑوں کو زنک آکسائیڈ کے محلول میں ڈبونا:

پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے پہلے اسکی جڑوں کو زنک آ کسائیڈ 2 فیصد محلول میں ڈبوئیں۔ اس محلول کی تیاری کے لیے اگر ایک کلو گرام زنک آکسائیڈ 50 لیٹر پانی میں حل کر یں تو یہ ایک ایکڑ پنیری کے لیے کافی ہوتا ہے۔

فصل میں زنک سلفیٹ کا استعمال:

فصل میں زنک کی زیادہ کمی کی صورت میں زنک سلفیٹ (33 فیصد ) بحساب 6 یا ز نک سلفیٹ (27 فیصد ) بحساب 7.5 یا زنک سلفیٹ (21 فیصد ) بحساب 10 کلوگرام فی ایکڑ لاب منتقل کرنے کے دس دن بعد چھٹہ کر یں ۔

دھان میں بوران کی کمی کی علامات :


  • بوران کی کمی کی صورت میں نئے نکلتے ہوئے پتوں کی نوکیں سفید اور لپٹی ہوئی ہوتی ہیں۔
  • شدید کمی کی صورت میں نئے نکلنے والے پتے گِر جاتے ہیں تاہم نئے شگوفے بنتے رہتے ہیں
  • اگر سٹے نکلتے وقت بوران کی کمی آئے تو دانے نہیں بنتے۔

بوران کا استعمال:

بوران کی کمی چاول کے روایتی علاقوں میں دیکھی گئی ہے ،اسلئے پنیری کی منتقلی کے لئے زمین کی تیاری کے وقت بورک ایسڈ بحساب 3 کلوگرام یا بوریکس 20 فیصد بحساب 4.5 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کر یں ۔

سبز کھادکا استعمال:


  • ہماری زمینوں میں نامیاتی مادہ کی مقدار بہت کم ہے، اس لیے ضروری ہے کہ فصل کی بہتر پیداوار کے لیے زمین میں سبز کھادوں کا استعمال کیا جائے۔

  • دھان کے علاقوں میں جنتر بطور سبز کھاد زیادہ بہتر نتائج دیتا ہے۔

  • دھان کی پنیری کی منتقلی سے تقریبًا 15 تا 20 دن پہلے جنتر کی فصل میں ہل چلا کر اِسے زمین میں ملا دیں اور کھیت میں پانی کھڑا رکھیں۔

  • دھان کی منتقلی سے کچھ دن پہلے زمین کَدّو کریں اور کھیت تیار کر لیں۔

  • جنتر کی باقیات کو بہتر طور پر گلانے کے لیے آدھی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کی جا سکتی ہے۔

آبپاشی:


  • پنیری کی منتقلی کے وقت کھیت میں پانی کی گہرائی ایک تا ڈیڑھ اِنچ رکھیں، زیادہ پانی کھڑا ہونے کی صورت میں پودے تیز ہوا سے اُکھڑ جائیں گے۔
  • پنیری لگانے کے دس دن بعد پانی کی گہرائی آہستہ آہستہ بڑھا دیں، لیکن دو اِنچ سے زیادہ نہ ہونے دیں، کیونکہ زیادہ گہرائی کی صورت میں پودوں کی شاخیں کم بنیں گی۔
  • لاب کی منتقلی کے 20سے25دن بعد تک کھیت میں پانی کھڑا رکھیں اور پھر پانچ سے چھ دن کے لیےکھیت کو ہوا لگنے دیں۔
  • اسکے بعد کھیت میں تر وتر کا پانی لگاتے رہیں، تا ہم کیڑے مار دانے دار زہریں ڈالتے وقت کھیت میں 5 تا 6 دن کے لیے ڈیڑھ تا دو اِنچ پانی ضرور موجود ہونا چاہیے۔
  • دانہ بھرنے کے بعد ( فصل پکنے سے دو ہفتہ قبل) پانی دینا بند کر دیں، تا کہ فصل کی کٹائی کے وقت کھیت زیادہ گیلا ہونے کی صورت میں فصل کی بروقت کٹائی میں دشواری نہ ہو۔

نوٹ: سٹہ نکلتے وقت اور دانہ بھرتے وقت فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں۔

براہِ راست کاشت کے طریقہ میں آبپاشی:

  • آبپاشی کا انحصار موسم،زمین اور طریقۂ کاشت پر ہوتا ہے۔ زمین کی صحیح طور پر ہمواری پانی کے بہتر استعمال کے لئے بہت اہم ہے۔
  • پہلا پانی فصل کی بَوائی کے 5 تا 7 دن بعد لگائیں ۔ اگاؤ کے بعد 30 دن تک تَر وَتر کا پانی لگاتے رہیں ۔ اس کے بعد وَتر کا پانی لگائیں۔
  • دانے دار ز ہر یں ڈالتے وقت 3 سے 4 دن تک کھیت میں پانی کھڑا رکھیں تا کہ زہر اپنا پورا اثر کر سکے۔
  • دانہ بننےکے وقت فصل کو کسی صورت سوکا نہ لگنے دیں ورنہ پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔
  • فصل کی کٹائی سے 15 تا 18 روز پہلے پانی لگانا بند کردیں۔

دھان کی فصل میں جڑی بوٹیوں کا اِنسداد:


دھان کی فصل میں جڑی بُوٹیاں بہت زیادہ اُگتی ہیں کیونکہ پانی اور درجہ حرارت ان کی افزائش کے لئے معاون ہوتے ہیں۔ جڑی بوٹیاں عموماً 15 تا 20 فیصد اور بعض صورتوں میں پچاس فیصد تک پیداوار کم کر دیتی ہیں۔ دھان کی فصل میں گھاس نما، ڈیلا اور اس کا خاندان اور چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔

  • جڑی بوٹیوں کے انسداد کے لئے زمین کی اچھی تیاری پانی کا بہتر انتظام اور جڑی بوٹیاں تلف کرنے والی زہروں کا مناسب استعمال ضروری ہے۔
  • اگر فصل کو پہلے 30 دن جڑی بوٹیوں سے پاک رکھا جاۓ تو بعد میں اُگنے والی جڑی بوٹیاں زیادہ نقصان دہ نہیں ہو تیں۔
  • کوئی اچھا اور منظور شدہ زہر کھڑے پانی میں لاب لگانے کے 3 تا 5 دن کے اندر ڈالیں۔
  • زہر ڈالنے کے ایک ہفتہ بعد تک کھیت سے پانی خشک نہ ہونے دیں ,اس طرح زہر کی اثر پذیری بڑھ جاتی ہے ۔

جڑی بوٹیاں اور اُنکا کیمیائی تدارک:


پہچان : اِس خاندان کی جڑی بوٹیوں کے پتے باریک اور نو کیلے ہوتے ہیں۔ تنا عموماً گول اور جوڑ دار ہوتا ہے ۔ پودے زمین کی سطح پربِچھے ہوۓہوتے ہیں لیکن کچھ زمین سے اوپر اُٹھے ہوۓ بھی ہوتے ہیں۔

جڑی بوٹیاں اور اُنکا تدارک:


پہچان : اس خاندان کی جڑی بوٹیوں کے پتے لمبے، پرنالہ نما اور چمک دار ہوتے ہیں۔ تنا تین کونوں والا ہوتا ہے اور پتے کے درمیان میں ایک لمبی اور واضح رَگ ہوتی ہے۔

جڑی بوٹیاں اور اُنکا تدارک:


پہچان : اس خاندان کی جڑی بوٹیوں کے پتےچوڑے اور مختلف شکلوں کے ہوتے ہیں۔ تنا سخت اور پودا زمین سے اوپر کو اُٹھا ہوا اور سیدھا ہوتا ہے۔

دھان کی بیماریاں اور اُنکا اِنسداد:


بھبکا یا بلاسٹ:


  • یہ بیماری (Pyricularia oryzae) پھپھوندی کی وجہ سے پھیلتی ہے۔
  • بھورے سے سیاہ نشانات پتوں، گانٹھوں، مونجر کی گردن، اور مونجر پر ظاہر ہوتے ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں دانے نہیں بنتے۔
  • بیمار بیج ہرگز کاشت نہ کریں۔
  • فصل کی پچھیتی کاشت نہ کریں۔
  • فصل کی ضرورت کے مطابق مناسب آبپاشی کریں۔
  • ٹرائی فلوکسی سٹروبن + ڈائی کونازول 65 گرام فی ایکڑ 100 لیٹر پانی میں استعمال کریں۔ یا سلفر بحساب 800 گرام استعمال کریں۔

بکائنی


  • یہ بیماری (Fusarium moniliforme) پھپھوندی کی وجہ سے پھیلتی ہے۔
  • بیماری سے متاثرہ پودوں کا قد عام پودوں سے لمبا اور رنگ پیلا ہوتا ہے۔
  • پودے کمزور ہوتے ہیں۔
  • یہ بیماری متاثرہ بیج اور فصل کی باقیات سے پھیلتی ہے۔
  • متاثرہ پودوں کے تُخم ریزے سارے کھیت کو آلودہ کر دیتے ہیں۔
  • قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں۔
  • بیمار پودوں کو اکھاڑ کر تَلف کر دیں یا جلا دیں۔
  • بیج کو پھپھوندی کُش زہر لگائیں۔ ڈیروسل یا ٹاپسن ایم 200 تا 300 گرام فی ایکڑ 100 لیٹر پانی کے ساتھ اسپرے کریں۔

پتوں کا جراثِیمی جُھلساؤ :


  • یہ بیماری (Xanthomonas oryzae pv. oryzae) جرثُومے کی وجہ سے پھیلتی ہے۔
  • یہ بیماری زیادہ تر فصل پہ گوبھ کے وقت حملہ آور ہوتی ہے۔
  • پتوں پر پیلے رنگ کی دھاریاں بنتی ہیں اور پتے اوپر کی طرف لِپٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔
  • شروع میں اس بیماری کا حملہ ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے اور سازگار ماحول ہونے سے سارے کھیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بیماری سے تحفظ کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں:
    • تا دن کی پنیری منتقل کریں۔
    • بیماری والے کھیت کا پانی دوسرے کھیت میں ہرگز نہ جانے دیں۔
    • بیمار پودوں کو اکھاڑ کر ضائع کر دیں۔
    • کاپر آکسی کلورائیڈ 500 گرام یا سلفر 800 گرام فی ایکڑ 100 لیٹر پانی میں ملا کر اسپرے کریں۔

پتوں کے بھورے دھبے :


  • یہ بیماری (Bipolaris oryzae) پھپھوندی کی وجہ سے پھیلتی ہے.
  • پوٹاش کی کمی والے کھیتوں میں اس بیماری کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔
  • پتوں پر لمبے یا گول نشان ظاہر ہوتے ہیں جو کناروں سے سرخی مائل بھورے اور درمیان سے خاکستری ہوتے ہیں۔
  • بیج کو پھپھوندی کش زہر لگا کر کاشت کریں۔
  • پوٹاش کا مناسب استعمال کریں۔
  • ٹرائی فلوکسی سٹروبن + ڈائی فینوکونازول 65 گرام یا ڈائی فینوکونازول 125 ملی لیٹر فی ایکڑ100 لیٹر پانی میں حل کر کے اسپرے کریں۔
  • سلفر800 گرام فی ایکڑ اسپرے کریں۔

تنے کی سڑانڈ :


  • یہ بیماری (Sclerotium oryzae) پھپھوندی کی وجہ سے پھیلتی ہے۔
  • اس بیماری کی علامات سِٹہ نکلنے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
  • بیماری کے جراثیم پانی کی سطح پر تنے کی اوپر والی پرت کے ساتھ لگ جاتے ہیں اور سیاہی مائل بھورے نشان بنا دیتے ہیں۔
  • اوپر والی پرت گَل جاتی ہے اور یہ بیماری تنے پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اس طرح تنا گل جاتا ہے اور فصل گِر جاتی ہے۔
  • شدید حملے کی صورت میں مُونجر پر دانے نہیں بنتے۔
  • متاثرہ فصل کے مڈھ تلف کر دیں۔
  • کھیت میں پانی زیادہ دِنوں تک ایک ہی جگہ نہ کھڑا ہونے دیں۔
  • لاب کی منتقلی کے 55-50 دن بعد تَر وَتر کا پانی لگائیں۔

دھان کی بیماریوں کا کیمیائی کنٹرول:

دھان کے ضرر رساں کیڑے اور انکا انسداد:


ٹوکا :

  • اس کا حملہ پنیری اور فصل دونوں پر ہوتا ہے۔
  • یہ کیڑا پتے کھاتا ہے۔
  • ٹوکا زمین یا پتوں پر گچھوں کی شکل میں انڈے دیتا ہے۔
  • یہ کیڑا موسم سرما میں انڈوں کی حالت میں کھیت کی وٹوں پر یا زمین کے اندر گزارتا ہے۔ ان انڈوں سے بچے نکل کر شروع مارچ میں برسیم، کماد، سورج مکھی اور جڑی بوٹیوں پر گزارتے ہیں۔
  • کھیتوں کے اندر اور اطراف میں وٹوں اور کھالوں پر اُگی ہوئی جڑی بوٹیاں تلف کریں۔
  • دھان کی پنیری کو چَری اور مکئی کے کھیتوں کے قریب ہرگز کاشت نہ کریں۔
  • بائی فینتھرین 250 ملی لیٹر یا فپرونل 480 ملی لیٹر فی ایکڑ 100 لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔

پتہ لپیٹ سنڈی :

  • یہ کیڑا دھان کا سب سے نقصان دہ کیڑا ہے۔
  • اس کے حملہ پیداوار میں تقریبًا 10 تا 12 فیصد تک نقصان کا باعث بنتا ہے۔
  • اس کا حملہ ٹکڑیوں کی صورت میں ہوتا ہے اور سایہ دار جگہوں پر حملے کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
  • انڈے سے نکلنے کے بعد میں یہ سُنڈی ایک دو دن تک کُھلے پتے پر رہتی ہے بعد میں یہ پتوں کے دونوں کناروں کو عمومًا لمبائی کے رخ اپنے لُعاب سے بنائے ہوئے دھاگے سے جوڑ کر اسے نالی نما بنا دیتی ہے اور دھاریوں کی شکل میں پتوں کو کُھرچ کے سبز مادے کو کھاتی رہتی ہے۔
  • رات کے وقت کھیتوں میں روشنی کے پھندے لگائیں تا کہ پروانوں کو تلف کیا جا سکے۔

تنے کی سنڈیاں:


  • دھان کی فصل خصوصًا باسمتی اقسام پر تنے کی سنڈیوں کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔
  • زرد اور سفید سنڈیاں زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں جبکہ گُلابی سنڈی کم نقصان پہنچاتی ہے۔
  • یہ سنڈیاں تنے میں داخل ہو کر اندر سے کھا جاتی ہیں۔
  • تنے کی اس بیماری کو سوک یا ڈیڈ ہارٹ کہتے ہیں۔
  • تنے کی زرد سنڈی سفیدی مائل زرد ہوتی ہے۔ پروانے کے اَگلے پروں کے درمیان ایک سیاہ نُقطہ نُما نشان ہوتا ہے۔
  • تنے کی سفید سنڈی کا رنگ چمکدار اور دودھیا سفید ہوتا ہے۔ مادہ پروانے کے پیٹ کے آخری حصہ پر زرد بالوں کا گچھا ہوتا ہے۔
  • تنے کی گُلابی سنڈی کے پروانے کا رنگ بھورا، جسم بھاری بھرکم، سر چوڑا اور گھنے بالوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ مکمل سنڈی گُلابی رنگ کی ہوتی ہے۔
  • دھان کی پنیری 8 مئی کے بعد کاشت کریں۔

دھان کا تیلہ :


  • تیلہ جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے۔
  • یہ پودے کے نچلے حصہ یعنی تنے سے رس چوستا ہے۔
  • جب نیچے سے فصل سوکھ جائے تب اوپر پتوں اور منضروں پر حملہ آور ہوتا ہے۔
  • یہ کیڑا بچہ اور بالغ دونوں حالتوں میں فصل کو نقصان پینچاتا ہے۔
  • متاثرہ پتے پیلے اور پھر بھورے ہو جاتے ہیں۔
  • کھیت کے اندر اور اطراف میں اُگی ہوئی جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
  • رات کو روشنی کے پھندے لگائیں۔
  • کاربوسلفان 500 ملی لیٹر فی ایکڑ یا لیمڈا سائی ہیلو تھرن 200 ملی لیٹر فی ایکڑ 100 لیٹر پانی میں حل کر کے استعمال کریں۔

دھان کے نقصان دہ کیڑوں کا کیمیائی انسداد:


دھان کی برداشت:


  • دھان کی اچھی اور معیاری پیداوار حاصل کرنے کے لئے مناسب وقت پر برداشت بہت ضروری ہے۔
  • کٹائی کا مناسب وقت وہ ہوتا ہے جب اُوپر والے دانے پک چُکے ہوں اور نیچے 2 سے 3 دانے سبز ہوں لیکن بھر چکے ہوں-
  • کٹائی کے وقت دھان 80 سے 85 فیصد تک سنہری اور زردی مائل ہونی چاہیے جب کہ اس میں نمی کا تناسب20 سے 22 فیصد ہو نا چاہیے ۔
  • اسٹور کرنے کے لئے مونجی کو 4 سے 6 دن تک دھوپ لگوائیں تا کہ نمی کا تناسب 12 سے 13 فیصد ہو جائے ۔

مشینی برداشت:

دھان کی برداشت بذریعہ مشین پچھلے کچھ سالوں سے کاشتکاروں میں مقبول ہو رہی ہے ۔ اس مقصد کے لئے عام طور پر استعمال ہونے والی مشینیں بنیادی طور پر گندم کی برداشت کے لئے بنی ہوئی ہیں۔ اس لئے برداشت کے دوران مشینیں دانے توڑ دیتی ہیں اور کچھ ان کا چھلکا اتار دیتی ہیں ۔ یہ مشینیں سبز ، کمزور اور خالی دانے جھاڑنے کے ساتھ ساتھ پودے کے سبز حصے بھی کاٹ لیتی ہیں جو جنس میں زیادہ کمی اور معیار کو کم کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔اس لئے اس ضِمن میں مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کر یں:

  • دھان کی فصل کی برداشت کے لئے رائس ہارویسٹر یعنی کبوٹا وغیرہ استعمال کر یں ۔
  • فصل کی برداشت کے دوران مشین کی رفتار مقررہ حد سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے ۔گری ہوئی یا لمبے قد والی فصل کی برداشت کرتے وقت مشین کی رفتارکم رکھیں ۔
  • ایک ورائٹی کی برداشت کے بعد مشین کی مکمل صفائی کر لیں تا کہ مختلف اقسام کی ملاوٹ نہ ہو اور چاول کی کوالٹی متاثر نہ ہو۔

اگر کسی وجہ سے دھان کی کٹائی میں تاخیر ہو جاۓ اور دانوں میں نمی کی سطح 18 فیصد سے کم ہو جاۓ تو مشینی کٹائی سے اجتناب کریں ورنہ چھڑ ائی میں ٹو ٹابہت زیادہ ہوگا ۔

دھان کی کٹائی کے لیے مشینیں: