ہلدی کا پیداواری منصوبہ

زمین کی تیاری

ہلدی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو ،موزوں رہتی ہے ۔ کھیت کا اچھی طرح ہموار ہونا بہت ضروری ہے تا کہ اس میں آبپاشی یا بارش کا پانی کھڑا نہ ہو سکے۔ کاشت سے کم از کم ایک مہینہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بحساب 25 سے 30 ٹن فی ایکڑ کھیت میں اچھی طرح ملا دیں اور آبپاشی کریں ۔ قطاروں کا باہمی فاصلہ 24 تا30 اور پودوں کا باہمی فاصلہ 8 تا9 انچ رکھ کر کھرپہ کی مدد سے تقریبا 2 انچ گہرا بیج کاشت کر یں ۔

طریقہ کاشت

کاشت کے بعد کھیت میں ایک انچ کھوری کی تہ بچھا دیں تا کہ زمین کی نمی زیادہ دیر تک برقرار رہے۔ اس کی بدولت درجہ حرارت بھی کم رہے گا اور ہلدی کی گنڈیاں گرمی کے نقصاندہ اثر سے محفوظ رہیں گی۔ فصل کا اگاؤ اچھا ، بڑھوتری تسلی بخش اور پیداوار زیادہ ہوگی ۔ ہلدی کا ا گاؤ کاشت سے ایک تا ڈیڑھ ماہ بعد شروع ہو جا تاہے اور تقریبا اڑھائی ماہ میں مکمل ہوتا ہے ۔ ہلدی کی کاشت دو تا اڑھائی فٹ کے فاصلے پر بنائی گئی وٹوں پر بھی کی جاسکتی ہے ۔ لیکن ہموارز مین پر کاشت کی ہوئی فصل زیادہ پیداوار دیتی ہے۔

آب و ہوا اور وقتِ کاشت

ہلدی کی کاشت کے لیے مرطوب اور معتدل آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ پنجاب میں ہلدی کاشت کرنے کا موزوں وقت مارچ اور اپریل کامہینہ ہے۔ مارچ کے آخری پندرہ دن بہترین رہتے ہیں۔

شرح بیج

ہلدی کی بوائی کے لئے 800 تا 1000 کلوگرام گنڈیاں فی ایکڑ استعمال کر یں ۔ زیادہ بہتر ہے کہ جڑ والی گول گنڈیاں بیج کے لیے استعمال کی جائیں۔

منظور شدہ قسم

تحقیقاتی ادارہ براۓ سبریات فیصل آباد نے ہلدی کی نئی قسم مہک تیار کی ہے ۔ اس کی پیداوار 100 تا120 من فی ایکڑ تک حاصل کی جاسکتی ہے۔

کھادوں کا استعمال

نوٹ: فاسفورس اور پوٹاش کی ساری مقدار بوائی کے وقت ڈالیں ۔ نائٹروجنی کھاد 3 حصوں میں ڈالیں۔ ایک حصہ بوائی کے 60 دن بعد ، دوسرا حصہ بوائی کے 90 دن بعد اور تیسرا حصہ بوائی کے 120 دن بعد استعمال کر یں ۔

زمین کی زرخیزی مقدار غذائی اجزا کھادوں کا استعمال بوریوں میں فی ایکڑ
اوسط زرخیز زمین کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ 120
50 کلو گرام فاسفورس فی ایکڑ
50 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ
سوا چار بوری یوریا، سوا دو بوری ڈی اے پی اور 2بوری ایس او پی

گروٹیک آپ کے رقبے میں زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ہر کھیت کے اندر مختلف مقدار میں کھادوں کی سفارش کرتی ہے، تا کہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کی جا سکے۔

آبپاشی

فصل کی کاشت کے فوراً بعد آبپاشی کر دیں اور ہر ہفتہ بعد آبپاشی کرتے رہیں لیکن یہ خیال ضرور رکھیں کہ پانی کھیت میں کھڑا نہ رہے ورنہ ہلدی کی گنڈیاں گل جائیں گی ۔کھیت میں کھوری ڈالے جانے کی صورت میں جڑی بوٹیاں کم اگیں گی اور جو اگ آئیں تو ان کو بارشوں کے موسم تک کھیت سے نہ نکالیں بصورت دیگر ایک تو ہلدی کی گنڈیاں ضائع ہوں گی اور دوسرا سطح زمین پر گرمی کا اثر نسبتا زیادہ ہوگا۔ جب بارشیں شروع ہوں تو کھیت سے جڑی بوٹیاں نکال کر فصل کی صفائی کر دیں۔

جڑی بوٹیوں کا انسداد

ہلدی کی فصل میں اگنے والی اہم جڑی بوٹیوں میں ڈیلا،اٹ سٹ، چولائی، قلفہ، مدھانہ، سوائی اور لمب گھاس وغیرہ شامل ہیں ۔ ہلدی کا اگاؤ چونکہ بعد میں ہوتا اور جڑی بوٹیاں پہلے اگ آتی ہیں اس لیے کاشت کے 18 تا21 دن بعد مناسب وتر میں گلائیفو یسٹ بحساب ڈیڑھ لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ مئی جون میں ڈیلا دوبارہ اگ آتا ہے جسے تلف نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہلدی کی فصل کو سخت گرمی اور لُو سے بچاتا ہے۔

برداشت

دسمبر اور شروع جنوری میں ہلدی کے پتے بالکل سوکھ جاتے ہیں اور فصل برداشت کے قابل ہو جاتی ہے۔ برداشت سے پہلے ہلکی آبپاشی کریں اور تین تا چار دن بعد مناسب وتر میں کسی کی مدد سے برداشت کریں ۔زمین زیادہ گیلی نہ ہو ورنہ برداشت صیح نہ ہوگی ، برداشت میں دقت بھی ہوگی ،گنڈیوں پر سے مٹی نہیں اترے گی اور یہ ٹوٹ جائیں گی ۔ 60 تا 70 گرام کی گنڈیاں بیج کے لیے استعمال کریں۔

پتوں کے دھبے (لیف سپاٹ)

  • یہ مٹی سے پھیلنے والی بیماری ہے۔
  • جو جولائی سے اکتوبر تک ہلدی کے پودے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
  • اور برسات کے موسم میں ہوا اور پانی کے ذریعے پھیلتی ہے۔
  • جو پودوں کے ملبے پر زندہ رہتی ہے۔
  • یہ بیماری بنیادی طور پر بیکٹیریا، پھپھوندی اور وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

علامات

  • چھوٹے اور نئے پتوں کی بالائی سطح پر مختلف جسامت کے بھوری رنگت کے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔
  • متاثرہ حصے شکل میں بے قاعدہ ہوتے ہیں اور پتے درمیان سے سرمئی یا سفید رنگ کے ہوجاتے ہیں۔
  • دھبے آپس میں مل کر بعد میں مکمل پتے پر پھیل جاتے ہیں۔
  • مٹی میں نمی کا زیادہ دیر تک قائم رہنا اس بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
  • درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم اور پتوں کا گیلاپن بھی اس بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

مناسب آبپاشی کا خاص خیال رکھیں ۔

ٹرائی فلوکسی سٹروبن ٹیباکونازول 75 فیصد 65 گرام فی 100 لیٹر پانی سپرے کریں۔

لیف بلاچ

  • یہ ہوا سے پھیلنے ہونے والی بیماری ہے جو پودوں کے ملبے پر زندہ رہتی ہے۔
  • ہلدی کے پودے میں اسکومیسیٹوس فنگس ٹیفرینا میکولانز لیف بلاچ کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔
  • پتوں کے دونوں اطراف بھورے دھبے ظاہر ہوتے ہیں جو چھوٹے بیضوی، مستطیل یا بے قاعدہ شکل کے ہوتے ہیں۔
  • دھبے ظاہر ہونے کے بعد جلد ہی گندے پیلے یا بھورے رنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
  • پتوں کا رنگ پیلا ہو جاتا ہے۔
  • یہ فنگس نم اور آلود موسم کے دوران متحرک ہوتی ہے۔
  • یہ بیماری زیادہ تر مون سون کے مہینوں خاص کر اگست اور ستمبر کے مہینوں میں زیادہ پھیلتی ہے۔

ٹرائی فلوکسی سٹروبن ٹیباکونازول 75 فیصد 65 گرام فی 100 لیٹر پانی سپرے کریں۔

جڑ کا گلاؤ

  • پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔
  • نچلے پتے خشک ہوجاتے ہیں اور ان کا رنگ بھورا ہوجاتا ہے۔
  • زمین کی سطح سے اوپر پودے خشک ہونے لگ جاتے ہیں۔
  • مٹی میں نمی کی زیادتی اور درجہ حرارت کا 30 سینٹی گریڈ سے زیادہ ہونا بیماری کے پھیلاؤ میں مدد دیتا ہے۔
  • اور نکاسی آب کا ناقص نظام پانی جمع ہونے کی وجہ سے اس بیماری کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

تھائیوفینیٹ میتھائیل 70 فیصد 1 کلوگرام فی ایکڑ فلڈ کریں۔

تنے کا گڑواں

فیپرونل 80 فیصد 60 گرام یا فیپرونل 5 فیصد 690 ملی لیٹر فی ایکڑ فلڈ کریں۔

پتہ لپیٹ سنڈی

یہ سنڈی پتوں کو اندر کی طرف فولڈ کر کے اس کے اندر رہتی ہے اور فولڈ پتے میں ہی خوراک حاصل کرتی ہے۔

لیمبڈا سائیہلوتھرین 330 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی سپرے کریں۔