کماد کا پیداواری منصوبہ

کماد ایک اہم نقد آور فصل ہےجو ہمارے ہاں گندم اور کپاس کے بعد سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت ہوتی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی چینی، گڑ اور شکر وغیرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اور گنے کی فصل کو مزید منافہ بخش بنانے کے لیے اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہایت ضروری ہے۔کماد کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپنا کر اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ پیداوار دینے والی سفارش کردہ اقسام کی کاشت، شرح بیج، طریقہ کاشت، وقت کاشت، کھادوں کا متناسب اور بروقت استعمال، بروقت آبپاشی، فصل کی بیماریوں ،نقصان دہ کیڑوں اور جڑی بوٹیوں کے موئثر انسداد پر بھرپور توجہ دی جائے۔

وقت کاشت:

بہاریہ کاشت: کماد کی بہاریہ کاشت کا موزوں وقت 15 فروری سے آخر مارچ تک ہے۔
ستمبر کاشت: ستمبر کاشت کے لیے موزوں وقت یکم ستمبر تا 15 اکتوبر ہے۔

سفارش کردہ اقسام

سی پی 400-77 ، سی پی ایف - 237 ، ایچ ایس ایف - 242 ہی پی ایف - 250 اور سی پی ایف - 251

ایچ ایس ایف 240 ، ایس پی ایف 234 ، ایس پی ایف 213 ہی پی ایف 246 ہی پی ایف 247 ، سی پی ایف 248 ہی پی ایف 249 ہی پی ایف 253 ہی پی ایس جی - 2525 اور ایس ایل ایس جی - 1283

سی پی ایف 252

نوٹ: ایچ ایس ایف 240 کانگیاری سے متاثر ہوتی ہے اس لیے متاثرہ فصل کی مونڈھی نہ رکھیں ۔

یاد رکھیں: ایچ ایس ایف 240- کانگیاری سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے متاثرہ فصل کی مونڈھی نہ رکھیں، اور بیج صحت مند فصل سے حاصل کریں۔ ایس پی ایف-234 رتہ روگ سے زیادہ متاثر ہوتی ہے لہذا اسکی کاشت کم سے کم کریں۔اور مونڈھی فصل رکھنے سے اجتناب کریں۔

کماد کی سفارش کردہ اقسام بلحاظ علاقہ جات

نام قسم سفارش کردہ علاقہ جات دیگر خصو صیات
ایچ ایس ایف 242-،ایچ ایس ایف 240 پنجاب کے تمام اضلاع دریائی علاقہ جات، خیبر پختونخواہ پکنے میں درمیانی، اچھی نشوونما، مونڈھی رکھنے کی اوسط صلاحیت، فصل کےنہ گرنے کی صلاحیت
ایس پی ایف 234- جنوبی پنجاب کے اضلاع ما سوائے دریائی علاقہ جات(صرف راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان کے علاقاجات کے لئے) پکنے میں درمیانی، مونڈھی رکھنے کی اچھی صلاحیت، رتا روگ کے خلاف کم قوت مدافعت، فصل کے نہ گرنے کی صلاحیت
سی۔پی 77400 پنجاب کے تمام اضلاع بشمول دریائی علاقاجات، خیبر پختونخواہ، سندھ پکنے میں اگیتی، اچھی نشونما، موڈی رکھنے کی اچھی صلاحیت، بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف قوت
مردان 93۔سی پی 51.21، خیبر پختونخواہ پکنے میں درمیانی، اچھی نشوونما، مونڈھی رکھنے کی اوسط صلاحیت، فصل کےنہ گرنے کی صلاحیت
بی ایف 129، لاڑکانہ 2001، سی پی ایف 237، ڈسکو، سی پی ایف 67.412 لوئر سندھ، اپر سندھ

شرح بیج :

کماد کی کاشت کے لیے 2 آنکھوں والے 30 ہزار یا 3 آنکھوں والے 20 ہزار سمے یعنی 60 ہزار آنکھیں فی ایکڑ استعمال کریں۔ سموں کی یہ تعداد تقریبا 100 تا 120 من کماد سے حاصل ہوتی ہے اور اس کے لیے 12 تا 16 مرلہ کماد درکار ہوتا ہے۔اس شرح بیج سے اوسط تقریبا 800سے 1000 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

بیج کو پھپھوندی کش زہر لگانا:

سموں کو کاشت سے پہلے 5 منٹ کے لیے تھائیو فینیٹ میتھائل 70% ڈبلیو پی کے محلول میں ڈبو کر کاشت کریں۔

بیج کا انتخاب و تیاری:

کماد کے اچھے بیج کے انتخاب کے لئے درج ذیل عوامل کا خیال رکھیں ۔

کماد کی کاشت کے لیے زمین کا انتخاب اور تیاری:

کماد کی بھرپور پیداوار کے لیے بھاری میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو، موزوں ہے۔ البتہ میرا اور ہلکی میرا زمین پر بھی اس کی کاشت کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ حسب ضرورت پانی دستیاب ہو۔ شور زدہ اور کلر والی زمین کماد کی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ کاشت سے پہلے زمین کو خوب بھر بھرا کر لیں، اس مقصد کے لیے پہلے روٹا ویٹر چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں اور پھر ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں۔ زیادہ گہری کھیلیاں بنانے کے لیے ایک دفعہ سب سائیلر چلائیں۔ اس کے بعد زمین کو ہموار کر لیں، اور 3 سے 4 دفعہ عام ہل چلائیں۔

طریقہ کاشت:

گہری کھیلیوں میں کاشت:

رجر کی مدد سے 10تا 12 انچ گہری کھیلیاں بنائیں، اور سموں کی دو لائنیں 8 سے9 انچ کے فاصلے پر اس طرح لگائیں کہ ان کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوں۔ سموں کے اوپر سفارش کردہ کھادیں اور دانے دار زہریں ڈالیں اور ان کو مٹی کی ہلکی سے تہہ سے ڈھانپ دیں۔

کھلے سیاڑوں میں کاشت:

اس مقصد کے لیے 3 فٹ کی کشادہ پٹیاں بنائیں اور ہر پٹی میں سموں کی دو قطاریں لگائیں، واضح رہے کہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 1 فٹ تک ہونا چاہیے۔ سموں کے اوپر سفارش کردہ دانے دار زہریں ڈالیں اور مٹی کی ہلکی سی تہہ چڑھا دیں۔

گڑھوں میں کاشت:

اس طریقہ کاشت میں ایک فٹ گہرائی کے گڑھے کھودیں، اور سموں کو گڑھے میں ترتیب دینے کے بعد گڑھوں کو سطح زمین کے برابر مٹی سے بھر دیں۔

نوٹ: گڑھوں میں مٹی کی بھرائی سے پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد یا کیمیائی کھاد ملا دینے سے پودوں کی بڑھوتری میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

شوگر کین پلانٹر:

شوگر کین پلانٹر کی مدد سے ایک گھنٹے میں ایک ایکڑ گنا کاشت کیا جا سکتا ہے۔ پلانٹر کی مدد سے کاشتہ کماد کا اگاؤ یکساں ہوتا ہے اور پیداوار میں دو سو سے تین سو من تک اضافہ ہوتا ہے۔

آبپاشی کے اہم مراحل:

سالانہ بارش کا عنصر نکال کر کماد کی فصل میں 16 تا 20 مرتبہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔پانی کی کمی پیداوار پر برا اثر ڈالتی ہے۔

سال کے مختلف مہینوں میں کماد کے لیے آبپاشی کا وقفہ

ماہ تعداد آبپاشی وقفہ برائے آبپاشی
مارچ – اپریل 3-2 20 تا 30 دن
مئی - جون 6-5 10 تا 12 دن
جولائی -اگست 4-3 15 تا 20 دن
ستمبر - اکتوبر 3-2 20 تا 30 دن
نومبر - فروری 4 30 دن
کل پانی 16 سے 20

کماد کی نشوونما کی حالتیں:

کماد کی فصل کی بہترین مینییجمنٹ اور بھر پور پیداوار لینےکےلئےفصل کا پیداواری مرحلہ جاننا ضروری ہے۔

بھرپور بڑھوتری کا مرحلہ GRAND GROWTH PHASE

گناپکنے کا مرحلہ(RIPENING PHASE)

کھادوں کے متعلق ہدایات:

کماد کی فی ایکڑ اچھی پیداوار کے حصول اور سفارش کردہ کھادوں کی صحیح مقدار کا تعین کرنے کے لئے زمین کا تجزیہ کروانا ضروری ہے۔گروٹیک کسانوں کو اپنی زمین کا تجزیہ کروانے کی سفارش کرتا ہے۔ تا کہ کم لاگت میں بہترین پیداوار کا حصول ممکن ہو سکے۔

زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے کماد کی فصل کے لیے کھادوں کی سفارشات

زمین کی زرخیزی مقدار غذائی اجزائ (کلو گرام فی ایکڑ)
کمزور زمین:نامیاتی مادہ 0.87% سے کم،فاسفورس 7 پی پی ایم سے کم اور پوٹاش 80 پی پی ایم سے کم ہوتا ہے۔ 120 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
69 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
50 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ
درمیانی زمین: نامیاتی مادہ 0.87% تا 1.29% ، فاسفورس 7 تا 14 پی پی ایم، اور پوٹاش 80 تا 180 پی پی ایم ہوتا ہے۔ 103 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
57 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
50 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ
زرخیز زمین: نامیاتی مادہ 1.29% سے زائد، فاسفورس 14 پی پی ایم سے زائد اور پوٹاش 180 پی پی ایم سے زائد ہوتا ہے۔ 87 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
46 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
50 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ

زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے کماد کی مونڈھی فصل کے لیے کھادوں کی سفارشات

زمین کی زرخیزی مقدار غذائی اجزائ (کلو گرام فی ایکڑ)
کمزور زمین:نامیاتی مادہ 0.87% سے کم،فاسفورس 7 پی پی ایم سے کم اور پوٹاش 80 پی پی ایم سے کم ہوتا ہے۔ 156 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
69 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
50 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ
درمیانی زمین: نامیاتی مادہ 0.87% تا 1.29% ، فاسفورس 7 تا 14 پی پی ایم، اور پوٹاش 80 تا 180 پی پی ایم ہوتا ہے۔ 134 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
57 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
50کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ
زرخیز زمین: نامیاتی مادہ 1.29% سے زائد، فاسفورس 14 پی پی ایم سے زائد اور پوٹاش 180 پی پی ایم سے زائد ہوتا ہے۔ 113 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
46 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
50 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ

بی۔او۔پی کا استعمال

پوٹاشیم ہیومیٹ کا استعمال گنے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنتا ہے۔بڑھوتری کے عمل کو تیز کرتا ہے۔فصل کو سرسبز و شاداب بناتا ہے۔جڑیں گھنی اور بہتر پرورش پاتی ہیں۔مدافعتی نظام میں بہتری لاتا ہے۔زمین کی پی ایچ کو فصل دوست بنائے، مائیکرو نیوٹرینٹس کو چیلیٹ کرے، زمین کو نرم اور بھربھرا بناتا ہے۔ کھادوں کی افادیت میں اضافہ کرتا ہے۔ کماد کے شگوفوں کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے۔

اجزائے صغیرہ کا استعمال

جب فصل تقریبا 1.5 سے 2 ماہ کی ہو جائے تو 8 کلو زنک 27 فیصد والا اور 5 کلو میگنیشیم پانی کے ساتھ فلڈ کر دیں، اس سے گنے کے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور فصل کے گرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ زنک کے استعمال سے مل بھیجنے والےگنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔

نوٹ: مندرجہ بالا سفارشات نامیاتی مادہ اور غذائی اجزائ کی مقدار کے لحاظ سے ہیں۔ گروٹیک آپ کے رقبے میں زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ہر کھیت کے اندر مختلف مقدار میں کھادوں کی سفارش کرتی ہے، تا کہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کی جا سکے۔

اوسط درجے کی زمینوں کے لئے کھادوں کی سفارشات اور وقت استعمال

وقت استعمال فاسفورس نائٹروجن پوٹاش نامیاتی مادہ زنک
زمین کی تیاری(بیجائی کے وقت) 1.5 بوری ڈی-اے-پی+2 بیگ بی-او-پی
یا
2.5 بوری ڈی-اے-پی
اگاؤکے بعد بیجائی کے 45 دن بعد 1 بیگ یوریا 8 کلو زنک سلفیٹ 27 فیصد یا 10 لیٹر زنک 10 فیصد
بیجائی کے 75 دن بعد 1 بیگ یوریا 10 لیٹر پوٹاشیم ہیومیٹ
بیجائی کے140 دن بعد 25 کلو یوریا 12.5 کلو پوٹاشیم سلفیٹ
یا
10 لیٹر پوٹاش 30 فیصد
بیجائی کے 180 دن بعد 1 بیگ یوریا
بیجائی کے 210 دن بعد 1 بیگ یوریا

مونڈھی فصل کی صورت میں (نائٹروجنی) کھادوں کا استعمال لیرا فصل کی نسبت 25-30 فیصد زیادہ کریں۔

پوٹاش کی اہمیت:

مونڈھی فصل کے لئے کھیت کا چناؤ

جس کھیت میں بیماری اور حشرات کا حملہ ہو اس کو مونڈھی رکھنے کے لیے ہرگز منتخب نہ کریں۔ مزید بر آں گری ہوئی فصل کو آئندہ کے لیے مونڈھی نہ رکھیں۔موںڈھی فصل میں جہاں ناغے ہوں انہیں لازمی پر کریں۔

مونڈھی رکھنے کا وقت: آخر جنوری سے شروع مارچ تک کا وقت کماد کی مونڈھی فصل رکھنے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس وقت رکھی مونڈھی فصل سے شگوفے خوب پھوٹتے ہیں اور پودے اچھا جھاڑ بناتے ہیں۔ نومبر، دسمبر اور شروع جنوری میں رکھی گئی مونڈھی زیادہ جھاڑ نہیں بناتی ،کیونکہ سردی کی شدت کی وجہ سے مڈھوں میں پوشیدہ آنکھیں مر جاتی ہیں۔

کماد کی اہم جڑی بوٹیاں اور ان کا تدارک

کماد کی بہاریہ فصل میں باتھو، بلی بوٹی، جنگلی چولائی، جنگلی پالک، جنگلی ہالوں ، کرنڈ ، اٹ سٹ ، مورک، کا را با را، ڈیلا، کھبل، نڑو، قلفہ، گاجر بوٹی، سینجی اور لہلی جبکہ ستمبر کاشتہ فصل میں اٹ سٹ، ڈیلا، جنگلی سوانک، ڈھڈن ،لومڑ گھاس، ماکڑو، مدھانہ، ہزار دانی ، سوانکی، تاندلہ، قلفہ اور چولائی وغیر ہ اگتی ہیں ۔ اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے جڑی بوٹیوں کی تلفی انتہائی ضروری ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق جڑی بوٹیوں کی وجہ سے کماد کی پیداوار 25 فیصد تک کم ہو سکتی ہے ۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی درج ذیل طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔

کیمیائی انسداد

اگاؤ سے پہلے سپرے:

کماد کی کاشت کے ایک تا دو دن بعد وتر حالت میں ایس میٹولا کلور 960 ای سی بحساب 1000 ملی لٹر یا میز وٹرائی اون + ایٹرازین 50 ڈبلیو پی بحساب 1000 گرام یا ایکلونی فن 500 ملی لٹر فی ایکڑ یا ان کے متبادل زہر سپرے کی جاسکتی ہیں ، یہ زہر یں بیشتر موسمی جڑی بوٹیاں تلف کردیتی ہیں اور اکثر دوسرا سپرے کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن بعض صورتوں میں سپرے کے باوجود ڈیلا کافی حد تک بچ جاتا ہے جسے تلف کرنے کے لئے دوسری مرتبہ سپرے کی ضرورت درپیش ہو سکتی ہے۔ڈیلا تلف کرنے کے لئے کماد کاشت کرنے کے ڈیڑھ ماہ بعد ہالوسلفیوران 80 ڈبلیو ڈی جی بحساب 20 گرام فی ایکڑ سولٹر پانی ملا کر سپرے کی جائے۔ جب فصل 65 دن کی ہو جاۓ تو اس میں ہل یا ملٹی روٹری و یڈر یا چھوٹا روٹا ویٹر چلایا جائے اور 100 تا 110 دن کی ہونے پرمٹی چڑھادی جاۓ تو بیشتر جڑی بوٹیوں کی تلفی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے ۔

نوٹ:

کماد کی فصل میں جڑی بوٹیوں کے بہترین کنٹرول کے لئے پانی کی فی ایکڑ مقدار 120-160 لیٹر رکھیں۔یاد رہے مکمل کنٹرول کے لئے جڑی بوٹیوں کا تر ہونا ضروری ہے ۔ سپرے تر وتر میں کریں اور صاف پانی کا استعمال کریں۔ سپرے ہمیشہ ٹی۔جیٹ نوزل سے کریں۔ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سپرے کرنے کے ایک ہفتہ بعد آبپاشی کر دی جائے۔

جڑی بوٹیاں نام زہر وقت استعمال مقدار فی ایکڑ طریقہ استعمال
چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں ایس میٹولاکلور 96 فیصد اگاؤ سے پہلے 800ملی لیٹر بیجائی کے بعد 24 گھنٹے کے اندر سپرے کریں یا فلڈ کریں۔
چوڑے و نوکیلےپتوں والی جڑی بوٹیاں ایٹرازین 38 فیصد+اسیٹوکلور 50 فیصد اگاؤ سے پہلے 500 ملی لیٹر+500 ملی لیٹر بیجائی کے بعد 24 گھنٹے کے اندر سپرے کریں
چوڑے و نوکیلےپتوں والی جڑی بوٹیاں ایٹرازین+ میزوٹرائی اون +پروپیسسوکلور 33.5 فیصد اگاؤ کے بعد 1500 ملی لیٹر جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت
چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں ایٹرازین+ میزوٹرائی اون 50 فیصد اگاؤ کے بعد 1000 سے 1200 گرام جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت
چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں ایٹرازین+ میزوٹرائی اون 55 فیصد اگاؤ کے بعد 1500-2000 ملی لیٹر جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت
چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں+ڈیلا ایٹرازین+ میزوٹرائی اون +ہیلوسلفوران 58 فیصد اگاؤ کے بعد 1000 گرام فی ایکڑ جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت
چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں+ڈیلا میزوٹرائی اون + ایٹرازین +ہالو سلفیوران میتھائل 80 ڈبلیو ڈی جی اگاؤ کے بعد 500-750 گرام فی ایکڑ جڑی بوٹیوں کی 2 سے 4 پتوں کی حالت

غذائی عناصر کی کمی کی علامات

نائٹروجن:

نائٹروجن کی کمی کی صورت میں پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے، اور پتوں کا رنگ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔پتے میں پیلاہٹ نو کدار سرے سے شروع ہو کر چوڑے حصے کی طرف جاتی ہے۔ پتے بعد میں بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔

فاسفورس:

پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ جڑوں کا نظام کمزور رہ جاتا ہے۔ پتوں کے نوکدار سرے جامنی رنگ کے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

پوٹاش:

پوٹاش کی کمی کی صورت میں پتوں پر سفید نشان پڑ جاتے ہیں۔ جو بعد میں بھورے ہو جاتے ہیں۔ یا پتے کناروں سے جلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسکی کمی سے گنے کے وزن میں بھی کمی آتی ہے۔

بوران:

بوران کی کمی کی صورت میں پتے پر سفید یا پیلے رنگ کے نشان نظر آتے ہیں ، اور چوٹی کے پتے چڑ مڑ ہو جاتے ہیں۔

زنک:

زنک کی کمی کی صورت میں پتوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور پتے جلنا شروع ہو جاتے ہیں اور فصل پر پھپھوندی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

کماد کے نقصان دہ کیڑے اور ان کا انسداد

دیمک (Termites)

کماد کاشت کرنے کے فورا بعد یہ کیڑے بیج کی آنکھ اور پوریوں کو اندر سے کھا کر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ فصل کے اگاؤ کے بعد بھی جڑوں اور زیر زمین حصوں کو کھا کر نقصان پہنچاتے ہیں اور متاثرہ پودے سوکھ جاتے ہیں۔ ریتلی ، خشک اور نئی آباد زمینوں میں حملہ زیادہ ہوتا ہے۔

انسداد: بیجائی کے وقت دانے دار زہروں کا استعما ل کریں۔

سیاہ بگ (Black Bug)

یہ کیڑا کماد کی مونڈھی فصل کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے، اپریل اور مئی میں فصل کی بڑھوتری کے شروع ہی میں حملہ آور ہوتا ہے ۔ بالغ اور بچے پتوں کا رس چوستے ہیں اور متاثرہ فصل کی رنگت زرد ہو جاتی ہے، اور پتوں پر گہرے سرخی مائل دھبے بن جاتے ہیں۔

انسداد: اس کے انسداد کے لیے امیڈاکلوپرڈ + فیپرونل ڈبلیو جی 80% بحساب 60 گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔

گھوڑ امکھی (Sugarcane Pyrilla)

یہ ایک رس چوسنے والا کیڑا ہے جس کے بچے اور بالغ پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں ۔ ان کے جسم سے نکلنے والے مواد کی وجہ سے پتوں کی سطح پر کالے رنگ کی پھپھوندی لگ جاتی ہے، جس سے پتوں میں خوراک بنانے کا عمل رک جاتا ہے۔ پودے کمزور ہو جاتے ہیں ، گنے کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور چینی کے معیار پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے ۔

انسداد: کلورپائیریفاس 40 فیصد 2 لیٹر فی ایکڑ فلڈ کریں۔

کماد کی سفید مکھی (Sugarcane whitefly)

کماد کی سفید مکھی کپاس کی سفید مکھی سے مختلف ہے لیکن دونوں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ حملہ شدہ پودوں پر پیلے رنگ کے لمبوترے پیوپے کافی تعداد میں نظر آتے ہیں جو پتوں سے چپکے رہتے ہیں اور حرکت نہیں کرتے ۔حملہ شدہ پودوں کو غور سے دیکھیں تو بالغ سفید مکھیاں اڑتی ہوئی یا پودوں پر بیٹھی ہوئی بھی نظر آتی ہیں ۔ اس کے بچے پتوں سے رس چوس کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ زیادہ حملہ کی صورت میں پتے پیلے ہو کر خشک ہو جاتے ہیں اور پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔

انسداد: اس کے تدارک کے لیے کلورپائیریفاس 40 فیصد 2 لیٹر فی ایکڑ فلڈ کریں۔یا اسیٹامیپرڈ 250 گرام فی ایکڑ کے حساب سے بارڈر لگائیں۔(فصل کے چاروں اطراف اسپرے کریں)۔

سرخ مائٹس (Red Mites)

بہت چھوٹی سرخی مائل بھورے رنگ کی جوئیں پتوں کی نچلی سطح پر جالے میں انڈے دیتی ہیں۔ بچے اور بالغ پتوں کا رس چوستے ہیں ۔ پتوں کی رنگت بھوری سرخ ہو جاتی ہے ۔ مئی تا جولائی گرم خشک موسم میں حملہ شدید ہوتا ہے ۔ شروع میں حملہ عام طور پر ٹکڑیوں میں ہوتا ہے اور بعد میں بہت تیزی سے فصل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ۔ تیز بارش سے یہ دھل جاتی ہیں اور حملہ کم ہو جا تا ہے ۔

انسداد: جوؤں کے تدارک کے لیے ایبامیکٹن 1.8 فیصد 004 ملی لٹر فی ایکڑ سپرے کریں

سفید مائٹس(White Mites)

یہ جوئیں پتوں کی نچلی سطح پر سفید جالے بنا کر رہتی ہیں ۔ پتوں پر ترتیب وارمتوازی قطاروں میں سفید دھبے نظر آتے ہیں یہ بہت سخت جان ہوتی ہیں ۔ جالے پرز ہر بھی کم ہی اثر کرتا ہے ۔ اگست ستمبر میں حملہ شدید ہوتا ہے۔

انسداد: جوؤں کے تدارک کے لیے ایبامیکٹن 1.8 فیصد 004 ملی لٹر فی ایکڑ سپرے کریں

کماد کی گلابی گدھیڑی (Sugarcane Pink mealybug)

کماد کی گلابی گدھیڑی کو عام طور پر زیادہ خطر ناک کیڑا نہیں سمجھا جاتا لیکن موجودہ موسمی حالات میں اس کا حملہ کافی جگہوں پر بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے اضلاع میں کماد کی گدھیڑی زیادہ تر پتوں کے غلاف کے نیچے گانٹھوں کے اوپر ہوتی ہے۔ جہاں سے یہ پتوں اور تنے کا رس چوس کر نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر حملہ شدید ہو جاۓ تو پتے خشک ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور فصل مرجھائی ہوئی نظر آتی ہے۔ عام طور پر اس کیڑے کی مادہ چپٹی قدرے گول اور گلابی ہوتی ہے جس کے جسم پر سفید رنگ کا سفوف پایا جاتا ہے جو کہ ایک ہزار تک انڈے دے سکتی ہے ۔ انڈوں سے دس سے چودہ گھنٹے بعد بچے نکل آتے ہیں ۔ یہ مادہ کی پشت پر ایک تھیلی میں محفوظ رہتے ہیں اور وہاں سے نکل کر نئے شگوفوں کی طرف چلتے ہیں بعد میں مطلوبہ جگہ یعنی پتوں کے غلاف کے اندر پہنچ کر پودوں کا رس چوسنا شروع کر دیتے ہیں اور اسی جگہ پر ان کا باقی زندگی کا دورانیہ مکمل ہوتا ہے ۔ اس کیٹرے کا نر پردار ہوتا ہے ۔ یہ کماد کی فصل میں رس چوسنے کے ساتھ ساتھ فنگس پھیلانے کا بھی باعث بنتی ہے۔

ابتدائی تنے کا گڑ وواں

اس کا پروانہ بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کے منہ کے سامنے دو آگے نکلے ہوئے سید ھے ابھار ہوتے ہیں اور اس کے اگلے پروں کے کناروں پر کالے رنگ کے چھوٹے دھبے ہوتے ہیں جبکہ پچھلے پر سفید رنگ کے ہوتے ہیں اور مادہ سفید رنگ کے انڈے چھوٹے پودوں کے پتوں کے اندرونی سطح پر ڈھیروں کی صورت میں دیتی ہے ۔ جس سے سنڈیاں نکل کر اوپر تنے میں سوراخ کر کے سرنگ بناتی ہیں اور بڑھوتری والی شاخ کو کاٹ کر اندر سے سوکھا دیتی ہے۔ یہ کیٹرا کماد کی بہار یہ فصل کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے اور ابتدائی تنے پر حملہ کر کے اسے بالکل ختم کر دیتا ہے۔

چوٹی کا گڑ وواں (Top Borer)

پروانے کا رنگ سفید ہوتا ہے ۔ مادہ کے پیٹ کے سرے پر بھورے رنگ کے بالوں کا گچھا ہوتا ہے ۔سنڈی کا رنگ سفید اور پیٹ پر لمبائی رخ ایک گہرے بھورے رنگ کی دھاری ہوتی ہے۔ مارچ سے نومبر تک اس کی 4 تا 5 نسلیں حملہ آور ہوتی ہیں ۔ پہلی نسل اوائل مارچ میں حملہ آور ہوتی ہے جبکہ دوسری مئی میں تیسری جولائی میں اور چوتھی اگست میں نکلتی ہے ۔ سوک کو آسانی سے کھینچا جا سکتا ہے نیز نوخیز پتوں پر بار یک بار یک سوراخ واضح نظر آتے ہیں گنے کی چوٹی کی طرف شاخوں کا گچھا سا بن جا تا ہے ۔ سردیوں میں یہ کیٹر ا سنڈی کی حالت میں گنے کی چوٹی میں ہوتا ہے۔

تنے کا گڑ وواں (Stem Borer)

پروانے کا رنگ بھورا، اگلے پروں کے باہر کناروں پر سیاہ دھبوں کی قطار ہوتی ہے۔ سنڈی کا رنگ مٹیالا سفید یا زرد اور جسم کے اوپر بھورے رنگ کی پانچ دھاریاں ہوتی ہیں ۔ سردیاں سنڈی کی حالت میں مڈھوں میں گزارتا ہے۔ فروری مارچ میں پروانے نکلتے ہیں اور نومبر تک 5 نسلیں جنم لیتی ہیں۔ اپر یل سے جون تک حملہ شدید ہوتا ہے۔ مئی ،جون میں سوک دیکھی جاسکتی ہے جو آسانی سے باہر نہیں کھینچی جاسکتی ۔ سنڈی جولائی میں تنے میں سرنگیں بناتی ہے اور یہ عمل ستمبر اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ گنے کے پہلو میں شاخیں نکل آتی ہیں۔

جڑ کا گڑوواں (Root Borer)

جڑ کا گڑوواں (Root Borer) پروانے کا رنگ ہلکا زردی مائل بھورا ہوتا ہے ۔ جبکہ سنڈی کا رنگ سفید دودھیا، سر کا رنگ زرد بھورا اور جسم جھری دار ہوتا ہے۔ یہ کیڑا موسم سرما سنڈی کی حالت میں مڈھوں میں گزارتا ہے۔ اپریل سے اکتوبر تک تین نسلیں پیدا ہوتی ہیں سنڈی زمین کی سطح کے برابر مڈھ کے تنے میں سوراخ کر کے داخل ہوتی ہے اور سرنگ بناتی ہوئی نیچے چلی جاتی ہے۔ پودے کی کونپل کے ساتھ ایک دو پتے مرجھا کر خشک ہو جاتے ہیں اور سوک بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ چھوٹی فصل کو زیادہ نقصان پہنچا تا ہے۔ خشک سالی میں نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔

گورداسپوری گڑ وواں (Gurdaspur Borer)

پروانے کا رنگ بھورا اور اگلے پروں کے کناروں پر سات سیاہ دھبے ہوتے ہیں۔ سنڈی کا رنگ بادامی ، سر بھورا اور جسم پر لمبائی کے رخ سرخی مائل چار دھاریاں ہوتی ہیں ۔ یہ کیڑا نومبر سے مئی تک سنڈی کی حالت میں کماد کے مڈھوں میں گزارتا ہے۔ بارش کی آمد کے ساتھ جولائی میں پروانے نکلتے ہیں ۔سنڈیاں گنے کے اوپر والے حصے کی گانٹھ سے تھوڑا اوپر تنے کے چھلکے کو ایک حلقے میں کتر دیتی ہیں اور پھر ایک سپرنگ نما سرنگ بناتی ہیں۔ اس سے اوپر کا حصہ پہلے مرجھا جاتا ہے اور پھر بالکل سوکھ جاتا ہے ۔ ہوا کے جھکڑ سے یا ہاتھ لگانے سے متاثرہ گنے کا اوپر والا حصہ آسانی سے ٹوٹ کر گر سکتا ہے ۔ حملہ عام طور پر ٹکڑیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ لہذا کھیت کے گرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہوکر نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

نقصان دہ کیڑے کیمیائی کنٹرول مقدار فی ایکڑ طریقہ استعمال
دیمک، تنے کی ابتدائی سنڈیاں فیپرونل 0.4 فیصد 12 کلوگرام بیجائی کے وقت لائینوں میں کیرا کریں
کاربوفیوران 3 فیصد 16 کلوگرام بیجائی کے وقت لائینوں میں کیرا کریں
فیپرونل+ایمامیکٹن 0.35 فیصد 8 کلو گرام بیجائی کے وقت لائینوں میں کیرا کریں
کلور ینٹرا نیلی پرول + تھایا میتھا کسم 0.6 فیصد 3-6 کلوگرام بیجائی کے وقت لائینوں میں کیرا کریں اگاو کے بعد چھٹہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
تنے کی سنڈیاں(بوررز) کلورانٹرانیلی پرول 20 فیصد 100-150 ملی لیٹر نوزل کھول کر ڈرینچنگ کریں۔
فیپرونل 5 فیصد یا فپرونل 80 فیصد 960 ملی لیٹر یا 60 گرام فی ایکڑ بزریعہ آبپاشی فلڈ کریں
تنے کی سنڈیاں(بوررز)،گھوڑا مکھی،سفید مکھی کلورپائیریفاس 40 فیصد 2000 لیٹر فی ایکڑ بزریعہ آبپاشی فلڈ کریں
سیاہ بگ کلوتھیانیڈن 20 فیصد 150-200 ملی لیٹر ٹی۔جیٹ نوزل استعمال کر کے اسپرے کریں۔ ہفتے بعد اسپرے دہرائیں۔
امیڈا کلوپرڈ+فیپرونل 80 فیصد یا لیمبڈا سائیہلوتھرین2.5 فیصد 60 گرام فی ایکڑ یا 400 ملی لیٹر

نوٹ : گڑووں کے انسداد کے لیے ہر 30 دن کے وقفے سے 30 جولائی تک زہر پاشی کرتے رہیں۔تنے کی سنڈی ، ملی بگ ،سفید مکھی کے کنٹرول کے لئے کلورپائریفاس کے ساتھ 30 گولیاں فینائیل کی فلڈ کریں۔

تنے کی سنڈیوں اور دیمک کے انسداد کے لئے کلورو پائری فاسEC-40 بحساب 1250 ملی لٹر یا فیپرونل ڈبلیو ڈی جی 80 فیصد بحساب 30 گرام یا امیڈ اکلوپرڈ + فیپر ونل80 فیصد بحساب 100 گرام فی ایکٹر بوائی کے وقت سموں پر سپرے کر دیں ۔

کماد کی بیماریاں اور ان کا تدارک

رتاروگ (Red Rot)

یہ بیماری ایک خاص پھپھوندی کی وجہ سے لگتی ہے جو Colletotrichum falcatum کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سے زیادہ نسلیں ہیں جو فصل کو متاثر کرتی ہیں ۔ رتا روگ گنے اور چینی کی پیداوار میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہے۔ بیماری کی شدت سے فصل مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہے ۔ متاثرہ پودے کا تیسرا یا چوتھا پڑھ کنارے سے سوکھنا شروع ہو جا تا ہے پھر پتے کے سرے خشک ہونے لگتے ہیں اور نیچے کی طرف خشک ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ سارا گنا خشک ہونے لگتا ہے ۔ گنے کو چیر کر دیکھیں تو پور یوں کا گودا سرخ ہوتا ہے جو مرکز میں لمبائی کے رخ کھوکھلا ہونے لگتا ہے اور اس میں با قاعدہ سفید دھبے نظر آتے ہیں جس میں سرخ خلیوں میں سفید پھپھوندی کے روئی کی طرح گالے صاف نظر آتے ہیں۔ گنے کا چھلکا سکڑ جاتا ہے اور اس کا رنگ سرخی مائل بھورا ہو جاتا ہے اور چھلکے پر پھپھوندی کے بیج کے سیاہ نقطے نظر آتے ہیں

کانگیاری (Whip Smut)

اس بیماری کا سبب ایک پھپھوندی Ustilago scitamineae ہے۔ کانگیاری سے گنے اور چینی کی پیداوار پر نہایت برا اثر پڑتا ہے۔ پودے کی مرکزی کونپل سیاہ چا بک کی شکل میں باہر آتی ہے۔ جس پر موجود سیاہ سفوف بار یک سفید ریشمی پردے میں ملفوف ہوتا ہے ۔ جو پھٹ کر بیماری کے تخم(Spores) آگے پھیلاتا ہے ۔ متاثرہ پودے کے گنے پتلے ہو جاتے ہیں ۔پتے چھوٹے اور سخت ہو جاتے ہیں اور بڑھوتری رک جاتی ہے ۔ کھڑے گنے کی آنکھیں پھوٹنے سے بیمار شاخیں نکل آتی ہیں ۔ پھپھوندی کے تخم زمین میں جا کر صحت مند فصل کومتاثر کرتے ہیں۔

چوٹی کی سڑانڈ (Pokkah Boeng)

اس بیماری کا سبب Fusarium moniliforme نام کی پھپھوندی ہے۔ کماد کے نئے پتوں پر بیماری کے شروع میں پیلے رنگ کے دھبے بننا شروع ہو جاتے ہیں اور سرخی مائل بے ترتیب دھاریاں بننے لگتی ہیں ۔ گنے کی پوریاں چھوٹی اور پتلی رہ جاتی ہیں جن پر سیڑھی نما نشان بن جاتے ہیں ۔ شدید حملہ کی صورت میں گنے کا اوپر کا حصہ بھورا ہو کر چڑ مڑ ہو جا تا ہے۔ بیماری کے تخم ایک پودے سے دوسرے پودے تک ہوا اور بارش کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں ۔

کمادکی برگی دھاریاں (Red Stripe)

اس بیماری کا سبب (Xanthomonas rubrilinians) بیکٹیریا ہے ۔ بیماری کی صورت میں گنے کے پتے پر لمبائی کے رخ سرخ دھاریاں بن جاتی ہیں اور درمیانی رگ پر 2 تا 3 سرخ رنگ کے دھبے بن جاتے ہیں۔ بعض اوقات چوٹی کا حصہ گل جاتا ہے اور بو آنے لگ جاتی ہے۔

کنگی (Rust)

نئے پتوں پر گہرے بھورے رنگ کے دھبے ظاہر ہوتے ہیں جو متاثرہ پتوں کو سرخی مائل بھورا کر دیتے ہیں ۔شدید حملہ کی صورت میں پتے سرخی مائل پاوڈر سے بھر جاتے ہیں ۔ یہ بیماری ایک پھپھوندی سے پھیلتی ہے جس کا نام Puccinia melanocephala ہے ۔ بہار یہ کاشت میں اگر بارش ہو جاۓ تو بیماری اپریل مئی میں ظاہر ہوتی ہے ۔ستمبر کاشت میں یہ بیماری اکتوبر سے دسمبر تک اور پھر فروری سے اپریل تک زور پکڑتی ہے ۔ کم درجہ حرارت اور مرطوب موسم اس کے پھیلانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔

کماد کی سفید پتوں والی بیماریاں (White Leaf Disease of Sugarcane)

کماد کی سفید پتوں والی بیماری خطرناک ہے۔ جو ایک خاص قسم کے جرثومہ سے پھیلتی ہے جو پودے کے اندرونی نظام میں چلا جاتا ہے اور خوراک بنانے کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پتوں کا سبر مادہ ختم ہو جاتا ہے اور پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ گذشتہ دو سالوں سے سندھ کے کئی علاقوں میں اس بیماری کا حملہ خطر ناک حد تک بڑھ گیا ہے ۔ صوبہ پنجاب میں اس بیماری کا حملہ ابھی کم ہے لیکن مستقبل میں اس کے امکانات کو ردنہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے مستقل منصوبہ بندی اور ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تا کہ فصل کو اس کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔

علامات:

  1. متاثرہ پودے کے پتے بالکل سفید ہو جاتے ہیں اور ہرا مادہ ختم ہو جاتا ہے۔
  2. شدید حملہ کی صورت میں گنے نہیں بنتے۔
  3. یہ بیماری اگاؤ سے برداشت تک کسی بھی مرحلہ پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔ تاہم اگست تا اکتوبر میں بیماری کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ ریتلی زمین میں کاشتہ فصل پر اس بیماری کے امکانات نسبتا زیادہ ہوتے ہیں۔

نوٹ: کماد کی فصل کو بیماریوں سے بچانے کے لیے درج ذیل اقدامات کو مد نظر رکھیں۔

کماد کی بیماریوں کا کیمیائی تدارک

بیماری کیمیائی کنٹرول مقدار فی ایکڑ طریقہ استعمال
رتہ روگ تھائیوفنیٹ میتھائیل 70 فیصد 2 کلوگرام
  1. سیڈ ٹریٹمنٹ کریں۔ یا
  2. پہلے پانی کے ساتھ حفاظتی طور پر فلڈ کریں۔
کاپر آکسی کلورائیڈ 50 فیصد 2 کلوگرام پہلے پانی کے ساتھ حفاظتی طور پر فلڈ کریں۔
فوسٹائیل ایلومینیم 80 فیصد 1.5 سے 2 کلوگرام مون سون کی بارشوں سے پہلے دوسری حفاظتی مقدار فلڈ کریں۔
کماد کی رسٹ یا کنگی ایزاکسی سٹروبن + ٹیبوکونازول 50 فیصد 100 ملی لیٹر فی ایکڑ
  • فصل چھوٹی ہو تو سپرے کریں۔
  • بڑی فصل میں کناروں پر سپرے کریں۔
کماد کی برگی دھاریاں کاپر آکسی کلورائیڈ+کاسوگامائیسین 47 فیصد 250 گرام فی ایکڑ اسپرے کریں۔

نوٹ: کماد میں رتہ روگ کے کنٹرول کے لئے دو حفاظتی زہر پاشی(ایک بیجائی کے فورا بعد اور دوسری مون سون کی بارشوں سے پہلے) لازمی کریں۔

کماد کی فصل کا کورے اور شدید سردی سے تحفظ

کورے کے شدید حملے سے گنے کا وزن کم ہو جا تا ہے اور مٹھاس کا معیار گر جا تا ہے ۔ کورے کے حملے سے گنے کی آنکھیں بھی متاثر ہوتی ہیں اور ان کے پھوٹنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے آئندہ فصل کے لئے بیج کے مسائل ہو سکتے ہیں ۔لہذا کورے کے اندیشے کے پیش نظر کماد کی فصل خاص طور پر بیج کے لئے تیار کی گئی فصل کو کورے اور شدید سردی سے بچانے کے لیے مندرجہ ذیل سفارشات پر عمل کر یں۔

کماد کی برداشت:

کماد کی کٹائی گنے کی اقسام اور فصل کے پکنے کو مد نظر رکھ کر کر یں۔ پہلے ستمبر کاشت ،مونڈھی اور اگیتی پکنے والی اقسام برداشت کر یں ۔اس کے بعد درمیانی اور پچھیتی اقسام برداشت کر یں ۔سیلاب زدہ، چوہے سے متاثر ہ اور گری ہوئی فصل کو پہلے برداشت کر یں ۔ فصل کی برداشت سے ایک ماہ پہلے آبپاشی بند کر دیں۔ گنا کاٹنے کے بعد جلد از جلد مل کو سپلائی کر دیں تا کہ وزن اور ریکوری میں کمی نہ آئے ۔مونڈھی رکھنے کے لئے فصل 15 جنوری کے بعد کاٹیں ۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کچھ کا شتکار نائٹروجنی کھاد کا استعمال دیر تک جاری رکھتے ہیں جس کی وجہ سے گنے میں شکر کی مقدار کم ہو جاتی ہے، اس لیے نائٹروجنی کھاد کا استعمال سفارش کردہ وقت پر کر یں ۔ گنا سطح زمین سے آدھا تا ایک انچ گہرا کاٹیں ، اس سے ایک تو مونڈھی رکھنے کی صورت میں زیر زمین آنکھیں زیادہ صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں اور دوسرا مڈھوں میں موجود گڑووں کی سنڈیاں تلف بھی ہو جاتی ہیں ۔