تِل کا منافع بخش پیداواری منصوبہ

اہمیت

  • تل خریف کی ایک اہم روغندار فصل ہے۔
  • تل کے بیج میں 50 فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی تیل پایا جاتا ہے،
  • 22 فیصد سے زیادہ اچھی قسم کی پروٹین موجود ہوتی ہے ۔
  • 28 پی پی ایم کیلشیم، 23 پی پی ایم فولاد اور 13 پی پی ایم جست پایا جاتا ہے ۔
  • تلوں کا تیل ادویات سازی اور اعلیٰ قسم کے صابن، عطریات، کاربن پیپر بنانے کے کام آتا ہے ۔

موزوں زمین کا انتخاب اور زمین کی تیاری

زمین کی تیاری:

  1. دو تا تین مرتبہ ہل اور سہاگہ چلاکر زمین کو اچھی طرح تیار کریں۔
  2. زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لینڈ لیولر کریں تاکہ کھیت میں ایک جیسا وتر برقرار رہے۔
  3. اور فصل کا اُگاؤ بہتر ہو۔

تل کی اقسام اور وقت کاشت

  1. ٹی ایچ-6 : 1- 30 جون
  2. ٹی ایس -5 : 15 جون تا 15 جولائی
  3. تل 18: 15 جون تا 15 جولائی
  4. نیاب پر ل : 15 جون تا 31 جولائی
  5. نیاب تل- 2016 : 15 جون تا 31 جولائی

جڑی بوٹیوں کی تلفی

جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے جڑی بوٹی مارز ہر پینڈی میتھالین 800 تا 1000 ملی لیٹر فی 120 لیٹر پانی میں ملا کر بوائی کے فورا بعد سپرے کریں۔ بعض زہریں فصل پر تھوڑا سا برا اثر ڈالتی ہیں لیکن بعد میں پودے تندرست اور صحت مند ہو جاتے ہیں۔

تل کی اقسام اور ان کی خصوصیات

نیاب تل- 2016 ٹی ایچ-6 نیاب پر ل تل 18 ٹی ایس -5
  1. یہ قسم بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتی ہے ۔
  2. یہ قسم بھی شاخ دار اور تنے مضبوط ہوتے ہیں ۔
  3. تنا مضبوط ہونے کی وجہ سے فصل گرنے سے محفوظ رہتی ہے۔
  4. 95 تا 100 دن میں پک کر تیار ہوجاتی ہے ۔
  1. یہ یک شاخہ اور کم دورانیے کی قسم ہے۔
  2. اس پر 30 تا 35 دن کے بعد پھول آنا شروع ہوجاتے ہیں ۔
  3. اس کی پھلیاں پودے کی چوٹی پر لگتی ہیں ۔
  4. 100سے 110 دن میں پک جاتی ہے۔
  1. یہ قسم بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتی ہے ۔
  2. یہ قسم بھی شاخ دار اور تنے مضبوط ہوتے ہیں ۔
  3. تنا مضبوط ہونے کی وجہ سے فصل گرنے سے محفوظ رہتی ہے۔
  4. یہ فصل 100 سے 105 دن میں پک کر تیار ہوجاتی ہے ۔
  1. اس قسم کے پودے شاخ دار ہوتے ہیں ۔
  2. یہ قسم بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتی ہے۔
  3. یہ اچھی پیداوار کی حامل نئی قسم ہے اور 120 دن میں پک کر تیار ہوجاتی ہے۔
  1. اس قسم کے پودے شاخ دار ہوتے ہیں ۔
  2. یہ قسم بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتی ہے۔
  3. 40 تا 45 دن تک پودوں پر پھول لگنا شروع ہوجاتے ہیں ۔
  4. 120 دن میں پک کر تیار ہوجاتی ہے۔

شرح بیج اور طریقہ کاشت

نوٹ: نیاب پرل اور نیاب تل 2016 کھلی لائنوں میں کاشت کے لیے موزوں اقسام ہیں ۔ ان اقسام میں پودوں کا پھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لئے قطاروں کا باہمی فاصلہ اڑھائی فٹ اور پودوں کا باہمی فاصلہ 5 تا 6 انچ رکھیں ۔
جب فصل کا قد 2 فٹ ہوجائے تو ایک ہفتے کے وقفے سے 2 گوڈیاں کریں اور پھر ٹریکٹر اور رِجر کے ذریعے کھیلیاں بنادیں ۔

کھادوں کا استعمال

مقدار غذائی اجزاء (کلوگرام فی ایکڑ) کیمیائی کھادوں کی مقدار ( بوریوں میں فی ایکڑ)
نائٹروجن فاسفورس پوٹاش بوائی کے وقت بوائی کے بعد
34 24 12 ایک بوری ڈی اے پی + آدھی بوری ایس او پی /ایم او پی آدھی بوری یوریا پہلے اور آدھی بوری یوریا دوسرے پانی کے ساتھ

پھول آنے پر 4 کلو گرام سلفر 80 فیصد فلڈ کرنے سے پیداوار ‏ میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

چھدرائی و نلائی

  • 4 پتے نکلنے پر چھدرائی کریں۔
  • پودوں کا باہمی فاصلہ ٹی ایچ -6 کے لئے 4 انچ رکھیں۔
  • ٹی ایس -5 اور تل 18 کے لئے 6 انچ رکھیں۔
  • نیاب پرل اور نیاب تل 2016 کی صورت میں پودوں کا باہمی فاصلہ 5 تا 6 انچ رکھیں۔
  • فی ایکڑ پودوں کی تعداد 87 ہزار سے 88 ہزار رکھیں۔

آبپاشی

  • آبپاشی کا انحصار زمین کی قسم اور موسمی حالات پر ہے۔
  • عام طور پر 2 تا 3 پانی لگانے سے فصل پک جاتی ہے۔
  • پہلا پانی 15 تا 20 دن بعد لگائیں۔
  • دوسرا پانی پھول آنے پر لگائیں۔
  • تیسرا پانی ڈوڈیاں مکمل ہونے پر دیں ۔

تِل کی بیماریاں اور اُن کا اِنسداد

جڑ اور تنے کی سڑن

بیماری کا پھیلاؤ اور احتیاطی تدابیر

اکھیڑا یا مرجھاؤ (وِلٹ)

  • ابتدائی طور پر پودے کی جڑیں گلنا شروع ہوجاتی ہیں۔
  • بعد میں پودے آہستہ آہستہ مرجھانا شروع ہوجاتے ہیں اور آخر کار پورا پودا خشک ہوجاتا ہے۔
  • پانی کی کمی سے بھی یہ علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

بیماری کا پھیلاؤ اور احتیاطی تدابیر

  • بذریعہ زمین
  • بیمار پودے کے خس و خاشاک زمین میں دبے رہنے سے
  • بذریعہ بیج
  • متاثرہ جگہ پر آئندہ فصل کاشت نہ کریں۔
  • فصل کو سوکا نہ آنے دیں۔

کالر راٹ

  • یہ بیماری بذریعہ آبپاشی بیمار پودوں سے پھیلتی ہے۔
  • تخم ریزے پانی کی سطح پر تیر کر زمین کی سطح سے پودوں پر حملہ کرتے ہیں، جس سے پودوں کے تنے کے گرد سیاہ رنگ کا دائرہ بناتے ہیں۔
  • اس سے پودے کی جڑیں بھی گلنا شروع ہوجاتی ہیں۔

بیماری کا پھیلاؤ اور احتیاطی تدابیر

  • خس و خشاک
  • بذریعہ جڑی بوٹیاں
  • بذریعہ آبپاشی
  • متاثرہ زمینوں میں مئی جون میں ہل چلائیں۔
  • فصل کو آئندہ وٹوں پر کاشت کریں۔

تِل کا بٹور (Phyllody)

  • رس چوسنے والے کیڑوں کے ذریعے پھیلاؤ بیمار پودوں سے صحتمند پودوں پر ہوتا ہے۔
  • پھول چُڑ مُڑ جاتے ہیں۔
  • پھول کے نر اور مادہ حصے پتوں کی طرح سبز اور موٹے ہوجاتے ہیں۔
  • پھول پھل بنانے کے قابل نہیں رہتے۔
  • بعض اوقات بیمار پودوں پر صحتمند پھول بھی نظر آتے ہیں۔
  • جو کہ بعد میں پھل پیدا کئے بغیر ہی گرِ جاتے ہیں۔

تنے کا جھلساؤ (Stem Blight)

  • یہ بیماری گرم مرطوب موسم میں زیادہ پھیلتی ہے۔
  • جولائی اگست کی بارشیں اس کے لیے سازگار موحول پیدا کرتی ہیں۔
  • ابتداء میں پودوں کے تنوں پر ہلکے بھورے رنگ کے داغ بنتے ہیں۔
  • جو وقت گزرنے کے ساتھ لمبائی میں بڑھ کر گہرے بھورے رنگ کے ہوجاتے ہیں ۔
  • اور تنے کے گرد مکمل پھیل جاتے ہیں۔
  • شدید حملے کی صورت میں تنا کالا ہوجاتا ہے بعد میں تنا اور شاخیں مرجھا جاتی ہیں۔
  • بعض اوقات تنا ٹوٹ بھی جاتا ہے۔

بیماری کا پھیلاؤ

  • متاثرہ فصل سے لیا گیا بیج،
  • متاثرہ پودوں کے خس و خاشاک،
  • ہوا کے ذریعے سپورز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔
بیماری کیمیائی تدارک مقدار فی ایکڑ طریقہ استعمال
جڑ اور تنے کی سڑن، اکھیڑا یا مرجھاؤ، کالر راٹ تھائیوفینیٹ میتھائیل 70 فیصد 1000 گرام بذریعہ آبپاشی فلڈ کریں۔
فوسیٹائیل ایلومینیم 80 فیصد 800 گرام بذریعہ آبپاشی فلڈ کریں۔
کلوروتھیلونل+پائریمیتھانیل 40 فیصد 1000 ملی لیٹر بذریعہ آبپاشی فلڈ کریں۔
تنے کی سڑن ٹرائی فلوکسی سٹروبن +ٹیبوکونازول75 فیصد 65 گرام سپرے کریں۔
بٹور رس چوُسنے والے کیڑوں کا کنٹرول کریں۔متاثرہ پھول توڑ کر ضائع کر دیں۔

تِل کے نُقصان دہ کیڑے اور اُن کا اِنسداد

تِل کیپسول بورر / پتا لپیٹ سُنڈی

سفید مکھی

بالغ مکھی:

سفید مکھی کا دورانِ زِندگی

جیسڈ/ چُست تیلا

بالغ اور بچے دونوں پتے کی رگوں سے رس چوستے ہیں اور زہریلا مادہ پتے کی رگوں میں داخل کرتے ہیں۔ حملہ شدہ پتوں کے کنارے پہلے پہلے ہونا شروع ہوتے ہیں اور بعد میں سرخ ہو کر نیچے کی طرف مڑ جاتے ہیں اور بالآ خر مکمل طور پر خشک ہو کر گر جاتے ہیں۔

سبز تیلہ (Jassid)

ِملی بگ

  • شروع میں جڑی بوٹیوں پر نسل سازی کرتی ہے۔
  • بھنڈی، بینگن اور ٹماٹر پسندیدہ پودے ہوتے ہیں۔
  • مادہ پَروں کے بِنا جبکہ نَر پر دار ہوتے ہیں۔
  • مینگو بگ سے ملتی جلتی جبکہ سائز میں چھوٹی ہوتی ہے۔

ِملی بگ

  • مادہ ایک تھیلی میں 150 سے 600 تک انڈے دیتی ہے۔
  • پیسٹ میں زیادہ تر تعداد مادہ ملی بگھ کی ہوتی ہے۔
  • 3 تا 9 دنوں میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں، جنکو کرالرز کہا جاتا ہے۔
  • مادہ کی انڈوں والی تھیلی کو Ovisac کہا جاتا ہے، جو کہ حفاظتی کام بھی کرتی ہے۔
  • کرالرز متاثرہ پودوں سے صحت مند پودوں پر منتقل ہوتے ہیں۔
  • بارش، پانی، ہوا اور دیگر حشرات کے ذریعے منتقلی ہوتی ہے۔
  • شدید حملے کی صورت میں پودے شاخوں کی طرف سے سُوکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔
  • اسکے جسم سے لیس دار مادہ نکلتا ہے جو کہ سُوٹی مولڈ فنگس کا باعث بنتا ہے۔

ِتھرپس

  • یہ کیٹر ا اپنے درانتی نمادانت سے پتے کی نچلی سطح کو کھرچ کر رس چوستا ہے۔
  • جس کی وجہ سے پتے کی اوپر والی جھلی نیچے والی جھلی سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
  • حملہ شدہ پتے کمزور ہو کر اوپر کی طرف مڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور بالآخر سوکھ کر جھڑ جاتے ہیں۔
  • فصل کو ابتدائی دنوں میں شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
  • گرم اور خشک موسم میں افزائش نسل تیزی سے کرتا ہے۔
  • سارا سال موجود رہتا ہے اور مختلف فصلوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔
  • حملہ شدہ پتے چڑ مڑ جاتے ہیں اور سوکھ کر جھڑ جاتے ہیں۔
  • شدید حملے کی صورت میں پید اور بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

ِتھرپس

  • گرم اور خشک موسم سازگار
  • ابتدائی ایام میں شدید نقصان
  • پتے کی نچلی سطح کھرچ کر رس چوسنا
  • نچلی سطح کھردری چمکدار

ِمیرڈ بگ

  • بیضوی جسم رنگت سبزی مائل پیلی ہوتی ہے۔
  • دیکھنے میں چست تیلے سے ملتا جلتا لیکن ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں۔
  • بالغ اور بچے پتوں ، پھولوں اور نرم شگوفوں سے رس چوستے ہیں۔
  • زیادہ تر نرم شاخوں پر پایا جاتا ہے۔
  • رس چوستے وقت منہ سے زہریلے مادے کا خارج کرتی ہے جس سے پتے اور شگوفے سُوکھنا شروع ہوجاتےہیں۔
  • فصل جھُلسی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔
  • زیادہ حملہ پھول اور ڈوڈیاں بنتے وقت ہوتا ہے۔
کیڑے کیمیائی تدارک مقدار فی ایکڑ طریقۂ استعمال
سبز تیلا ڈائی نوٹیفیوران 100 گرام 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں
نائٹن پائرایم 50 فیصد 60گرام 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں
تھرپس کلور فیناپائر 36 ایس سی 100-200 ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں
میرڈ بگ، ِملی بگ کلوتھیانیڈن 20 ایس سی 200 ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں
سفید مکھی اسیٹامیپرڈ +پائری پروکسی فن 41.6 فیصد 250 ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں
کیپسول بورر ایمامیکٹن+لیوفینوران 3 فیصد 400 ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں سپرے کریں