جوار کا پیداواری منصوبہ !




اہمیت:


  • جوار ایک اہم اور جانوروں کا پسندیدہ چارہ ہے ۔
  • اس میں تقریباً 7 تا 10 فیصد پروٹین پائی جاتی ہے ۔
  • جوار چونکہ گرمی اور خشکی برداشت کر لیتی ہے اس لیے پنجاب کے اکثر علاقوں میں بطور چارے کے آسانی سے کاشت کی جاسکتی ہے ۔
  • اس کے بیج مرغیوں کی خوراک کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں ۔
Sorghum Image

آب و ہوا:

جوار موسم گرما کی فصل ہے اور پنجاب کی آب و ہوا اس کے لیے نہایت موزوں ہے ۔ خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت ہونے کی بنا پر اِس کی فصل پنجاب کےآبپاش اور بارانی دونوں علاقوں میں کامیابی سے کاشت کی جاسکتی ہے ۔

وقت کاشت اور شرح بیج:


بیج صحت مند ہونا چاہیے ۔ بوائی سے پہلے بیج کو سفارش کردہ پھپھوندی کُش زہر بھی لگایئں۔

زمین اور اُس کی تیاری:

بھاری میراز مین جس کا نکاس اچھا ہو جوار کی کاشت کے لئے بہترین ہوتی ہے ۔ زمین کی تیاری کے لیے دو تا تین مرتبہ ہل اور سہا گہ چلا کر اسے نرم اور بھر بھرا کر یں۔ اگر سابقہ فصل کے مُڈھ وغیرہ موجود ہوں تو ایک دفعہ روٹا ویٹر بھی چلائیں ۔ زمین کا ہموار ہونا اچھی پیداوار کا ضامن ہے ۔ اگر پچھلی فصل کی بوائی سے پہلے مٹی پلٹنے والا ہل نہ چلایا گیا ہو تو ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا حل اور دو دفعہ ہل چلا کر اسے نرم اور بھربھرا کر لیں۔

طریقۂ کاشت:

چارے کی اچھی پیداوار لینے کے لیے بیج کا چھٹہ کریں اور پھر ریجر کے ساتھ کھیلیاں نکال دیں۔۔ بیج کے لیے کاشت کی جانے والی فصل میں لائنوں کا باہمی فاصلہ ڈیڑھ تا دو فُٹ رکھیں اور چھدرائی کر کے پودوں کا باہمی فاصلہ چھ تا آٹھ انچ رکھیں ۔ بارانی علاقوں میں زمین کی وتر کو مدنظر رکھتے ہوۓشرح بیج میں مناسب اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

کھادوں کا استعمال:

گروٹیک آپ کے رقبے میں زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ہر کھیت کے اندر مختلف مقدار میں کھادوں کی سفارش کرتی ہے، تا کہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کی جا سکے۔


بوائی سے ایک ماقبل 3 یا 4 ٹرالی گوبر کی گلی سڑی کھاد فی ایکڑ یکساں طور پہ کھیت میں ڈالیں اور ہل چلا کر زمین میں ملا دیں۔
فصل کی ضرورت کے پیش نظر دوسرے پانی کے ساتھ بھی نائٹروجنی کھاد دی جاسکتی ہے۔
ہائبرڈ اقسام کے لئے کھاد نسبتاً زیادہ استعمال ہوتی ہے لہذا فصل کی قِسم کی ضرورت کے مطابق کھادوں کا استعمال کریں۔

آبپاشی:


جوار کی فصل کو عام طور پر 3 تا 4 پانی درکار ہوتے ہیں۔ پہلا پانی موسم کی مناسبت سے بوائی کے تین ہفتے بعد لگائیں اور باقی دورانیہ میں حسب ضرورت آبپاشی کریں۔ بیج والی فصل کو دانہ بنتے وقت پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں ورنہ پیداوار میں کمی اور جنس کا معیار متاثر ہوگا۔
نوٹ:
اگر چارے والی فصل کا قد تین فٹ سے کم ہو اور یہ پانی کی کمی کا شکار ہو تو اسے مویشیوں کو ہرگز نہ کھلائیں کیونکہ اس حالت میں اس میں ایک زہریلا مادہ ہائیڈرو سیانِک ایسڈ HCN) ) پیدا ہو جاتا ہے جو مویشیوں کے لیے نہایت مضر ہے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ فصل کو ایک پانی لگائیں اور پھر جانوروں کو کھلا نا شروع کریں۔ مونڈھی فصل کا چارہ مویشیوں کو کھلانے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ اس صورت میں بھوسہ وغیرہ یا کوئی اور سبز چارہ اس کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔

جڑی بوٹیوں کا تدارک:


بیج والی فصل میں عام طور پر اِٹ سٹ، تاندلہ، سوانکی اور مدھانہ وغیرہ کا کافی اگاؤ ہوتا ہے جن کو ختم کرنے کے لئے سفارش کردہ جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال کریں۔
واضح رہے کہ جوار کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے ایٹرازین بحساب 500 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کی جاسکتی ہے۔

نُقصان دہ کیڑے بیماریاں اور اُن کا انسداد:

برداشت:


چارہ کی فصل کو 50 فیصد پھول یعنی دُمبیاں نکلنے پر کاٹ لینا چاہیے۔اس وقت پیداوار اور غذائیت زیادہ حاصل ہوتی ہے ۔ فصل کو کاٹنے سے چند دن پہلے پانی لگا دیں اس سے چارے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جا تا ہے ۔ بیج والی فصل پک کر تیار ہو جاۓ تو اس کے سٹے کاٹ کر خشک جگہ پر اکٹھے کرتے جائیں ۔ خشک ہونے پر تھریشر سے دانے الگ کر لیں اور خشک تنوں کے گٹھے باندھ کر رکھ لیں جو سردیوں میں جانوروں کو کھلانے کے کام آسکتے ہیں ۔