السی کا پیداواری منصوبہ!

اہمیت:

السی ایک اہم تیلدار فصل ہے۔ اس کے بیج میں 39 تا 44 فیصد جلد خشک ہونے والا تیل ہوتا ہے ۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے یہ تیل وارنش، پینٹ، چھاپہ خانہ کی سیاہی ،اعلی قسم کے صابن اوراعلی کلر بنانے میں استعمال ہوتا ہے ۔ السی سے روایتی قسم کی سویٹ ( پنیاں) بنانے میں استعمال ہوتی ہے جو سردیوں کے موسم کی ایک پسندیدہ غذا ہے اور اسکی ادویاتی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔

السی کی اقسام:


چاندنی:

السی کی اس قسم کے پھول سفید رنگ کے اور پودے مضبوط ہوتے ہیں اس لئے فصل آندھی وغیرہ کی صورت میں گرنے سے محفوظ رہتی ہے۔ اس کے بیج میں تیل کی مقدار 40 سے 42 فیصد ہوتی ہے۔ یہ قسم کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف خاصی قوت مدافعت رکھتی ہے ۔اس کی پیداواری صلاحیت 15 سے 20 من فی ایکڑ ہے ۔عمومی پیداوار 8 تا 10 من فی ایکڑ حاصل ہوتی ہے.

روشنی:

یہ قسم 2018 میں کاشت کے لیے منظور ہوئی ۔ اس قسم میں بھی بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت موجود ہے اور یہ گرنے کے خلاف بھی اچھی قوت مدافعت رکھتی ہے ۔ اس کی پیداواری صلاحیت 28 من فی ایکڑ تک ہے ۔

شرح بیج اور وقت کاشت:


طریقہ کاشت:

  • السی کی کاشت کیلئے درمیانی میرا زمین بہتر رہتی ہے ۔ زمین کی تیاری کے لئے دو تا تین مرتبہ ہل اور سہا گہ چلائیں اور ہموار زمین کاخاص خیال رکھیں ۔
  • السی بذریعہ ڈرل کاشت کریں اور قطاروں کا باہمی فاصلہ فٹ رکھیں۔

کھادوں کا استعمال:

زمین کی زرخیزی مقدار غذائی اجزا کھادوں کا استعمال بوریوں میں فی ایکٹر
اوسط زرخیز زمین 23 23 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ
کلو گرام فاسفورس فی ایکٹر 23
12 کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ
ایک بوری ڈی اے پی + دو تہائی بوری یوریا + آدھی بوری ایس اوپی/ایم او پی یا ایک بوری ڈی ایس پی + ایک بوری یوریا + آدھی بوری ایس او پی / ایم اولی

گروٹیک آپ کے رقبے میں زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ہر کھیت کے اندر مختلف مقدار میں کھادوں کی سفارش کرتی ہے، تا کہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کی جا سکے۔

السی کی بیماریاں اور انکا انسداد :


اکھیڑا یا مرجھاؤ:

بیماری سے متاثرہ پودے کی ابتدائی طور پر جڑیں گلنا شروع ہوتی ہیں اور آہستہ آہستہ پودے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور آخر کار پودا خشک ہوکر مر جاتا ہے،متاثرہ پودے کو اکھاڑا جائے تو جڑ کا چھلکا پھٹا ہوا نظر آتا ہے۔
انسداد: بیج کو پھپھوند کش زہر تھائیو فینیٹ میتھائل بحساب 2.5 گرام فی کلو گرام بیج لگا کر کاشت کریں۔یا تھائیو فینیٹ میتھائل 1 کلوگرام فی ایکڑ حملہ نطر آتے ہی فلڈ کریں۔

پودوں کا جھلساؤ یا بلائٹ :

یہ بیماری بیج سے پھیلتی ہے،ابتدائی طور پر ننھے پودوں پر ظاہر ہوتی ہےجس سے پودے کا تنا سوکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ متاثرہ پودے کے پتوں پر چھوٹے چھوٹے بھورے رنگ کے ہم مرکز دھبے بن جاتے ہیں جو بعد میں سیاہی مائل ہو جاتے ہیں۔
انسداد: بیج کو پھپھوند کش زہر تھائیو فینیٹ میتھائل بحساب 2.5 گرام فی کلو گرام بیج لگا کر کاشت کریں۔ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ٹیبا کونازول +ٹرائی فلوکسی سٹروبن 65گرام فی100 لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔

السی کی کنگی :

یہ بیماری ہوا کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے۔ بیماری کی علامات پودے کے پتوں اور تنے پر چھوٹے چھوٹے دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ دھبوں کا رنگ چمکدار اور سنگترے کے جیسا ہوتا ہے، بیماری کا حملہ بڑھنے پر ان دھبوں کی رنگت سیاہ ہو جاتی ہے۔ شدید حملےکی صورت میں پودے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
انسداد: بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ٹیبا کونازول +ٹرائی فلوکسی سٹروبن 65گرام فی100 لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں یا پروپی کونا زول 200 ملی لیٹر فی 100لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔




السی کے نقصان دہ کیڑے اور ان کا تدارک :


دیمک:

دیمک کا حملہ زیادہ تر خشک موسم میں پودے کے زیر زمین حصوں پر ہوتا ہے۔ حملہ شدہ پودے سوکھ جاتے ہیں اور کھینچنے پر آسانی سے اکھاڑے جا سکتے ہیں۔
تدارک: فیپرونل 5 فیصد 960 ملی لیٹر یا فیپرونل 80 فیصد 60 گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔





ٹوکا:

اس کیڑے کے بالغ اوربچے دونوں تیل دار اجناس کے اگتے ہوئے پودوں کو کھا کر تباہ کر دیتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں فصل دوبارہ کاشت کرنی پڑتی ہے۔
تدارک:لیمبڈا سائہیہلوتھرین 2.5 فیصد 250-330 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔







دھبے دار بگ :

بالغ اور بچے دونوں ہی پتوں، پھلیوں اور شگوفوں سے رس چوستے ہیں۔ جس کی وجہ سے پتے پیلے ہو کر خشک ہو جاتے ہیں۔
تدارک: کلوتھیانیڈن 200 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔




جڑی بوٹیوں کا انسداد :

جڑی بوٹیوں کے انسداد کے لئے گوڈی کریں۔ پہلی گوڈی پہلے پانی سے پہلے اور دوسری بعد میں کریں۔

آبپاشی

السی کی فصل کو 3 سے پانی خصوصاً پھول نکلنے سے پہلے، پھول نکلنے کے بعد اور ڈوڈیاں بننے پر دیں۔

کٹائی

مقررہ وقت پر کاشت کی گئی فصل آخر اپریل میں یا شروع مئی میں پک کر تیار ہو جاتی ہے لہذا بر وقت برداشت ضروری ہے۔